( ملفوظ 320 ) مقصود تک رسائی کے لیے ذکر و شغل کافی نہیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مقصود تک رسائی صرف ذکر و شغل سے تھوڑا ہی ہو سکتی ہے بلکہ عمل صحیح اور فہم سلیم پر موقوف ہے اور ان میں بھی بڑی چیز کے سبب حقیقت طریق کی بہت کم لوگ جانتے ہیں حلانکہ طریق میں قدم رکھنے سے تصوف کی حقیقت سمجھنا چاہیے کہ ہے کیا اکثر لوگ آج کل وظائف کو تو طریق اور کیفیات کو مقصود سمجھتے ہیں سو یہی غلط ہے ۔ یہ اس طریق کی قدر کی جاتی ہے جہل سے بھی اللہ بچائے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اعمال تو طریق ہے اور ضیاء حق مقصود ہے اور یہ سب ضروری علم صحبت شیخ سے حاصل ہو سکتا ہے ۔ چنانچہ یہاں تعلق رکھنے والوں کیلئے تجربہ ہے ۔ معلوم ہوا کہ چند روز یہاں پر آ کر رہیں پھر مناسبت پیدا ہو جانے کے بعد تعلیم کا سلسلہ شروع کریں ۔ ایک صاحب سے جن کو مناسبت نہ ہوئی تھی میں نے کہا تھا کہ آپ میں کبر کا مرض ہے مجھ پر اعتماد نہیں کیا پانچ برس کے بعد خود اقرار کیا کہ واقعی آپ کی تشخیص صحیح تھی ، مجھ میں کبر کا مرض ہے میں نے کہا جا بندہ خدایا زمانہ یوں ہی برباد کیا ۔ اب تک تو کیا سے کیا ہو جاتا ، پانچ برس کی بڑی مدت ہوتی ہے ۔ کبر کے متعلق ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ کبر کا ایک سبب تھوڑا ہی ہے ، کبھی مال کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے کبھی جاہ کی وجہ سے کبھی حسن و جمال کی وجہ سے کبھی شجاعت کی وجہ سے اس کی تشخیص کرنا کامل ہی کا کام ہے اس لیے کہ ہر ایک کا علاج جدا ہے اور اس علاج میں نہ ہاتھ میں ہاتھ رکھنے کی ضرورت جس کا نام بیعت ہے نہ پاؤں پر پاؤں رکھنے کی ہاں یہ ضرور ہے کہ جو شیخ کہہ دے اس کی اطاعت کرے ، بس کافی ہے اور یہی حقیقت ہے بیعت کی مگر عوام الناس نہیں سمجھتے اور نہ سمجھنے کا سبب یہ ہے کہ ہر شخص خود محقق بننا چاہتا ہے تقلید سے عار آتی ہے پھر کام کیسے بنے ۔

( ملفوظ 319 ) شیخ کو صاحب حال نہیں صاحب مقام ہونا چاہیے

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ شیخ کو صاحب حال ہونا نافع نہیں اس میں احتمال حدود سے تجاوز کا ہے جس سے مریدین میں گڑبڑ ہو جانے کا اندیشہ ہے ۔ اس کو صاحب مقام ہونا چاہیے ۔

( ملفوظ 318 )دوسرے کو تکلیف سے بچانا حقیقی ادب ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میرے نزدیک ادب کی حقیقت یہ ہے کہ دوسروں کو جس چیز سے تکلیف ہو اس سے اجتناب کرنا چاہیے یہی ادب ہے ، صرف تعظیم کا نام ادب نہیں ، اس میں بڑوں کی بھی تخصیص نہیں ، چھوٹوں کا ادب بھی یہی ہے کہ ان کو تکلیف نہ پہنچائی جائے ۔ گو وہ فعل تکلیف کے لیے موضوع نہ ہو ۔ ایک پیر صاحب کی حکایت ہے کہ مرید اپنی جوتیاں ڈھونڈ رہا تھا ، پیر نے اٹھا کر دے دیں ، سو یہ فعل گو موضوع نہیں تکلیف دینے کے لیے مگر تاہم یہ بڑا ہی ظلم تھا ، بے چارے مرید پر کہ اس کو تکلیف پہنچائی بڑی چیز علم صحیح اور عمل خالص ہے اس کے مقابلہ میں کہ ان کی کرامت کہاں کا کشف اور اگر کرامت ہی مطلوب ہے تو آفاقی کرامت کی ضرورت نہیں انفسی کرامت چاہیے ۔

( ملفوظ 317 ) ایک طالب علم کے خط پر مواخذہ

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک طالب علم کا خط آیا تھا ، لکھا تھا توجہات مربیانہ سے سرفراز فرماتے رہیں اور بھی بعض باتیں زائد اور غیر متعلق اور مبہم لکھی تھیں ، میں نے اس پر متنبہ کیا کل معذرت کا خط آیا ہے ، لکھا ہے کہ بدفہمی اور لاعلمی سے لغزش ہو گئی ، آئندہ ایسا نہیں کروں گا ، معافی چاہتا ہوں ، میں نے لکھ دیا کہ ایک بات متعین کر کے لکھو کہ بدفہمی سبب سے یا لاعلمی یہ گڈمڈ کیسی وہی فضول کا مرض اب بھی رہا یہ دونوں جمع نہیں ہوتے ، دیکھئے کیا جواب آتا ہے ۔ طریق اصلاح بڑا ہی نازک ہے ، ہر شخص مصلح نہیں ہو سکتا ۔ جیسے ہر شخص طبیب نہیں ہو سکتا ۔

