خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ حضرت فلاں صاحب میرے توسط سے معافی کی درخواست کرتے ہیں ۔ کل حضرت والا نے ان کی غلطی پر مواخذہ فرماتے ہوئے فرمایا تھا کہ اب براہ راست مکاتبت مخاطبت نہ ہو کسی کے واسطہ سے کہنا جو کچھ کہنا ہو ، فرمایا کہ دل و جان سے معاف کرتا ہوں ، انہوں نے میرا کوئی ضرر نہیں کیا لیکن تعلق رکھنا نہیں چاہتا اس لیے یہ موقوف ہے مناسبت پر اور اس حرکت سے معلوم ہو گیا کہ ان میں مجھ میں مناسبت نہیں ، لہذا خدمت سے معافی چاہتا ہوں ۔ ان صاحب نے عرض کیا کہ میں اپنی غلطی سمجھ چکا ہوں اور اچھی طرح محسوس کر چکا ہوں ۔ فرمایا کہ مجھ کو کیسے اطمینان ہو کہ جو شخص ایک ہفتہ تک اپنی غلطی محسوس نہ کر سکا وہ ایک دن میں کیسے محسوس کر سکتا ہے ۔ عرض کیا کہ مجھ میں بے فکری کا مرض ہے اب میں اپنی بے فکری کا علاج کروں گا ، فرمایا کہ کیوں خود بھی گڑبڑ میں پڑتے ہو اور کیوں دوسروں کو بھی پریشان کرتے ہو اجی دو طریق ہیں ایک بے خطر اور ایک خطرناک تو بے خطر طریق کو چھوڑ کر خطرناک کو اختیار کرنا اس کی ضرورت ہی کیا ہے وہ بے خطر یہ ہے کہ اصلاح کا تعلق مجھ سے رکھا ہی نہ جائے ایسے دوستانہ تعلق جیسا اور مسلمانوں سے ہے مجھ سے بھی رکھیں ۔ خدا نخواستہ مجھ کو کوئی عداوت تھوڑا ہی ہے ہاں بوجہ عدم مناسبت خدمت سے معذور ہوں ، جب عدم مناسبت کی بناء پر کوئی نفع نہ ہوا تو کیا نام کرنا ہے کہ ہمارا تعلق بھی فلاں شخص سے ہے ۔ یہ باتیں تو دکاندار پیروں کے یہاں ہوتی ہیں کہ ان کو ضرورت ہے فوج جمع کرنے کی مجھ کو تو ایسی باتوں سے نفرت ہے اگر تم چاہو گے تو کسی اور مصلح کا نام بتلا دوں گا ۔ عرض کیا کہ میں تو حضرت ہی سے تعلق رکھنا چاہتا ہوں ۔ فرمایا کہ مان نہ مان میں تیرا مہمان یہ وہی قصہ ہے کہ ایک شخص سے اس کے دوست نے پوچھا کہ آج کل کیا شغل ہے ، کہنے لگا کہ شہزادی سے نکاح کا انتظام کر رہا ہوں ۔ اس نے پوچھا کہ کیا کچھ سامان ہو گیا ، کہنے لگا کہ آدھا سامان ہو گیا ، آدھا باقی ہے اس نے پوچھا آدھا کیسے کہنے لگا کہ میں تو راضی ہوں وہ راضی نہیں ، عرض کیا کہ حضرت ہی مشورہ فرما دیں کہ مجھ کو اپنی اصلاح کا طریقہ کیا اختیار کرنا چاہیے اور مناسبت کس طرح پیدا ہو ، فرمایا کہ جس طرح آپ نے اپنی اصلاح کی فکر کی ہے اور سوچا ہے اسی طرح اس کے طریقہ کو بھی سوچئے اور یہ تو بالکل ہی خلاف اصول ہے کہ مجھ سے ہی مناسبت پیدا کرنا چاہتے ہو اور مجھ سے ہی اس کا طریقہ پوچھتے ہو ، اس کی بالکل ایسی مثال ہے کہ ایک شخص ایک عورت سے محبت کرنا چاہتا ہے اور اسی سے اس کا طریقہ پوچھتا ہے وہ کہے گی کہ کسی اور سے پوچھ اس کا خود بتانا بالکل غیرت کے خلاف ہے تو کیا یہ بھی میں ہی بتاؤں یہ کسی اور سے پوچھئے اور حضرت محبت و عقیدت میں بے فکری کہاں جس کا آپ نے ابھی اقرار کیا ہے اہل محبت کی تو حالت ہی دوسری ہوتی ہے ۔ جس کو سعدی فرماتے ہیں ۔
دمادم شراب الم درکشند وگرتلخ بینند دم درکشند
اور جو لوگ محبت سے خالی یا غافل ہیں ان کی نسبت کہا گیا ہے :
اے ترا خارے بپا نشکستہ کے دانی کہ چیست حال شیرا نے کہ شمشیر بلا برسر خورند
اہل محبت پر تو ہر وقت آرے اور بھالے چلتے ہیں ایک لمحہ اور ایک سیکنڈ بھی ان کو چین نصیب نہیں بلکہ اس کی یہ حالت ہوتی ہے :
جس کا دل دلبر میں ہو کب اس کو بس آتی ہے نیند کروٹیں ہی لیتے صاف اڑ جاتی ہے نیند
اور اس کی یہ حالت ہوتی ہے :
کشتگان خنجر تسلیم را ہر زماں از غیب جانے دیگر است
( ملفوظ 139 )بے اصول کوئی کام نہ کرنا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں صرف دوسروں ہی کو اصول پر مجبور نہیں کرتا خود بھی الحمد للہ کوئی بے اصول کام نہیں کرتا بعض لوگ آج کل کھانسی کی شکایت کی وجہ سے کوئی چیز بتلاتے ہیں حتی کہ بعض طبیب بھی یہاں پر آتے رہتے ہیں ۔ وہ بعض مرکبات استعمال کے لیے بتاتے ہیں ، میں کہتا ہوں کہ نسخہ لکھ دو تا کہ اس کی تمام اجزاء معلوم ہو جائیں اور پھر اس کو اپنے معالج کو دکھلا لوں اس وقت تک مرکبات استعمال نہیں کرتا بے قاعدہ اور بے اصول کام کرنے کو جی نہیں چاہتا ۔ یہ جی چاہتا ہے کہ سب کام اصول سے ہوں اس کی بدولت بدنام ہوں ، لوگوں کو اصولی باتوں سے وحشت ہوتی ہے ، اصول کے خوگر نہیں رہے ، بے ڈھنگا پن برتتے ہیں اس پر متنبہ کرتا ہوں بس یہی لڑائی ہے ۔
( ملفوظ 138 ) مسلمان خود خرابیوں کے ذمہ دار ہیں
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ بعضے ہمارے بھائی دوسروں پر الزم رکھتے ہیں کہ فلاں قانون تکلیف کا ہے فلاں آئین سے نماز کی فرصت نہیں ملتی لیکن اصل یہ ہے کہ سب خرابیوں کے ذمہ دار خود مسلمان ہی ہیں یہ خود ہی احکام سے اعراض کیے ہوئے ہیں پھر جب خود ہی ان کے قلوب میں احکام شرعیہ کی وقعت و عظمت نہیں اور خود ہی ان کی پابندی و احترام نہیں کرتے تو دوسری قومیں کیا احترام کریں گی اور ان سے کیا توقع کی جاسکتی ہے مثلا نماز کی پابندی مسلمانوں میں نہیں ، داڑھی منڈانا ان کا شعار ہو گیا ، دوسری قومیں بعض ایسی چیزوں کی پابند ہیں جو بظاہر نہایت دشوار ہیں مگر چونکہ ایک قوم کی قوم اس کی عامل اور پابند ہے اس میں کوئی بھی مداخلت نہیں کرتا حتی کہ حکومت بھی کسی قسم کی دست اندازی نہیں کرتی ۔ دیکھ لیجئے سکھوں کی قوم کو وہ داڑھی رکھنے کے پابند ہیں ان پر نہ پولیس میں نہ فوج میں کوئی بھی اعتراض نہیں کرتا ، حضرت ہماری شکایت واقع میں اپنا قصور دوسروں کے سر منڈھنا ہے اگر مسلمان فی الحقیقت مسلمان بن جائیں تو پھر آپ دیکھیں کہ ایک دم کایا پلٹ ہو جائے اور سب ان کے سامنے سر جھکا دیں ۔ ایک سیاح انگریز کا واقعہ ہے اس نے ایک رسالہ فضائل اسلام پر لکھا ہے یہ رسالہ ترجمہ ہو کر ندوہ کے ایک پرچہ میں نکلا تھا ۔ اس انگریز نے عرب کی بھی سیر کی ہے ۔ یہ جب عرب پہنچا ہے تو اس نے چند بدوی ملازم رکھے جو سفر میں اس کے ہمراہ بطور رہنما کے چلتے تھے ، آگے آگے یہ انگریز ہوتا تھا ، پیچھے پیچھے بدوی سب گھوڑوں پر سوار ہوتے تھے ، ایک مرتبہ سب سوار گھوڑوں پر چلے جا رہے تھے کہ ایک مقام پر پہنچ کر نماز کا وقت ہو گیا ، ان بدوؤں نے بدون اس انگریز کی اطلاع یا اجازت کے دفعتہ گھوڑے روک لیے اور اتر کر وضو کر کے نماز پڑھنا شروع کر دی ۔ انگریز نے پشت کی طرف دیکھا تو معلوم ہوا کہ گھوڑے کھڑے ہیں اور بدوی صف باندھے نماز پڑھ رہے ہیں ۔ اس انگریز کے سامنے نماز پڑھنے کا یہ پہلا موقع تھا وہ اس رسالہ میں لکھتا ہے کہ میں اس وقت ان کی صف سے الگ کھڑا ہوا خود اپنی نظر میں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا اپنے آقا کا سرکش غلام ہوں اور یہ فرمانبردار ہیں یہ شریف ہیں اور میں ذلیل ہوں اس وقت ایک کتے سے بدتر میں اپنی حالت کو پاتا تھا اور بے اختیار دل چاہتا تھا کہ میں بھی ان کی صف میں داخل ہو جاؤں ۔ پھر لکھتا ہے کہ اس ہی روز سے اسلام کی محبت میرے دل میں جگہ کر گئی اور فضائل اسلام پر یہ کتاب تصنیف کی ۔ اس واقعہ سے سبق مسلمانوں کو حاصل کرنا چاہیے ، اگر یہ خود احکام اسلام اور شعائر اسلام کے پابند ہو جائیں ، دوسروں پر خود بخود اثر ہو یہ بھی ایک نہایت زبردست تبلیغ ہے اسلام کی ۔ ایک پادری نے لکھا ہے مسلمانوں میں بڑا امتیاز یہ ہے کہ اپنے مالک کے سامنے شرمندہ نہیں سرخرو ہیں بخلاف دوسری قوموں کے غرض دوسروں کو بھی اسلام کی خوبیوں کا اقرار ہے مگر آج کل خود مسلمانوں ہی نے تعلیم اسلام کو بدنام کیا ہے ۔ اسلام مسلمانوں کی حالت کو دیکھ کر بزبان حال یوں کہتا ہے :
خندہ اہل جہاں کی مجھے پروا کیا تھی تم بھی ہنستے ہو مرے حال پہ رونا ہے یہی
3 شوال المکرم 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم پنج شنبہ
( ملفوظ 137 )فراغت کا انتظار شیطان کا دھوکہ ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ لوگوں کی بھی عجیب حالت ہے چاہتے یہ ہیں کہ کرنا تو کچھ پڑے نہیں اور کام سب ہو جائیں اور بعض شب و روز اس انتظار میں رہتے ہیں کہ فلاں کام سے فراغت ہو جائے ، فلاں مقدمے سے نمٹ لیں ، فلاں کی شادی سے فارغ ہو جائیں ، تب خدا کی یاد لگیں چونکہ ایسی فراغت میسر نہیں ہوتی اس لیے ایسا شخص کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا ، محروم ہی رہتا ہے اور ایک دن موت آ کر کام تمام کر دیتی ہے ، یاس اور حسرت کی حالت میں خسران کی گٹھڑی سر پر رکھے ہوئے اس عالم سے رخصت ہو جاتا ہے ،
کام کرنے کی صورت تو یہ ہی ہے کہ اس آلودگی کی حالت میں خدا کی طرف متوجہ ہو جاؤ اس کی برکت سے فراغ بھی میسر ہو جائے گا ، تمہارا آج کل کرنا ایسا ہے جس کو فرماتے ہیں :
ہر شبے گویم کہ فردا ترک ایں سودا کنم باز چوں فردا شودا امروز را فردا کنم
( ہر رات یہ ارادہ کرتا ہوں کہ کل کو اس گناہ کو چھوڑ دوں گا ، پھر جب کل کا دن ہوتا ہے تو پھر کل ہی کا ارادہ کرتا ہوں )
کس کا فراغ اور کس کا انتظار اور دنیا میں رہتے ہوئے کہاں فراغ یہ نفس و شیطان کا ایک بڑا زبردست کید ہے لوگ رسائی کی تو تمنا کرتے ہیں مگر معلوم بھی ہے کہ رسائی کے لیے کچھ شرائط بھی ہیں جن میں پہلی شرط یہ ہے تم برے ہو یا بھلے اس طرف متوجہ ہو جاؤ ۔ پھر رحمت حق تم کو خود بخود جذب کرے گی ۔ طالب کی شان تو یہ ہونا چاہیے جیسے مولانا فرماتے ہیں :
اندریں رہ می تراش و می خراش تادم آخر دمے فارغ مباش
تادم آخر دمے آخر بود کہ عنایت باتو صاحب سر بود
( راہ سلوک میں نشیب و فراز بہت ہیں ۔ لہذا آخر دم تک ایک لمحہ کیلئے بھی غافل مت ہو ۔ آخر وقت تک آخر کار ایک لمحہ ایسا ہو گا کہ تم پر حق تعالی کی عنایت ہو ہی جائے گی ۔)
ذرا کام میں تو لگ کر دیکھو تمہاری اس ٹوٹی پھوٹی ہوئی متاع کو کیسے قبول فرماتے ہیں ۔ اس کو بھی مولانا فرماتے ہیں :
خود کہ یا بد ایں چنیں بازار کہ بیک گل می خسری گلزار را
( ایسا بازار جہاں ایک پھول کے بدلہ میں پورا کا پورا باغ مل جاتا ہو ، ہر کسی کو نہیں ملتا )
صاحبو ! جو لوگ اس آرزو میں بیٹھے ہیں کہ فراغ میسر ہو تو خدا کی یاد میں لگیں بے فکری ہو تو اس طرف متوجہ ہوں یہ غیر ممکن ہے بدون تعلق بحق کے بے فکری غیر ممکن ہونے پر ایک قصہ یاد آ گیا ۔ ایک شخص تھا اس کو خضر علیہ السلام سے ملنے کی بے حد تمنا تھی ، ایک بار ملاقات ہو گئی ، فرمایا ملاقات سے تیری کیا غرض ہے ۔ اس نے عرض کیا کہ حضرت میرے لیے دعا کر دیجئے کہ میں دنیا میں بے فکر ہو کر زندگی بسر کر سکوں ۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا کہ اس کی صورت صرف یہ ہو سکتی ہے کہ کسی شخص کو منتخب کر کے دعا کرا لے کہ تو ایسا ہو جائے جیسا فلاں
شخص اس نے منظور کیا اور مدت کے بعد ایک جوہری کو منتخب کیا جس کو ظاہرا کوئی فکر اور غم نہ تھا اور تمام سامان عیش اس کو میسر تھا ارادہ کیا اس کی سی حالت کی دعا کرا لوں ۔ پھر خیال کیا کہ خود اس سے تو پوچھ لوں کبھی ایسا نہ ہو کہ کسی مخفی مصیبت میں مبتلا ہو اور میں بھی اسی میں مبتلا ہو جاