( ملفوظ 230 )ذکر کی برکات کیلئے منکرات سے اجتناب ضروری ہے

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ ذکر بڑی برکت کی چیز ہے مگر اس کی برکت وہیں تک ہے کہ منکرات سے اجتناب رہے ۔ اگر ایک شخص فرض نماز نہ پڑھے اور نفلیں پڑھے تو ثواب تو ہو گا مگر فرض نہ پڑھنے کا جو گناہ ہے وہ ضعیف کر دے گا ، کوئی نفع ان نفلوں سے ظاہر نہ ہو گا ، یعنی یہ کہ اس سے آئندہ اعمال میں قوت نہ ہو گی ۔

( ملفوظ 229 )طریق کی وضاحت

( ملقب بہ الانضباط سواء الصراط ) ایک صاحب نووارد آئے حضرت والا سے مصافحہ کر کے بیٹھ گئے ، حضرت نے دریافت فرمایا کہ کچھ کہنا ہے عرض کیا کہ کہنا نہیں محض زیارت کے لیے آیا ہوں ، فرمایا کہ اتنی دور سے آئے ہو خرچ کیا سفر کیا زحمت گوارا کی اور کچھ کہنا نہیں ، یہ کیا بات ہوئی ، عرض کیا کہنا تو ہے پھر کہوں گا فرمایا پہلے ہی یہ بات کیوں نہیں کہہ دی تھی کہ پھر کہوں گا اس کے چھپانے میں کیا راز تھا اس پر وہ صاحب خاموش رہے ، فرمایا جواب دیجئے کیوں ستاتے ہو ، عرض کیا کہ یہ خیال کیا تھا کہ اطمینان سے دوسرے وقت کہوں گا جو کہنا ہے فرمایا اپنی راحت کا تو انتظام سوچا اور مجھ کو جو اس وقت آپ کی بے اصول گفتگو سے اذیت اور تکلیف ہوئی آپ کو فکر نہ ہوئی ۔ عرض کیا کہ غلطی ہوئی فرمایا کہ محض آپ کے اس کہنے سے میری تکلیف اور اذیت کا تو تدارک نہ ہوا پھر فرمایا خیر اس کو چھوڑئیے مگر میں پوچھتا ہوں کہ اول ہی میں میرے سوال پر جو آپ نے کہا تھا کہ مجھ کو کچھ کہنا نہیں اور پھر میرے کھود کرید کرنے پر کہا کچھ کہنا ہے اس میں سے کس بات کو سچ سمجھا جائے اور کس کو جھوٹ ۔ عرض کیا آئندہ ایسا نہ کروں گا ، فرمایا کہ اس وقت جو ہوا اس کا جواب دیجئے ۔ عرض کیا کہ کوئی جواب سمجھ میں نہیں آتا ، فرمایا کون سی ایسی باریک بات ہے جو سمجھ میں نہیں آتی اچھا یہ بتائیے کہ اس غلطی کا سبب بے فکری ہے یا کم فہمی ہے ۔ عرض کیا کہ کم فہمی فرمایا کہ کم فہمی کی حالت میں کیسے خدمت کر سکتا ہوں جو کام آپ مجھ سے لینا چاہتے ہیں اس کے لیے ضرورت ہے فہسسسسم کی اور فہم آپ اپنے اندر بتلاتے نہیں تو پھر کیسے خدمت کر سکتا ہوں اور کام کس طرح چلے گا جب فہم ہی نہیں تو کم فہم کو فہیم کیسے بنا دوں ، عرض کیا کہ میں مجبور ہوں ، فرمایا اس مجبوری کا علاج بھی اگر آپ کہیں تو عرض کروں ، عرض کیا کہ ضرور فرمائیں ، فرمایا کہ کسی دوسرے سے تعلق پیدا کر لیجئے ، مجھ سے آپ کو نفع نہ ہو گا عرض کیا کہ کیا دوسرے سے میرا مطلب حاصل ہو جائے گا ، فرمایا کہ یہ احتمال تو میری نسبت بھی ہے آپ کے پاس کیا ذریعہ ہے اس یقین کا کہ مجھ سے آپ کو ضرور نفع ہو گا اس میں تو میں اور وہ برابر ہیں میری ہی نسبت کیا معلوم ہے کہ مجھ سے ضرور ہی نفع ہو گا ۔
