فرمایا کہ مولوی فضل حق صاحب خیر آبادی نے ایک قصیدہ لکھا ہے اس میں یہ بھی ہے کہ
رنڈا ہو جائیں گی قانون شفا میرے بعد
یہ شیخ بو علی کی تصنیف سے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ میں جیسا پڑھاتا ہوں میرے بعد کوئی نہ پڑھا سکے گا ۔ اس کے بعد تمثیلا فرمایا کہ اسی طرح طرز تربیت کا جو اس کے قبل کے ملفوظ میں مذکور ہے اللہ ہی حافظ ہے جو بعد کو بھی چلے ظاہر چلتا نظر نہیں آتا ۔
( ملفوظ 219 ) تربیت میں مربی کو رائے دینا مناسب نہیں
فرمایا کہ ایک خط آیا ہے اس میں لکھا ہے کہ سہل طریق کی تعلیم دی جائے ۔ فرمایا یہ تو ہمارا کام ہے کہ جب ہم ضرورت سمجھیں سہل تعلیم کریں مگر تم کو اس کہنے کا حق نہیں یہ مرض ایسا چلا ہے کہ قریب قریب اس میں عام ابتلاء ہے کہ اپنا تابع بنانا چاہتے ہیں کہ جو ہم چاہیں اور جس طرح چاہیں اس طرح کام ہو محکوم بن کر کام لینے میں عار آتی ہے ان اصلاحات کے بعد فرمایا کہ تربیت نازک کام ہے مربا بنانا پڑتا ہے اسی وجہ سے اس کو کوچا جاتا ہے کہ اندر تک شیرینی پہنچ جائے اور قوام خوب پختہ ہو تا کہ اندر تک کی مائیت جاتی رہے تا کہ بہت دنوں تک رہ سکے ۔ اس لیے مربی کو چاہیے کہ خوب اچھی طرح مربا بنائے ۔
( ملفوظ 218 ) کھیت میں چوہا لگنے کے پانچ تعویذ
ایک صاحب نے پرچہ پیش کیا جس میں کھیت کو چوہا لگنے کے تعویذ کیدرخواست تھی ۔ حضرت والا نے ملاحظہ فرما کر فرمایا کہ اس کام کا تعویذ تو ہے مگر پانچ تعویذ لکھے جاتے ہیں مجھ کو اتنے تعویذ ایک دم سے لکھنے کی فرصت نہیں اگر روزانہ ایک تعویذ لکھوا لیا جایا کرے تو میں لکھ سکتا ہوں کیا کوئی آدمی ایسا ہے جو مجھ سے ایک تعویذ روزانہ لے لیا کرے ۔ عرض کیا کہ میں تو کام کی وجہ س آ نہیں سکتا ایک اور شخص ہے وہ روزانہ آ جایا کرے گا ، فرمایا کہ پانچ تعویذ ہوں گے اگر پانچ دن تک وہ شخص آوے تو ایک تعویذ روز لکھ دیا کروں گا اس پر اس شخص نے جواب میں بہت ہی پست آواز سے کچھ کہا جس کو حضرت والا سن نہ سکے ، فرمایا کہ منہ کھول کر بولا کرتے ہیں کہ دوسرا سن سکے یہ طریقہ کہاں سے سیکھا ہے عورتوں کی طرح بولنا کہ کوئی سنے ہی نہیں ، نہ معلوم لوگوں میں یہ مرض کہاں سے پیدا ہوا ، پریشان کرتے ہیں ۔ عرض کیا غلطی ہوئی آئندہ زور سے بولا کروں گا ۔ فرمایا دیکھو اب بھی تو بولے بس اس طرح بولنا چاہیے ۔ اب ٹھکانے پر آ گئے فرمایا کہ مجھ میں تو ثقل سماعت نہیں مگر بعض حضرات کو ثقل تکلم ہوتا ہے اس شخص نے عرض کیا کہ حضرت حاکم علی تعویذ لینے آیا کرے گا بطور مزاح فرمایا کہ آویں حاکم علی مگر آویں محکوم علی بن کر اور لیکن پرچہ لکھوا لینا جو ہم کو روزانہ دکھا دیا جایا کرے جس کے ذریعے سے تعویذوں کی یاد رہے کہ کتنے لکھے گئے اور اس پر یہ بھی لکھوا لینا کہ فلاں ضرورت کے لیے تعویذ کی ضرورت ہے اس وقت کی بات کے بھروسہ نہ رہنا کہ یاد رہے گا ۔ اگر سیدھا سیدھا معاملہ رکھا تو تعویذ دوں گا ورنہ نہیں ۔ پھر دریافت فرمایا کہ جو کچھ میں نے کہا سب سمجھ گئے ، عرض کیا کہ سمجھ گیا ، فرمایا جاؤ جہاں پہلے بیٹھے تھے وہاں جا کر بیٹھو ۔