( ملفوظ 316 )تعویذات کے بارے میں عوام کا غلو

ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ذہن کے لیے ایک تعویذ کی ضرورت ہے ۔ فرمایا کہ ذہن کا تعویذ نہیں ہوتا ذہن فطری چیز ہے البتہ قوت حافظہ قوت دماغ پر موقوف ہے اس میں اگر کمی ہو تو اس کا علاج طبیب کر سکتا ہے پھر ان تعویذوں کے بارے میں فرمایا کہ بعض مرتبہ لوگوں کے عقیدہ میں غلو ہوتا ہے کہ ضرور نفع ہو گا نہ ہوا تو اسماء الہیہ سے غیر معتقد ہو جاتے ہیں حلانکہ یہ جو تعویذ پر آثار مرتب ہوتے ہیں منصوص نہیں اور نہ ان کا کہیں وعدہ ہے ۔ یہ سب گڑبڑ جاہل عاملوں کی بدولت پیدا ہو رہی ہے اس سے عوام کے عقائد تو اس بارے میں نہایت ہی خراب ہیں جن کی اصلاح کی سخت ضرورت ہے ۔

( ملفوظ 315 )محبت حق کی لذت اور اس کے حصول کا طریقہ

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مصائب اور تکالیف میں بھی انسان کو گھبرانا نہیں چاہیے حق تعالی جو معاملہ بھی اپنے بندوں کے ساتھ فرماتے ہیں وہ حکمت اور رحمت سے خالی نہیں ہوتا اور اہل محبت کی ہر چیز محبوب معلوم ہوتی ہے ۔ کسی نے کہا ہے :
ان کو آتا ہے پیار پر غصہ ہم کو غصہ پر پیار آتا ہے
اس محبوبیت کی بالکل ایسی مثال ہے کہ کسی کا محبوب جس کی برسوں سے ملنے کی تمنا اور آرزو تھی اس نے پشت کی جانب سے آ کر دبا لیا اور ایسا دبایا کہ پسلیاں ٹوٹنے لگیں ، آنکھیں نکل آئیں اور سخت تکلیف ہوئی مگر منہ پھیر کر جو دیکھتا ہے تو وہ محبوب ہے جس کی وجہ سے برسوں جنگلوں اور گلیوں کی خاک چھانی ، اس حالت میں وہ محبوب کہتا ہے اگر میرا تجھ کو آغوش میں لے کر دبانا ناگوار ہے تو اپنے دوسرے عاشق کو اسی طرح آغوش میں لے جا ، دباؤں تو اس وقت یہ محب صادق یہی کہے گا :
نہ شود نصیب دشمن کہ شود ہلاک تیغت سر دوستاں سلامت کہ تو خنجر آزمائی
جب نفسانی محبت کی یہ حالت ہے کہ اس کی دی ہوئی تکلیف تکلیف نہیں معلوم ہوتی تو حق تعالی کی محبت کی کیا حالت ہو گی ۔ خوب فرماتے ہیں :
عشق مولے کے کم از لیلے بود کوئے گشتن بہرا و اولے بود
حضرت محبت ہی وہ چیز ہے کہ بڑی سے بڑی تکلیف کو مبدل بہ راحت کر دیتی ہے اور سوائے محبوب سب کو فنا کر دیتی ہے ۔ خوب فرمایا ہے :
عشق آں شعلہ است کوچوں بر فروخت ہر چہ جز معشوق باقی جملہ سوخت
اور محبت کے پیدا کرنے کا طریق سب سے سہل اور آسان یہ ہے کہ اہل محبت کاملین کی محبت اختیار کرو ، اس کی جوتیاں سیدھی کرو اور سیدھی کرنے سے بھی کچھ نہیں ہوتا بلکہ اس کی جوتیاں کھاؤ گو وہ جوتیاں مارے گا نہیں مگر تم کو اس کے لیے تیار ہو کر جانا چاہیے اور اپنے کو دروبست اس کے سپرد کر دینا چاہیے ۔ اسی کو مولانا فرماتے ہیں :
قال را بگذار مرد حال شو پیش مرد کاملے پامال شو
اس کے بدون کام نہیں چل سکتا ۔ یہی اس طریق میں جزو اعظم ہے ، یہی کام بنانے والی چیز ہے ۔ خوب کہا ہے :
فہم و خاطر تیز کردن نیست راہ جز شکستہ می نگیرد فضل شاہ
خلاصہ یہ ہے کہ اس کی صحبت سے شکستگی اور خستگی پیدا ہو گی جو اس راہ میں قدم ہے پھر پستی اور شکستگی کا یہ اثر ہو گا ۔
ہر کجا پستی است آب آنجارود ہر کجا مشکل جواب آنجارود
ہر کجا دردے دوا آنجارود ہر کجا رنجے شفا آنجارود
ذیقعدہ 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم پنج شنبہ