عرض کیا کہ اللہ ہی کو معلوم ہے کہ آپ سے مطلب حاصل ہو گا یا دوسرے سے ، فرمایا کیسی باتیں کرتے ہیں عقل سے بالکل ہی کورے معلوم ہوتے ہیں ، سوال کیا جواب کیا ، پھر فرمایا یہاں جب محض زیارت ہی کو آئے تھے جیسا شروع ملفوظ میں مذکور ہے تو جائیے قرآن شریف کی زیارت کیجئے ، مسجد میں رکھا ہے پھر فرمایا کہ اب بتلائیے ایسی موٹی موٹی باتوں میں الجھتے ہیں ، میں نے ایسی کون سی باریک بات پوچھی تھی بہت ہی سیدھی بات تھی مگر اس میں اینچ پینچ لگا کر یہاں تک نوبت پہنچا دی ، کوئی دقیق بات نہ تھی جس کو سمجھنے سے عاجز ہو گئے ، کوئی علمی مضامین نہیں تھے ۔ خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ آخر میں یہ کہہ رہے تھے کہ معاف فرما دیجئے ، فرمایا کہ معافی کی کیا بات ہے میں کوئی انتقامی مواخذہ تو نہیں کرتا مگر معاملہ کی حقیقت تو سمجھ لوں اور سمجھا دوں تب ہی تو آگے کو کام چلے گا اور حضرت مجھ کو اپنے اس طرز پر ناز نہیں ، میں خود شرمندہ ہوں مگر کیا کروں ، اگر اس طرز کو بدلوں تو پھر اصلاح کس طرح ہو ۔ دیکھئے طب کی کتابوں میں سب کچھ موجود ہے پھر بھی طبیب کی طرف رجوع کرتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ کتابوں میں تطبیق کی کوئی تدبیر نہیں جس سے مریض اپنی حالت کو کتاب پر منطبق کر سکے ان کو اہل فن ہی سمجھ سکتے ہیں کہ اس وقت حالت کیا ہے اور کس نسخہ کی ضرورت ہے اسی طرح کسی زندہ طبیب روحانی سے تعلق پیدا کرنے میں بھی یہی حکمت ہے کہ وہ جزئی حالات پر احتساب کرے اور ان کی اصلاح کرے یہ طریق اعمال کی اصلاح کے لیے ہے اور اعمال ظاہرہ و باطنہ کی اصلاح ہی کا نام طریق ہے جس کا ثمرہ یہ ہے کہ حق سبحان تعالی سے صحیح تعلق بندہ کا پیدا ہو جائے ۔ آج کل لوگ طریق تو سمجھتے ہیں اور اوراد و وظائف کو اور مقصود سمجھتے ہیں کیفیات و احوال کو حالانکہ طریق ہے اصلاح اعمال اور مقصود ہے تصحیح تعلق مع اللہ جس کی دوسری تعبیر رضائے حق ہے خلاصہ یہ ہے کہ اوراد و وظائف نہ مقصود ہیں نہ طریق ہیں بلکہ مقصود تعلق مع اللہ ہے اور وہ اس صورت سے حاصل ہو سکتا ہے کہ اگر کسی محقق اہل باطن معلم طریق کی جوتیاں سیدھی کی جائیں ، بس یہی ایک راستہ ہے ۔ مولانا فرماتے ہیں :
قال رابگذار مرد حال شو پیش مردے کاملے پامال شو
حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کی حالت سے بھی اس طریق کا پتہ چلتا ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے روز نیا کرتہ پہنا پھر قینچی لے کر آدھی آدھی آستینیں کاٹ ڈالیں کسی نے دریافت کیا ، فرمایا کہ میں کرتہ پہن کر اپنی نظر میں اچھا معلوم ہوا ، اس لیے اس کا علاج کیا ہے ایک مرتبہ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو لوگوں نے دیکھا کہ زبان کو ہاتھ میں لیے ہوئے اس کو مار رہے ہیں اور فرما رہے ہیں ۔ ھذا اورنی الموارد
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو لوگوں نے دیکھا کہ مشک سے پانی مسلمانوں کے گھروں میں بھر رہے ہیں ، کسی قاصد نے مدح کر دی تھی یہ اس کا علاج تھا ، یہ طرق ہیں اصلاح کے باقی ذکر وہ صرف معین ہے مقصود کا خود مقصود بالذات نہیں جیسے اصل تو سہل ہے اور عرق بادیان اس کا معین ہے ۔ ( تم الملفوظ الملقب بالانضباط لسواء الصراط )

( ملفوظ 228 )آج کل کے مشائخ کی مخلوق پر نظر

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل ساری خرابیاں اس وجہ سے ہو رہی ہیں کہ جو مصلح اور مشائخ کہلاتے ہیں ان کو بھی طالبوں کے حال پر توجہ نہیں چاہتے ہیں کہ لوگوں کی نظر میں کمالات میں کوئی کمی نہ آ جائے ، میرے نزدیک وہ شیخ خائن ہے رہزن ہے جو اللہ کی مخلوق کی راہ مارے اور اپنے اغراض اور مصالح کی بناء پر طالبین کی اصلاح و تربیت نہ کرے ان لوگوں نے دکانیں جما رکھی ہیں ، ہر وقت اس کی فکر ہے کہ کوئی ہم کو برا نہ کہے کوئی غیر معتقد نہ ہو جائے ، اچھی خاصی دین فروشی اور مخلوق پرستی ہے سو ایسے لوگ خود ہی گمراہ ہیں ، دوسروں کو کیا راہ بتائیں گے ۔ میں پوچھتا ہوں کہ جب آنے والوں کی بری عادت پر روک ٹوک نہ کرو گے ان کی اصلاح نہ کرو گے تو پھر تم ہو کس مرض کی دوا ، غرض بے فکری کے مرض سے اس وقت مشائخ بھی خالی نہیں ۔ الا ماشاء اللہ یہ سب فساد بے فکری کی بدولت ہو رہا ہے ۔ اگر اپنی عاقبت کی اور دین کی فکر ہو تو ایسا ہر گز نہ کریں اور اسی پر بس نہیں بلکہ اس سے آگے بڑھ کر خلاف شرع بکواس لگاتے ہیں بڑیں ہانکتے ہیں اور وہ رموز و اسرار سمجھے جاتے ہیں اشرار کا نام اسرار رکھا ہے ۔ احکام شرعیہ میں تحریف کرتے ہیں اور فن تصوف کی تو وہ گت بنائی ہے کہ الامان و الحفیظ مگر اب تو کچھ آنکھیں کھل گئی ، اللہ کا شکر ہے اب بہت کم لوگ ان کے جال میں پھنستے ہیں ۔

( ملفوظ 227 ) فکر ہو تو غلطیاں کم ہوتی ہیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ فکر انسان کی اختیاری چیز ہے اگر فکر ہو غلطیاں کم اور ہلکی ہوتی ہیں ۔ مربی قرائن سے یا نور بصیرت سے معلوم کر لیتا ہے کہ اس نے اہتمام کیا تھا پھر غلطی ہو گئی مگر اب بے فکری ہے اس پر چشم پوشی نہیں ہوتی ۔ ایک مولوی صاحب مدرس اول متقی یہاں آئے تھے کھانا آیا ، انہوں نے ایک اور شخص کو کھانے کے لیے بٹھا لیا ، پروا نہیں حالانکہ شریعت کے خلاف تھا عرف کا اتنا غلبہ ہو گیا ہے ۔ عبدالستار نے کہا کہ مولانا یہ تو جائز نہیں کیونکہ کھانا آپ کی ملک نہیں صرف آپ کے لیے بھیجا گیا ہے اور زیادہ بھیجا گیا ہے تا کہ مہمان کو کمی نہ ہو ، یہ سن کر بھی اس شخص کو نہیں اٹھایا ، صرف یہ کہا اچھا ہم پوچھ لیں گے ، مجھے اطلاع بھی ہوئی میں ان کے پوچھنے کا منتظر رہا مگر انہوں نے نہیں پوچھا ، آخر مجھ کو ہی کہنا پڑا ۔ یہ حالت لکھے پڑھوں کی ہے دوسروں کی اصلاح کی کیا امید کی جا سکتی ہے ۔