( ملفوظ 217 ) سلطنت مقصود بالذات نہیں
فرمایا کہ ایک صاحب مجھے کہتے تھے کہ آج کل گنی کی قیمت تاجروں کے یہاں 18 روپیہ دو آنے ہے اور ڈاک خانہ سے آج پونڈ کے کہ وہ بھی ایک گنی کا ہوتا ہے تیرہ روپے 15 آنے ملے ہیں ۔ اسی سلسلہ میں فرمایا کہ یہ محض خیال ہی خیال ہے مسلمانوں کا کہ حکومت ان کے مصالح کی رعایت کرے ۔ قاعدہ کلیہ ہے کہ جس قوم کی بھی حکومت ہو گی وہ ہمیشہ اپنے مصالح کو مقدم رکھے گی ۔ اگر فرق ہے تو صرف اتنا ہے کہ کسی کے یہاں اپنے مصالح غالب ہیں رعایا کے مغلوب اور کسی کے یہاں رعایا کے غالب ہیں اپنے مغلوب ۔ پھر فرمایا کہ حکومت سے حاصل یہ ہے کہ مخلوق خدا کو راحت ملے ، کسی پر ظلم نہ ہو مگر آج کل جو حکومت کی ہوس کر رہے ہیں ان کو اس کی فکر ہی نہیں بس سوراج سوراج پکار رہے ہیں ۔ ڈسٹرکٹ بورڈ ہی دیکھ لیجئے اگر دو چار کرسیوں پر بیٹھ کر اینڈ گئے تو کیا ہوا جن محکومین کو ان سے سابقہ پڑتا ہے ان سے پوچھئے کہ ان غریبوں کی کیا گت بن رہی ہے بزعم خود ان لوگوں کو اب تو کرسی ملی ہے تھوڑے دنوں میں سمجھتے ہیں کہ عرش مل جائے گا ۔ پھر اگر خود حکومت ہی مقصود بالذات ہے اور سلطنت کی کامیابی مطلوب کی دلیل ہے تو فرعون ، نمرود ، شداد ، قارون یہ سب کامیاب تھے ۔ سلطنت ان کو حاصل تھی مگر حقیقت میں نری حکومت اور سلطنت سے کیا حاصل ، دیکھنے کی بات تو یہ ہے کہ مخلوق کو بھی راحت ملی یا نہیں سو اس کا مدت سے کہیں نام و نشان بھی نہیں ۔ چنانچہ حضرات صحابہ نے جس وقت تلوار اٹھا کر قیصر اور کسری کے ملک کو فتح کیا جہاں جہاں پہنچے لوگ دعائیں دیتے تھے کیونکہ سابق سلاطین کے ظلم سے لوگ عاجز آ گئے تھے سو جیسی سلطنت حضرات صحابہ نے کی کوئی بھی نہیں کر سکا ۔
( ملفوظ 216 ) حج کے جوش میں کمی اور حضرت گنگوہی
خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ حضرت لوگ حج کو جا رہے ہیں ان کو دیکھ کر جوش اٹھتا ہے ، فرمایا کہ مجھ میں تو یہ بات نہیں ۔ حضرت مولانا گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ سے کسی شخص نے کہا تھا کہ اگر حضرت بیت اللہ تشریف لے جائیں تو سفر خرچ کے لیے کل روپیہ میں دوں گا ۔ سن کر فرمایا دیکھو تو کیسی اچھی بات ہے ایک تو بیت اللہ کی زیارت اور دوسرے حضرت حاجی صاحب سے ملاقات مگر کچھ حالت ایسی ہو گئی ہے کہ طبیعت میں جانا نہ جانا دونوں برابر سے معلوم ہوتے ہیں ۔ پھر اپنی نسبت فرمایا کہ اب بوڑھے ہو گئے حرارت غریزی جس قدر کم ہوتی جاتی ہے امنگیں بھی کم ہوتی جاتی ہیں ۔
