ملفوظ 370 ) عقل کی مثال

(ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ عقل ایسی ضعیف چیز ہے کہ وہم کا تو مقابلہ کر ہی نہیں سکتی نہ کہ حق تعالی کے احکام کا مقابلہ کرے ۔ مثل دوسرے مدرکات کے عقل کے احکام بھی ایک حد خاص تک ہیں آگے وحی کی ضرورت ہے اس کی ایسی مثال ہے کہ کسی پہاڑ پر چڑھنا ہے تو گھوڑا دامن کوہ تک جا سکتا ہے اور آگے خود طے کرنا پڑتا ہے اسی طرح بے چاری عقل کا پہاڑ کے اوپر گزر نہیں ۔ یہ حقیقت ہے اس کی جس پر اتنا بڑا ناز ہے ۔

( ملفوظ 369 ) معاصی کے ساتھ نسبت شیطانی

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ہمارے حضور حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ بعضۓ اس پر فخر کرتے ہیں کہ معاصی سے بھی ہماری نسبت سلب نہیں ہوتی ۔ فرمایا کہ نسبت کیا ہوئی ، بی بی تمیزہ کا وضو ہو گیا ، لوہا لاٹ کہ سب کچھ کیا اور وضو باقی رہا اور ایسی نسبت کے متعلق بجز اس کے کیا کہا جا سکتا ہے کہ وہ شیطانی نسبت تھی ۔

( ملفوظ 367 ) اس زمانہ میں ایمان کے لالے پڑ رہے ہیں

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ آج کل اس قسم کے خطوط بصورت دھمکی کے اکثر آتے ہیں کہ یا تو افلاس کا علاج یا تدبیر بتلاؤ ورنہ تبدیل مذہب کی نوبت آ جائے گی ۔ میں ایسے موقع پر نہ سختی کرتا ہوں اس لیے کہ اس سے اشتغال ہو گا اور اشتغال میں زیادہ اندیشہ ہوتا ہے اور نہ نرمی کرتا ہوں اس سے چاپلوسی کی سی صورت معلوم ہوتی ہے یہ بھی مضر ہے ۔ بس یہ اکثر لکھ دیتا ہوں کہ اس قدر تکلیف پہنچی ہے کہ جواب دینے کی ہمت نہیں ، تجربہ سے یہ جواب بہت ہی مفید ثابت ہوا ۔ اکثر جواب میں ندامت اور توبہ ہی لکھی ہوئی آتی ہے یہ وہ زمانہ ہے کہ ایمان ہی کے لالے پڑے ہوئے ہیں کہ افلاس کے سبب اسلام چھوڑنے کو تیار ہو جاتے ہیں ۔ اسی لیے میں کہا کرتا ہوں کہ اس زمانہ میں پیسہ کی قدر کرنی چاہیے اور فضول اخراجات سے مسلمانوں کو اجتناب کی سخت ضرورت ہے ۔ آج کل فضول خرچ کرنے والے کو سخی سے تعبیر کرتے ہیں جو غلط ہے وہ شخص مسرف ہے جو بے موقع اور بے محل خدا کی عطاء کی ہوئی نعمت کو صرف کرتا ہے اور یہ معصیت کی ایک فرد ہے ۔

( ملفوظ 368 )یکسوئی کو نسبت مع اللہ سمجھنا

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک صاحب جو بظاہر لکھے پڑھے بھی معلوم ہوتے تھے کہنے لگے کہ تمہاری تصانیف دیکھ کر حقیقت کا انکشاف ہوا ، بڑی زبردست غلطیوں میں ابتلاء تھا ، یکسوئی اور کیفیت پیدا ہونے کو نسبت مع اللہ سمجھتا تھا ۔ بات یہ ہے کہ بدون رہبر کامل کے اس طریق میں قدم رکھنا خطرہ سے خالی نہیں اس راہ میں یہ بڑی ضروری چیز ہے کہ استفادہ کے لیے مصلح کی تقلید کرے ۔ میری ان تمام تر سعی اور کوششوں و تدابیر سے غرض یہی ہے اور یہی چاہتا ہوں کہ سب کام کے ہو جائیں اجی نام کے تو سب ہیں ہی اور اگر کسی اور کے کام کے نہ ہوں تو اپنے ہی کام کے ہو جائیں اور یوں ہی بھرتی بھر دی ، کیا مطلب کوئی فوج تھوڑا ہی جمع کرنا ہے اور اگر کسی کو فوج بھی مقصود ہو تو فوج بھی وہی ہے جو کارآمد ہو بے کار تو فوج بھی کارآمد نہیں ۔ یہ تو ایسی بات ہے جیسے آج کل سنا ہے بعض مدارس میں حدیث کا دورہ ہوتا ہے ۔ ایک پارہ نو ماہ میں اور انتیس پارے ایک ماہ میں ایسی صورت مدارس میں ظاہر ہے کہ کیا خاک کام ہو گا سوائے نام کے اور طلبہ کیا سمجھتے ہیں سوائے اس کے کہ تعداد گنوا دی جائے کہ امسال اس قدر فارغ ہوئے تو کیا تعداد مقصود ہے جب کام ہی نہ ہو اور جب یہ حالت ہے تو ایسی باتوں پر روک ٹوک کرنے والے سے کون خوش ہو سکتا ہے ، خیر سے ہوں ناراض جوتی سے وہ کتمان حق کر کے اپنی گردن پر کوئی بوجھ تھوڑا ہی رکھ سکتا ہے ۔