( ملفوظ 226 ) طالبین اور بزرگان سلف کے امتحانات

مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ میں تو پھر بھی طالبین کی بہت رعایت کرتا ہوں بزرگان سلف نے تو بڑے بڑے سخت امتحان طالبوں کے لیے ہیں اگر مناسبت دیکھی تو تعلیم کی ورنہ نکال باہر کیا ۔ حضرت سلطان جی کی خدمت میں دو شخص مرید ہونے کے لیے حاضر ہوئے ، سامنے کوئی حوض تھا کہنے لگے کہ ہمارے یہاں کا حوض اس سے بہت بڑا ہے ۔ حضرت سلطان جی نے سن لیا ، فرمایا کہ ناپ کر آؤ جا کر پیمائش کی تو ایک بالشت بڑا نکلا ، بہت خوش خوش آئے ، عرض کیا کہ ایک بالشت بڑا ہے فرمایا کہ ایک بالشت کو بہت بڑا نہیں کہتے ، معلوم ہوتا ہے تمہارے مزاج میں کلام کی احتیاط نہیں ، نکلو یہاں سے ۔ ایک بزرگ جب نئے طالب کے لیے کھانا بھیجتے تو اس کے کھانے کے بعد بچے ہوئے کھانے کو دیکھتے کہ روٹی سالن تناسب سے بچایا نہیں اگر گڑبڑ ہوتی ہے تو فرماتے انتظام نہیں تمہارے مزاج میں اس واسطے تم کو ہم سے مناسبت نہیں ہو گی کیونکہ جب اتنی چھوٹی سی بات میں انتظام نہیں تو آئندہ تم سے کیا امید ہو سکتی ہے ، چلو چلتے بنو ہم سے تمہاری خدمت نہیں ہو گی ۔

( ملفوظ 225 )ابتدائی اصلاح جو کر سکو کر لو پھر آؤ

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ابتدائی اصلاح جس کو خود تم کر سکتے ہو اس سے فارغ ہو کر یہاں آنا چاہیے درس نظامی کے مدرسہ میں الف ، ب ، ت سے فارغ ہو کر آنا چاہیے ۔