( ملفوظ 215)مزاح علامت ہے عدم تکبر کی ہے
فرمایا کہ متکبر آدمی مزاح کو اپنی شان کے خلاف سمجھتا ہے اس پر ایک واقعہ بیان فریا کہ ایک مرتبہ میں اور بھائی منشی اکبر علی مولانا والی مسجد میں مغرب کی نماز پڑھنے گئے ایک شخص بعد نماز کے برتن میں نمازیوں سے پانی دم کر رہا تھا ، میں اور بھائی صاحب جب مسجد سے نکلے اس شخص نے زبان سے تو کچھ نہ کہا بھائی کے سامنے بھی وہ برتن کر دیا ، بھائی نے اس کو ہاتھ میں اٹھا لیا وہ سمجھا کہ اور تو لوگ ویسے ہی چھو چھا کر گئے یہ اہتمام کے ساتھ دم کریں گے ۔ بھائی صاحب نے یہ کیا کہ سب ایک دم پی گئے وہ شخص بڑا جھلایا ، بھائی نے کہا کہ تم نے زبان سے کچھ کہا تھا کہا نہیں ، پھر میں کس طرح سمجھتا کہ تم نے کیوں دیا ہے میں یہی سمجھا کہ محبت سے پینے کو دے رہے ہو ایسا متبرک پانی کہاں میسر ہوتا جس پر پچاسوں مسلمانوں کی دعائیں دم ہوئی ہیں ، میں پی گیا ۔ فرمایا جتلانا مقصود تھا کہ زبان سے کہنا چاہیے تھا گو قرینہ کافی تھا اور قرینہ سے سمجھ کر ایسا تصرف اور ایسا طریقہ تنبیہ جائز نہ تھا لیکن احوط پھر بھی قرینہ پر اکتفا نہ کرنا اور زبان ہی سے کہنا ہے ۔ خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ ہر شخص سے کہاں تک کہتا ، پھر فرمایا اس کی ضرورت ہی کیا ہے ایک مرتبہ بلند آواز سے پکار کر کہہ دے تا کہ سب سن لیں ۔ عرض کیا کہ ممکن ہے کہ کوئی بھی نہ سنے ، فرمایا اگر ایسا احتمال ہو تو فردا فردا کہنا چاہیے ۔ اسی سلسلہ میں فرمایا کہ ماموں صاحب فرمایا کرتے تھے کہ مزاج کی شوخی دلیل ہے روح کے زندہ اور نفس کے مردہ ہونے کی ۔ خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم بھی مزاح فرمایا کرتے تھے ، فرمایا ہاں مگر ایک خاص حد تک زیادہ نہیں ، بہت کم وہ بھی دوسروں کی تطییب قلب کی مصلحت سے ۔ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے ایک شخص نے اونٹ مانگا ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تجھ کو اونٹنی کا بچہ دوں گا ۔ عرض کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم بچہ کیا کروں گا ، فرمایا کہ اونٹ بھی تو اونٹنی کا بچہ ہوتا ہے ۔
( ملفوظ 214 )بزرگوں کی تعظیم و تکریم
ملقب بہ الاعظام للکرام ۔ ایک شخص آئے اور کھڑے رہے نہ کچھ بولے اور نہ بیٹھے ، حضرت والا نہ اس کی وجہ دریافت فرمائی کہ نہ تو تم کچھ بولے اور نہ بیٹھے اس میں کیا مصلحت تھی اور کیوں کھڑے رہے جس سے مجھ کو گرانی ہوئی ، عرض کیا کہ مصافحہ کی غرض سے کھڑا تھا ، فرمایا مجھ کو بغیر تمہارے کہے ہوئے کیسے معلوم ہوتا کہ تم کس غرض سے کھڑے ہو ، عرض کیا اس ہی وجہ سے کھڑا تھا ، فرمایا جو میں نے کہا اس کو سمجھے نہیں سیدھی بات کو الجھاتے کیوں ہو ، میری بات کو سمجھ کر جواب دینا سوال یہ ہے کہ بغیر تمہارے زبان سے کہے ہوئے مجھ کو کیسے معلوم ہوتا کہ تم کس غرض سے کھڑے ہو ، عرض کیا غلطی ہوئی ، فرمایا کہ یہ تو میری بات کا جواب نہ ہوا اور دوسرے تمہاری اس غلطی سے میں تو پریشان ہوا ، عرض کیا کہ میں خود ہی پریشان ہو گیا ۔ حضرت والا نے ان کے اس جواب پر کچھ تبسم فرماتے ہوئے فرمایا کہ پھر میں نے تم کو پریشان کیا یا تم نے مجھ کو پریشان کیا ، حرکت تو اپنی اور الزام مجھ پر فرمایا کہ خدا بھلا کرے ان رسمی پیروں کا انہوں نے ایسی تعظیم و تکریم کا مرض چلایا ہے کہ جس سے لوگوں کی عادتیں ہی خراب ہو گئیں ، فرمایا یہاں تو ادب ہے عربی اور دوسرے پیروں کے یہاں ادب ہے ایشائی عربی ادب سے جناب رسول مقبول صلی اللہ علیہ و سلم کا ادب مراد ہے جو صحابہ کو تعلیم فرمایا گیا تھا اس میں رسمی تعظیم و تکریم تو ہے نہیں مگر دوسروں کی راحت کا پوارا سامان ہے یہ ہے ادب عربی اول مرتبہ جب حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے قباء میں نزول فرمایا ہے ، لوگ خبر پا کر حضرت کی زیارت کے لیے اطراف سے آنے شروع ہو گئے اور چونکہ کبھی زیارت نہیں ہوئی تھی حضرت سیدنا ابوبکر صدیق کو بوجہ اس کے کہ وہ دیکھنے میں زیادہ عمر کے معلوم ہوتے تھے حضور سمجھ کر لوگوں نے مصافحہ کرنا شروع کر دیا ۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ سمجھ کر کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا پتہ دے دیا تو اس ہجوم سے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو تکلیف ہو گی ، خود برابر مصافحہ کرتے رہے ۔ دیکھئے یہ ہے ادب کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ وہاں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے وقایہ بن گئے پھر جب آپ پر دھوپ آئی تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ چادر سے آپ پر سایہ کر کے کھڑے ہو گئے ۔ جب پتہ لگا کہ مخدوم کون ہیں اور خادم کون اور اس سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم پر دھوپ آتی تھی اور یہ جو مشہور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا سایہ نہ تھا اس کی وجہ یہ ہے کہ اکثر سر مبارک پر ابر رہتا تھا ۔ یہ وجہ تھی سایہ نہ ہونے کی مگر وہ بھی دواما نہ تھا ۔