( ملفوظ 365 ) پردہ کی ضرورت فطری امر ہے

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ پردہ کی ضرورت چونکہ امر فطری ہے اس لیے اگر اس میں نص بھی نہ ہوتی تو ضرر نہ تھا جیسے پیشاب پینے کا قبح امر فطری ہے اگر اس میں کوئی نص بھی نہ ہوتی مضر نہ تھا ۔ پس اگر خصم اس کا قائل ہو جائے کہ پیشاب پینا اور بے پردگی ایک ہی درجہ میں ہیں تب بھی ہمارا مدعا ثابت ہو گیا ۔
18 ذیقعدہ 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یک شنبہ

( ملفوظ 366 ) لوگوں کی بدفہمی کی حد نہیں رہی

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بعض لوگوں کی بدفہمی کی بھی کوئی حد نہیں یہ کہ ایک شخص ہے ( یہ شخص بے اجازت آ گیا تھا ) اس نے کئی سال سے اذیتیں پہنچانے پر کمر باندھ رکھی ہے مجھ کو اس شخص کی صورت دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے گو اس وقت جو تازہ تکلیف دی ہے وہ کوئی بڑی تکلیف نہیں اور ایک تکلیف تو ایسی پہنچائی ہے کہ اگر یہ بھی سو برس زندہ رہے اور میں بھی تو اس کا اثر نہیں جا سکتا ۔ وہ یہ ہے کہ اس شخص نے مجھ کو لکھا تھا کہ میری حالت افلاس کی ہے اگر کوئی صورت افلاس سے خلاصی کی نہ ہوئی تو میں عیسائی ہو جاؤں گا ، میں ہر چند چاہتا ہوں کہ اس سے قلب میں ذہول ہو جائے مگر نہیں ہوتا کیا کروں ، وہ یاد آ کر قلب میں کانٹا سا چھبتا ہے مجھ کو تو لوگ بدنام کرتے ہیں اس کو کوئی نہیں دیکھتا کہ نالائق موذی لوگ کیا کرتے ہیں اگر یہ شخص آنے کے وقت بذریعہ خط مجھ سے اجازت لے لیتا تو میں اجازت دے دیتا مگر کچھ شرائط کے ساتھ خدانخواستہ میں کوئی جلاد نہیں ہوں ، قصائی نہیں ہوں مگر بدون اجازت آ دھمکے نہ کوئی اصول نہ کوئی قاعدہ سو یہ خودرائی اور حکومت اور آزادی کی صورت مجھ کو گوارا نہیں اب آپ ہی انصاف کیجئے کہ اگر یہ واقعہ کسی کو نہ معلوم ہو جو میں نے اس شخص کا بیان کیا اور محض میرا اس وقت کا برتاؤ دیکھئے تو آخر کیا کہے گا کہ بڑا ہی ظلم کیا بے چارے پر اور اس کے ظلم کوئی بھی نہ سنتا ۔ میں سچ عرض کرتا ہوں کہ جو جس کے ساتھ میں برتاؤ کرتا ہوں اس میں میری کوئی مصلحت نہیں ہوتی بلکہ اسی کی مصلحت ہوتی ہے اور اس کی بھی کیا اس کے دین کی مصلحت ہوتی ہے ۔ خوب اچھی طرح پر کان کھول کر سن لینا چاہیے کہ طریق میں جس کا بھی داخل ہونے کا ارادہ ہو اس کو چاہیے کہ وہ تابع بن کر داخل ہو جو اس کی حالت کے مناسب ہو گا اس کے ساتھ وہی برتاؤ کیا جائے گا ذرا برابر رعایت نہ ہو گی اور ذرا سی بات پر بھی درگزر نہ کیا جائے گا ۔ ایسا تسامح کرنے کو میں خیانت سمجھتا ہوں ۔ ہاں اگر طریق میں داخل نہ ہوں تو پھر میں پاخانہ اٹھانے کو تیار ہوں مگر طریق میں داخل ہونے کی نیت سے آ کر دق کرنا یہ کونسا طریق ہے اور یہ طریق کا کون سا ادب ہے اگر میری خدمت تربیت کے لیے پسند نہیں دوسری جگہ جاؤ اور جب یہ چاہتے ہو کہ ہماری خدمت کی جائے تو تابع بن کر آؤ یہ کونسا انصاف ہے کہ مصلح کا کیا اتنا بھی حق نہیں کہ وہ تم کو روک ٹوک کر سکے ۔ عجیب فلسفہ ہے جس میں اس کو مقید بھی کریں یہ تو کھلی بے انصافی ہے ۔ ایک بی بی تین مرتبہ آ چکی ہیں اور تینوں دفعہ محروم گئیں ۔ سمجھتی ہوں گی کہ اس سے زیادہ کوئی سخت نہیں اور آج سلیقہ سے آنا ہوا سب دفعہ کی کلفت جاتی رہی ۔ اب کہتی ہوں گی کہ اس سے زیادہ کوئی نرم نہیں حلانکہ میں سخت ہوں نہ نرم میں تو اصول کے ماتحت کام کرتا ہوں یہی دوسروں سے چاہتا ہوں باقی کسی کا اصول اور سلیقہ سے کام کرنے کا قصد نہ ہو اس کی تو فصد ہی لیجائے گی یہی ناگوار ہوتا ہے کیونکہ مذاق وہ ہو رہا ہے جیسا حضرت مولانا گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ کسی گرو کے پاس ایک شخص گیا کہ چیلا بنا لو ، گرو نے کہا چیلا بننا بڑا مشکل ہے تو کہتا ہے کہ گرو ہی بنا لو ، یہ لوگ گرو بننے آتے ہیں سو میں بھی گرو بنا کر بھیجتا ہوں ، میرے یہاں ان سب شرائط اور صورتوں کا مشترک مقصد حصول مناسبت ہے ان سب تدابیر سے مناسبت پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور اسی سے اذیت ہوتی ہے کہ یہ اپنے منصب کے خلاف کر رہا ہے ، محروم رہے گا ۔

(ملفوظ 363 )بڑا بننے کا مرض عام ہو گیا ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل کیا ٹھکانا ہے ترفع کا عموما چھوٹی چھوٹی قومیں اپنے حسب و نسب ہی کو چھپانا چاہتی ہیں اور بڑے خاندانوں میں داخل ہونا چاہتے ہیں مگر شرعا یہ بڑا گناہ ہے پھر علاوہ گناہ کے ان چیزوں میں کیا رکھا ہے کام کی باتیں کرنا چاہیے یعنی وہ کام کرو جس سے ذلت گلوگیر نہ ہو پھر خود بخود معزز ہو جاؤ گے قوم کو کوئی دیکھے گا بھی نہیں ۔ اصل عزت افعال کی ہے نہ کہ قوم کی اب شرفاء ہی کو دیکھ لیا جائے جو جیسے عمل کر رہا ہے ویسا ہی اس کے ساتھ لوگ برتاؤ کرتے ہیں باقی بعض لوگوں کا یہ خیال کہ شرفاء ہم کو نظر تحقیر سے دیکھتے ہیں یہ بالکل غلط ہے اخلاق و افعال میں جو جس درجہ کا ہوتا ہے اس کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کیا جاتا ہے اور یہ ایسی بات ہے جو شرفاء کے لیے بھی عام ہے اگر وہ ذلیل کام کرتے ہیں ان کو بھی ذلیل سمجھا جاتا ہے پھر غیر اختیاری چیز پر کسی کو کیا حق ہے کہ دوسرے کو حقیر سمجھے ، اس کی بالکل ایسی مثال ہے کہ اگر کسی کی دونوں آنکھیں ہوں تو شکر تو واجب ہے مگر اندھوں کو حقیر سمجھنا تو جائز نہیں ہے ۔