( ملفوظ 224 ) عقل و فہم کی کمی کا کوئی علاج نہیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج صبح کا قصہ ہے ایک صاحب نے بوقت رخصت تمام اہل مجلس سے فردا فردا مصافحہ کیا اور سب سے دعا کے لیے کہا جس سے بہت دیر تک جب تک یہ شغل ختم نہ ہوا سب مشوش رہے ۔ بتلائیے رسمیں ایسی جم گئیں کہ باوجود سعی اور کوشش کر ہلائی نہیں ہلتیں ۔ واقعی بات وہی ہے جو میں کہا کرتا ہوں کہ جو جی میں آیا کر لیا ، سوچتے ہی نہیں اگر سوچ اور فکر ہو تو عقل پیدا ہو مگر سوچنے کے لیے بھی سوچ کی ضرورت ہے کہ یہ سوچنے کا موقع ہے یا نہیں ۔ میں نے ایک شخص کو اس بناء پر کہ ہر کام بر بات اس کی بے فکری سے ہوا کرتی تھیں یہ تدبیر بتلا دی تھی کہ ہر کام یا بات کرنے سے قبل سوچ لیا کرو کہ یہ کرنے یا کہنے کی ہے یا نہیں ، اس پر ان کا عمل شروع ہو گیا ۔ ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ آپ سفر میں جا رہے تھے ریل کا سفر تھا بیوی ریل میں سوار ہو گئی ۔ اسباب ریل میں رکھا گیا آپ کا جی چاہا کہ ایک پیسے کے چنے خریدیں ریل سے اتر کر چنے خریدنے لگے اب اس نصیحت کے موافق کھڑے سوچ رہے ہیں کہ خریدوں یا نہیں ، وہاں ریل چھوٹنے کے لیے سیٹی دے رہی ہے مگر آپ کا مراقبہ ہی ختم نہ ہوا حتی کہ ریل چل دی ، اب اس کا کس کے پاس علاج ہے کہ ہر نصیحت میں دور دور کی قیدیں لگایا کرے ۔ بات یہ ہے کہ جب تک گھر کی عقل نہ ہو مشکل ہے مطلق ٹھیلنے سے کیا کام چلتا ہے آخر کہاں تک کوئی ٹھیلے گا ۔ اسی واسطے ایسے بد فہموں و کم عقلوں کو میں کہہ دیتا ہوں کہ مجھ کو تم سے اور تم کو مجھ سے مناسبت نہ ہو گی ۔ لہذا کسی دوسرے مصلح سے اپنی اصلاح کراؤ اگر چاہو گے تو پتہ میں بتلا دوں گا اور تعلیمی اصول تو غلط نہیں مگر استعمال کا موقع تو معلوم کرنے کے لیے عقل کی ضرورت ہے ۔ چنانچہ اس واقعہ میں سوچنے کی صورت یہ تھی کہ خرید کر ریل میں جا بیٹھتے اور وہاں سوچتے کہ نفس کو کھانے دوں یا نہ دوں اگر دینا مناسب ہوتا کھا لیتے نہ مناسب سمجھتے کسی حاجت مند کو دے دیتے ۔ دوسرے یہ مراقبہ تو تم ہی تک محدود تھا بیوی کو دے دیتے وہ بیچاری کھا لیتی ۔ حاصل یہ ہے کہ سلیقہ کی بھی ضرورت ہے جن لوگوں میں خداداد سلیقہ ہوتا ہے اور فکر سے بھی کام لیتے ہیں غلطیوں کا صدور ان سے بھی ہوتا ہے مگر امید اصلاح کی ہوتی ہے نیز غلطیوں کا صدور ہونا بھی کم ہے کما بھی کیفا بھی ۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر صاحب معاملہ کو معلوم ہو جائے کہ اس شخص میں فکر ہے سوچ ہے تو پھر اس کو رنج بھی نہیں ہوتا بشریت سے معذور سمجھتا ہے درگزر کرتا ہے باقی جب یہ معلوم ہوا کہ یہ شخص قوت فکریہ سے کام نہیں لیتا تو بے شک رنج ہوتا ہے لیکن آج کل تو فکر ہی نہیں میں اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہوں کہ بزرگوں کے صحبت یافتہ پرانے نمٹے ہوئے اور خود بھی مقتداء مگر نہایت آزاد ، بے فکر جو زبان پر آیا کہہ دیا جو جی میں آیا کر لیا ۔ افسوس بعض کفار کو تو ایسی چیزوں کا اہتمام ہے اور بعض مسلمانوں کو اہتمام نہیں ، کافروں کی مدح کرنا تو نہ چاہیے اور میرا مقصود بھی مدح نہیں تھا ، غیرت دلاتا ہوں مسلمانوں کو بعض کافروں کی تو سلیقہ میں یہاں تک حالت پہنچی ہوئی ہے کہ ایک مرتبہ شاہ ایران ولایت گئے شاہی خاندان میں دعوت ہوئی ، بعد کھانا کھا لینے کے نہایت خوش نما پیالوں میں صابن گھلا ہوا ہاتھ صاف کرنے کے لیے جدا جدا سب کے سامنے لایا گیا ، شاہ ایران سمجھے کہ کوئی پینے کی چیز ہے صابن کی پیالی پی گئے ۔ اب یہ بات سوچنے کی ہے کہ سب اہل مجلس نے وہ پیالیاں پی لیں ، کیا ٹھکانا ہے اس رعایت کا اور ذرا کسی کے بشرے وغیرہ سے تمسخر آمیز ہنسی ظاہر نہیں ہوئی ۔

( ملفوظ 223 )عرفی خوش اخلاقی مضر ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ عرفی خوش اخلاقی نہایت مضر چیز ہے اس سے دوسرا شخص ہمیشہ جہل میں مبتلا رہتا ہے ۔ خصوص اہل علم اور مشائخ سے جن کا منصب اصلاح ہو ایسا ہونا بہت برا ہے ۔