غرضیکہ اب تو صرف تعظیم کا نام ادب ہے راحت کی پرواہ ہی نہیں ، میں تو کہا کرتا ہوں کہ آج کل جو تہذیب ہے محض تعذیب ہے ۔ حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمۃ اللہ علیہ جب درس کے لیے تشریف لاتے ہم لوگ حضرت کو آتے دیکھ کر کھڑے ہو جاتے ۔ ایک مرتبہ حضرت نے فرمایا کہ اس سے مجھ کو تکلیف ہوتی ہے اس کے بعد سے ہم لوگ کبھی کھڑے نہیں ہوئے اور یہی خیال کیا کہ نہ کھڑے ہونے میں تو ہم کو تکلیف ہو گی اور کھڑے ہونے میں مولانا کو تکلیف ہو گی لہذا اپنی تکلیف کو برداشت کیا اور مولانا کی تکلیف کو برداشت نہیں کیا ۔ خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی تو صحابہ کے کھڑے ہونے کو منع فرمایا ہے ، فرمایا کہ وہ اس وجہ سے بھی تھا کہ ملوک عجم کے دربار میں یہ دستور تھا کہ سب لوگ ہاتھ باندھے دست بستہ کھڑے رہتے تھے باقی قدوم کے وقت کھڑا ہو جانا اکثر علماء کے نزدیک جائز ہے ۔ گو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے لیے اس کو بھی پسند نہیں فرمایا ۔ ایک صاحب نے جن کی رائے قیام قدوم کی بھی ممانعت کی تھی مجھ کو لکھا تھا کہ کہ ملا علی قاری نے لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ نے کھڑا ہونے کو منع کیا ہے اور بھی اس میں چند سوالات علمی تھے ، میں نے لکھا کہ اچھا یہ بتاؤ کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم خود تشریف لائیں تو کیا آپ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھ کر بیٹھے رہیں گے ۔ اس پر انہوں نے بہت ہی اچھا جواب دیا کہ اس کو نہ پوچھو اس وقت تو شاید میں سجدہ میں گر جاؤں مگر کیا سجدہ میں گر جانا جائز ہو جائے گا ۔ یہ عشق کے کرشمے ہیں یہاں پر ضابطہ سے کام نہیں چلتا ، پھر آثار عشق کے سلسلہ میں ایک قصہ بیان فرمایا کہ حضرت سید احمد رفاعی معاصر ہیں حضرت جیلانی کے بہت بڑے اولیاء کبار سے گزرے ہیں ۔ ایک مرتبہ روضہ مبارک پر حاضر ہوئے اور عرض کیا السلام علیکم یا جدی جواب مسموع ہوا و علیک السلام یا ولدی ، اس پر ان کو وجد ہو گیا اور بے اختیار یہ اشعار زبان پر جاری ہو گئے :
فی حالتہ البعد روحی کنت ارسلھا تقبلا لارض عنی و ھی نائبتی
فھذہ ذولۃ الا شباح قد حضرت فامدد یمینک کی تحظی بھا شفتی
ترجمہ : میں حالت بعد میں اپنی روح کو ( روضہ شریف پر ) بھیجا کرتا تھا کہ وہ میری طرف سے نائب بن کر زمین بوسی کیا کرتی تھی اور اب جسم کی باری ہے جو خود حاضر ہے سو اپنا ہاتھ بڑھا دیجئے تا کہ میرا لب اس سے بہرہ ور ہو جائے ، فورا ہی روضہ مبارک سے ایک نہایت منور ہاتھ جس کے رو برو آفتاب بھی ماند تھا ظاہر ہوا انہوں نے بے ساختہ دوڑ کر اس کا بوسہ لیا اور وہیں گر گئے ۔ ایک بزرگ جو اس واقعہ میں موجود تھے ان سے کسی نے پوچھا کہ آپ کو اس وقت کچھ رشک ہوا تھا ، فرمایا کہ ہم تو کیا چیز تھے اس وقت ملائکہ کو رشک تھا ۔ جب حضرت رفاعی نے دیکھا کہ لوگ مجھ کو نظر قبول و جاہ سے دیکھ رہے ہیں دروازہ پر جا لیٹے اور حاضرین سے کہا کہ سب آدمی میرے اوپر سے جائیں علاج تھا ۔ سیوطی نے یہ حکایت لکھی ہے اس وقت نوے ہزار کا مجمع تھا لوگوں کا ۔ تم ملفوظ الاعظام للکرام