( ملفوظ 314 )عذاب میں بھی وسعت رحمت

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حق تعالی جس کو عذاب دیں گے وہ بھی ایک درجہ کی معافی ہے ۔ مسند احمد میں ایک حدیث ہے حق تعالی فرماتے ہیں جہنم میں وہی جائے گا جس کے متعلق میرا یہ علم ہے کہ اگر اس کو دوبارہ دنیا میں بھیج دوں تو پھر بھی وہ ایسا ہی کرے گا ۔ ایک مقدمہ تو یہ ہوا اور دوسرا مقدمہ کلیات سے ثابت ہے کہ بعد معائنہ عذاب کے پھر جو نافرمانی کرنے لگے وہ پہلے سے زیادہ مستحق ہو گا عذاب کا تو اللہ تعالی نے ان اہل جہنم کو اس زائد سے بچا لیا تو ایک قسم کی معافی ہی ہوئی تو حضرت ایسے بد استعداد لوگوں کو جہنم میں بھیجا جائے گا ورنہ کسی کو جہنم میں نہ بھیجیں گے یعنی عذاب ابدی تو حقیقت میں تزکیہ ہے

( ملفوظ 313 )محبت خداوندی کیلئے عجیب مراقبہ

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ یہ مراقبہ نہایت نافع ہے کہ خدا تعالی ہمیں چاہتے ہیں اس سے محبت خوف پر غالب آ جائے گی اس لیے کہ اکثر حالات میں محبت عقلی ہے اور خوف طبعی اور آثار طبعی ہی کے غالب ہوتے ہیں ۔ احکام عقل پر مثلا اونچی دیوار پر چلنے کے لیے طبیعت اور عقل کا مناظرہ ہوتا ہے تو طبیعت غالب رہتی ہے جو بلا دلیل کہتی ہے کہ گر جائے گا اس لیے چل نہیں سکتا مگر اس مراقبہ سے محبت طبعی ہو جائے گی اور خوف عقلی ۔

( ملفوظ 312 )صحابہ کرام کا ایمان

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ صحابہ کے ایمان کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ حضرت حذیفہ اپنے دارالحکومت میں تشریف رکھتے ہیں ، بڑے بڑے رئیس اہل فارس دربار میں حاضر ہیں ، کھانے کا وقت آ گیا ، کھانا شروع فرمایا ۔ ایک لقمہ ہاتھ سے زمین پر گر گیا ، آپ نے اس کو اٹھا کر اور صاف کر کے کھا لیا ، بعض خادموں نے کان میں کہا کہ یہ متکبر کفار ایسی بات کو تحقیر کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ آپ نے بآواز بلند جواب دیا کہ کیا میں ان احمقوں کی وجہ سے اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت چھوڑ دوں گا کیونکہ حدیث میں ہے کہ اگر زمین پر کھانے کی کوئی چیز گر جائے اس کو اٹھا کر کھا لینا سنت ہے جس کو آج کل معیوب سمجھا جاتا ہے ۔ سبحان اللہ صحابہ نے عشق اور حکومت کو جمع کر کے دکھلا دیا ۔

( ملفوظ 311 ) تحریکات میں مدنی بنو یا مکی رہو

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ تحریکات حاضرہ میں بڑا ہی ہڑبونگ لوگوں نے مچایا ، باوجود اس کے کہ باب فتن حدیث شریف میں موجود ہے اور تمام احکام بالتصریح مذکور ہیں اور دونوں نمونے حضور پر گزرے ہیں پھر زیادہ کلام کی گنجائش کہاں ہے بس یہ دیکھنا کافی ہو کہ اگر مظالم سے بچنے پر قادر نہیں ہو اپنے کو مکی سمجھو اور صبر کرو اور اگر قادر ہو مدنی سمجھو اور قدرت سے کام لو ۔ مگر اب تو یہ ہو رہا ہے کہ یا تو مکی کی جگہ مکھی اور ذلیل بنیں گے اور یا مدنی کی جگہ بدنی اور پہلوان بنیں گے اور خطرات میں پھنسیں گے ۔ شارع نے ہر چیز کا انتظام کیا ہے اسی کو سمجھ کر فقہاء نے یہاں تک کیا ہے کہ سردی اور گرمی میں استنجے کے ڈھیلے لینے تک کا طریقہ بتلایا ہے ۔ حقیقت میں امت پر بے حد شفقت کی ہے اور حضرت باپ اگر اپنے بچے کو نہ سکھلاوے تو اور کون سکھاوے ، بہت امور بدون تعلیم محض طبعی طور پر معلوم نہیں ہو سکتے تھے مثلا پیشاب ، پاخانہ کے وقت قبلہ کی طرف منہ نہ کرو ، کس چیز سے استنجا کرو آبدست کس طرح لو یہ چیزیں تو سکھلانے ہی کی تھیں ۔