( ملفوظ 222 ) کان کا میل نکالنے سے متعلق ایک لطیفہ اور ایک مسئلہ

فرمایا کہ آج کان کا میل نکلوایا ہے کیونکہ کئی دن سے خفیف خفیف درد تھا ۔ گو کان کے اندر کوئی سلائی وغیرہ ڈالنا اس مقولہ کے خلاف ہے کہ ناک میں انگلی ، کان میں تنکا مت کر مت کر مت کر آنکھ میں انجن دانت میں منجن مت کر مت کر جو شخص کان کا میل نکالنے آئے تھے ان کے والد کے والد کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے مجھے ایک فتوی لکھوا کر اپنی ایک بیاض میں رکھ لیا تھا وہ میل نکلوانے والوں کو دکھلا دیتے تھے کیونکہ عموما یہ خیال ہے کہ کان کا میل نکلوانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے حلانکہ نہیں ٹوٹتا اس لیے میں نے لکھ کر انہیں دیدیا تھا ۔

( ملفوظ 221 )قوت متخیلہ کے حیرت انگیز واقعات

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بعض مرتبہ سالک کو کسی کیفیت کے پیدا ہو جانے پر خیال ہوتا ہے کہ یہ حالت میری راسخ ہو چکی حلانکہ ایسا نہیں ہوتا بلکہ وہ قوت متخیلہ کا تصرف ہوتا جس کو دوام نہیں ہوتا پھر اس کے زوال پر افسوس کرتا ہے ۔ ایک مولوی صاحب کے سوال پر فرمایا کہ قوت متخیلہ بڑی عجیب چیز ہے بعض واقعات حیرت انگیز ہیں ۔ ایک پٹواری کی حکایت ہے جو ایک ثقہ عالم سے سنی ہے کہ وہ کاندھلہ سے تحصیل بوڑھانہ کو چلا ، گھر سے بستہ بغل میں لیا اور دوات کا محض خیال ہو گیا کہ ہاتھ میں ہے تو جس طرح ہاتھ میں دوات ہوتی اسی طرح ہاتھ کو کیے ہوئے بوڑہانہ تک چلا گیا ، پھر وہاں پہنچ کر اپنے خیال میں سرائے کی ایک کوٹھری کے طاق میں بھی رکھ دی ۔ پھر جب لکھنے کی ضرورت ہوئی تو ڈھونڈنا شروع کیا ، وہاں تھی کہاں بھٹیاری پر خفا ہوئے کہ تیری غفلت سے میری دوات کوئی لے گیا پھر گھر آ کر معلوم ہوا کہ دوات گھر ہی رہی ، محض خیال ہی خیال تھا کہ دوات ہاتھ میں ہے ۔ بعض واقعات میں تخیلات کو اتنا بڑا دخل ہو جاتا ہے ۔ پھر فرمایا کہ ایک حکایت خواجہ صاحب نے مجھ سے بیان کی تھی ۔ عجیب حکایت ہے کہ ایک شخص باہر سے گھر آئے ، چھڑی ہاتھ میں تھی اس وقت ان پر نیند کا غلبہ تھا ، سیدھے پلنگ کی طرف پہنچے اور چاہا کہ چھڑی کونہ میں رکھ دیں اور خود چارپائی پر لیٹ جائیں مگر خیال کے تصرف سے چھڑی کو تو پلنگ پر لٹا دیا اور خود مکان کے کونہ سے لگ کر کھڑے ہوگئے ۔ ایک شخص نے صاحب واقعہ کا نام بھی بتلایا جو بڑے فلسفی اور ڈاکٹر ہیں ۔ یہ عجیب حکایت ہے واقعی کسی غلبہ کے وقت ایسی ہی باتوں کا صدور ہو جاتا ہے جو لوگ اہل حال پر معترض ہیں وہ ان باتوں کو دیکھیں اور ایسی حالتیں کم و بیش سب کو پیش آتی ہیں ۔ سو حالت و غلبہ کی وجہ سے اس وقت معذور ہوتا ہے کبھی اس قوت کا کسی ضرورت سے قصدا بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔ چنانچہ حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کو ایک مرتبہ جاڑا بخار چڑھا ہوا تھا ، نماز کا وقت آ گیا ، اپنی لکڑی پر نظر کی وہ بخار اس پر منتقل ہو گیا وہ کھڑی کھڑی کانپ رہی تھی اور آپ نے نماز پڑھ کر پھر دوسری نظر کر کے بخار کو اپنے اوپر لے لیا ، ایک فعل تصرف تھا ایک فعل عبدیت ۔