( ملفوظ 364 ) بیوی کو اپنے خاوند کیلئے تعویذ کرانے میں تفصیل

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ فقہاء نے لکھا ہے کہ بیوی اگر خاوند کے لیے محبت کا تعویذ کروا لے تو حرام ہے یہ ایک جزئی ہے جو ظاہرا مطلق ہے مگر واقع میں یہ تفصیل کی محتاج ہے ۔ وہ تفصیل یہ ہے کہ جو حقوق خاوند کے ذمہ واجب ہیں ان کے لیے تو حب کا تعویذ وغیرہ جائز ہے اور جو حقوق شرعا اس پر واجب نہیں محض تبرع ہیں اس میں ایسی تدبیرات سے اس کی رائے اور آزادی کو سلب کرنا یہ حرام ہے کیونکہ تبرع میں جبر حرام ہے اور واجب میں جائز ہے اسی طرح جس چیز پر حسا جبر جائز ہے وہاں جبری سفارش بھی جائز ہے اور جہاں حسا جبر جائز نہیں وہاں پر زور سفارش بھی جائز نہیں ۔ حاصل یہ ہے کہ حقوق غیر واجبہ میں رائے کی آزادی سلب نہ ہونا چاہیے مضطر نہ کرنا چاہیے ۔ امیر آدمیوں کو اکثر لوگ ان تعویذات وغیرہ سے مسخر کرتے ہیں سو اگر ایسا مسخر ہو جائے کہ مضطر و مغلوب ہو جائے یہ قطعا حرام ہے ، عوام کے نزدیک یہ چیزیں آج کل کمالات میں شمار ہوتی ہیں حالانکہ اس کی ایک فرد یعنی جس میں دوسرا مغلوب ہو جائے معصیت بھی ہے ۔

( ملفوظ 361 )حد سے تجاوز تقوی میں بھی برا ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حد سے تجاوز کرنا کسی چیز میں بھی پسندیدہ نہیں حتی کہ تقوی میں بھی اسی واسطے ایک مولوی صاحب جو نہایت متقی تھے وہ کہتے تھے کہ میں ڈرتا ہوں کہیں اس پر مواخذہ نہ ہو کہ تو اتنا متقی کیوں تھا ان کی مراد یہی غلو ہے ۔ حقیقت میں صوفیاء اور فقہاء حکماء امت ہیں ۔ یہ تو ایک صوفی کا قول تھا باقی فقہاء نے لکھا ہے کہ زہد بارد قابل تعزیر ہے اس کی مثال لکھی ہے کہ کوئی شخص گیہوں کا ایک دانہ اٹھا کر دکھاتا پھرے کہ اس کا کون مالک ہے تو اس کو مستحق تعزیر فرمایا ہے کیونکہ شریعت نے اس کو متقوم نہیں فرمایا اور یہ اس کو لقطہ بنا کر متقوم میں داخل کرتا ہے اس کو زہد خشک اور زاہد بارد کہتے ہیں اور درحقیقت اس میں اظہار ہے اپنے ورع اور تدین کا ۔
17 ذیقعدہ 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم شنبہ

( ملفوظ 362 ) ہمارے اکابر اور اہل بدعات

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ہمارے اکابر اہل بدعت کی مذمت میں بھی غلو نہیں فرماتے کیونکہ یہ اہل بدعت اگر اپنے علماء کے کہنے سے غلطی اور دھوکہ میں ہیں تو معذور ہیں ۔ اللہ تعالی معاف فرما دیں گے اور اگر قصدا ایسا کرتے ہیں تو مواخذہ فرمائیں گے ہم کیوں اپنی زبان گندی کریں اس لیے اپنے بزرگوں کو کچھ زیادہ کہتے ہوئے یا لکھتے ہوئے نہیں دیکھا ، پھر فرمایا کہ میں تو کہا کرتا ہوں اگر میرے پاس دس ہزار روپیہ ہو سب کی تنخواہ کر دوں پھر دیکھو خود ہی سب وہابی بن جاویں ۔ اہل باطن کے پاس روپیہ وافر ہے اس کے لالچ میں ان کی خواہشوں کی موافقت کرتے ہیں ۔ اہل حق بیچاروں کے پاس روپیہ کہاں مگر اس پر بھی ان کو شب و روز ” ان تعدوا نعمۃ اللہ لا تحصوھا ” کا مشاہد ہوتا ہے ۔