12 شوال المکرم 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم شنبہ
( ملفوظ 213 )ایک صاحب کو دس روز قیام کی اجازت
ایک ضعیف العمر شخص حاضر ہوئے ، حضرت والا نے دریافت فرمایا کہ کہاں سے آئے ہو ، عرض کیا کہ ایک موضع ہے ماہی ضلع سہارن پور میں وہاں سے آیا ہوں ، دریافت فرمایا کہ کس غرض سے آئے ہو ، عرض کیا کہ مرید ہونے آیا ہوں ، فرمایا کہ کس قدر قیام رہے گا ۔ عرض کیا کہ ساری عمر بھر اگر صرف ہو جائے تو رہوں گا ، فرمایا کھانے کا کیا انتظام ہو گا ، کہاں سے کھاؤ گے ، عرض کیا اللہ دے گا ، فرمایا کہ تو میرا سوال ہی بیکار رہا ، یہ تو سب ہی جانتے ہیں کہ اللہ دیتا ہے مگر کوئی ظاہری سامان بھی ہے ؟ عرض کیا کہ ظاہر میں تو کوئی سامان اس وقت نہیں دریافت کیا ، کیا کام کرتے تھے عرض کیا کہ لوہار ہوں لوہے کا کام کرتا تھا ، فرمایا دیکھو ( ملفوظ 213 ) ایک ضعیف العمر شخص حاضر ہوئے ، حضرت والا نے دریافت فرمایا کہ کہاں سے آئے ہو ، عرض کیا کہ ایک موضع ہے ماہی ضلع سہارن پور میں وہاں سے آیا ہوں ، دریافت فرمایا کہ کس غرض سے آئے ہو ، عرض کیا کہ مرید ہونے آیا ہوں ، فرمایا کہ کس قدر قیام رہے گا ۔ عرض کیا کہ ساری عمر بھر اگر صرف ہو جائے تو رہوں گا ، فرمایا کھانے کا کیا انتظام ہو گا ، کہاں سے کھاؤ گے ، عرض کیا اللہ دے گا ، فرمایا کہ تو میرا سوال ہی بیکار رہا ، یہ تو سب ہی جانتے ہیں کہ اللہ دیتا ہے مگر کوئی ظاہری سامان بھی ہے ؟ عرض کیا کہ ظاہر میں تو کوئی سامان اس وقت نہیں دریافت کیا ، کیا کام کرتے تھے عرض کیا کہ لوہار ہوں لوہے کا کام کرتا تھا ، فرمایا دیکھو
( ملفوظ 212 )اختیاری و غیر اختیاری کا فرق اور تقدیر کا حیلہ
( ملقب بہ اعتمال الافکار فی الاحتیال بالاقدار ) ایک پرچہ کے جواب کے سلسلہ میں فرمایا کہ اختیاری اور غیر اختیاری کا مسئلہ بہت احتیاط کر کے عرض کرتا ہوں کہ نصف سلوک ہے ورنہ کل ہی سلوک ہے اس مسئلہ کے نہ جاننے سے ایک عالم پریشانی میں ہے ۔ اس کو میں نے ایک مولوی صاحب کے جواب میں ایک خاص عنوان سے لکھا تھا وہ عنوان یہ تھا کہ اس طریق میں افعال مقصود ہیں جو کہ اختیاری ہیں انفعالات مقصود نہیں جو کہ غیر اختیاری ہیں اور یہ سمجھ کر لکھا تھا کہ عالم ہیں جواب کی قدر کریں گے ۔ انہوں نے قدر کی یہ لکھا کہ معلوم ہوا کہ یہ طریق بہت مشکل ہے حلانکہ اس خلاصہ سے زیادہ کیا آسان ہو گا مگر انہوں نے اس آسان کو مشکل سمجھا ، اصل یہ کہ بہت سے لوگ اس کے منتظر ہیں کہ اول دلچسپی پیدا ہو تو کام شروع کریں اور کام اس کا منتظر ہے کہ مجھ کو شروع کریں تو میں دلچسپی کے آثار پیدا کروں ، غرض اول دلچسپی پیدا ہو تو کام شروع ہو اور اول کام شروع ہو تو دلچسپی پیدا ہو یہ اس کا منتظر وہ اس کا منتظر ۔ یہ تو ایک اچھا خاصہ دور ہو گیا جو کبھی ختم ہونے والا نطر نہیں آتا اس غلطی میں ایک عالم مبتلا ہے یوں چاہتے ہیں کہ خود داعی ہی کی جانب سے فعل کو اضطراری ترجیح ہو جائے ۔ سو اگر یہ عقیدہ ہے کہ داعیہ پیدا کرنے والا بھی چونکہ خدا تعالی ہی ہے وہ اگر چاہیں گے داعیہ پیدا کر دیں گے نہ چاہیں گے نہیں پیدا کریں گے اس
لیے خود کچھ ارادہ ہی نہیں کرتے سو یہ عقیدہ جبری ہو گا اس کا علاج وہی ہے جو ایک حکایت میں مولانا رومی نے جبری عقیدہ کے مقبلہ میں نقل فرمایا ہے کہ ایک شخص کسی باغ میںپہنچ گیا اور وہاں پہنچ کر اس باغ سے پھل توڑ کر کھانے شروع کر دیئے ، اتفاق سے مالک باغ بھی آ پہنچا اس نے دریافت کیا کہ کیوں صاحب اس باغ کا کوئی مالک بھی ہے اور آپ نے اس سے اجازت بھی لی ہے اس شخص نے کہا کہ باوا باغ کا مالک کون ہوتا ہے خدا مالک ہے زمین خدا کی ، درخت خدا کے ، پانی خدا کا ، ہوا خدا کی ، پھل خدا کے ، میں خدا کا ، منہ خدا کا ، بھوک خدا کی ، پیٹ خدا کا لا فاعل الا اللہ اور لا موجود الا اللہ
مالک نے کسی کو حکم دیا کہ ہمارا ڈنڈا اور رسی لاؤ اور ان صاحب کے ہاتھ پیر بندھوا کر دہ ڈنڈا دہ ڈنڈا ، اب میاں صاحب نے غل مچانا شروع کیا ، ہائے رے مرا مالک نے کہا کہ ہائے وائے کیا کرتا ہے میں خدا کا ، تم خدا کے ، رسی خدا کی ، ڈنڈا خدا کا یہ مار پیٹ خدا کی ۔
( لا فاعل الا اللہ لا موجود الا اللہ )
دو ڈنڈے اور رسید کیے تب تو میاں صاحب کی آنکھیں کھل گئیں اور اس جبری عقیدہ سے توبہ کی ۔ مولانا فرماتے ہیں :
گفت توبہ کردم از جبرائے عیار اختیار است اختیار است اختیار
( سوائے خدا کے کوئی کرنے والا نہیں اور سوائے خدا کے کوئی موجود نہیں ۔ )
( کہنے لگا کہ عقیدہ جبر سے توبہ کرتا ہوں بے شک بندہ کو اختیار ہے ۔ )
کچھ نہیں یہ سب کم سمجھی اور بد فہمی کی باتیں ہیں ۔ ایک طرف تو کہتے ہیں کہ اختیار ہے جب اثبات اختیار میں نفس کی غرض ہو اور ایک طرف اختیار کی نفی کرتے ہیں جب نفی میں غرض ہو اس کا علمی جواب تو ہے مگر جہلی جواب زیادہ مناسب ہے جو حکایت بالا میں مذکور ہے اس میں کوئی حرج شبہ ہی نہیں رہتا ، اول ہی بار میں صبح ہو جاتی ہے اور آدمی روشنی میں آ جاتا ہے ۔ شیطان نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ میری تقدیر میں سجدہ تھا یا نہیں اگر ہوتا تو میں ضرور کرتا ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نہ تھا تو پھر میں کیوں قصوروار ٹھرا ، جواب ملا کہ اب باتیں بناتا ہے اس وقت تیری یہ نیت کب تھی کہ تقدیر کی موافقت کر رہا تھا اس وقت تو تکبر اور شرارت سبب تھا
یہ تو اب معلوم ہوا کہ تقدیر میں تھا یا نہیں ۔ یہ بات بھی قابل لحاظ ہے کہ یہ جو طرز آج کل ہے کہ شبہات کا جواب دیا جاتا ہے اس سے شبہات کا اسقاط نہیں ہوتا گو اسکات ہو جاتا ہے ۔ معترض ساکت ہو جاتا ہے البتہ محبت ایک ایسی چیز ہے جو کافی طور پر کارآمد ہو سکتی ہے ۔ اب صرف یہ سوال رہ گیا کہ محبت کے پیدا کرنے کا طریقہ کیا ہے سو وہ یہ ہے کہ جو اپنے اندر محبت پیدا کر چکے ہیں ان کی جوتیوں میں جا پڑے ۔ جس کو مولانا فرماتے ہیں :
قال رابگذار مرد حال شو پیش مردے کاملے پامال شو
( قال کو چھوڑ اور حال پیدا کر اور کسی کامل کے آگے اپنے کو پامال کر دے ۔ )
اگر ان کی صحبت میسر آ جائے بڑی دولت ہے اس لیے کہ عشاق کے مجمع میں جا کر عاشق ہو جاتا ہے ، نمازیوں کے مجمع میں جا کر خود بخود نمازی ہو جاتا ہے ۔ اسی طرح محبین کے مجمع میں جا کر محب ہو جاتا ہے اور اگر کسی عارض سے محبت پیدا نہ ہو تو ایک دوسرا طریق بھی ہے وہ خوف ہے اس کی ایسی مثال ہے کہ اگر حاکم سے محبت نہ ہو تو خوف کے سبب اس کے احکام کے خلاف نہیں کر سکتا ۔ خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ خوف کس طرح پیدا کیا جائے ؟ فرمایا یہ بھی کوئی مشکل بات نہیں جہاں مضرتوں کا مراقبہ کیا خوف پیدا ہو گیا وہ مضرتیں یہ ہیں مثلا جہنم ہے قبر ہے محشر ہے موت ہے ان کے استحضار اور مراقبہ سے خوف پیدا ہو سکتا ہے بس اس کے لیے دو ہی طریقے ہوئے ایک محبت اور ایک خوف ایک کا حاصل ترغیب ہے اور ایک حاصل ترہیب ۔
( ملفوظ 211 )ایک صاحب کے بلا اجازت آنے پر نکیر
ایک صاحب بلا اجازت چپکے سے آ کر مجلس میں بیٹھ گئے ۔ حضرت والا نے دیکھ کر دریافت فرمایا کہ میں نے آپ کو پہچانا نہیں ، عرض کیا کہ میں فلاں جگہ سے آیا ہوں ۔ دریافت فرمایا کہ اس سے قبل کبھی ملاقات ہوئی ہے عرض کیا کہ نہیں ، پوچھا کوئی خط آنے کے متعلق لکھا تھا ؟ عرض کیا کہ لکھا تھا پوچھا پھر آ کر دکھایا تھا ؟ عرض کیا کہ نہیں ، فرمایا پھر میں کیسے پہچانتا کیا مجھ کو علم غیب ہے آپ لوگ کیوں ستاتے ہیں اور پریشان کرتے سسہیں ، پوری بات آتے ہی کیوں نہیں بیان کر دی گئی ۔ خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ یہ صاحب تو وہ ہیں جن سے آتے ہی خط نہ دکھلانے پر کل مواخذہ ہو چکا ہے فرمایا کہ اتنی کھود کرید پر بھی انہوں نے ظاہر نہیں کیا یہ ہی کہنا چاہیے تھا کہ میں کل آیا ہوں اور یہ گفتگو آ چکی ہے یہ کون سی ایسی باریک بات تھی جو سمجھ میں نہیں آئی نہ معلوم ایچ پیچ میں لوگوں کو کیا مزہ آتا ہے ۔ فرمایا کہ آئندہ ایسی بات سے احتیاط رکھئے گا جہاں پر جاؤ پوری اور صاف بات کہہ دو تا کہ دوسروں کو تکلیف اور الجھن نہ ہو تو بڑی اصلاح اس کو ہی میں سمجھتا ہوں کہ ااپنے سے دوسروں کو تکلیف نہ ہو لوگوں کو اس کی قطعا فکر نہیں کہاں تک اصلاح کی جائے عجب ہڑ بونگ مچی ہوتی ہے ۔ ( انا للہ و انا الیہ راجعون )

You must be logged in to post a comment.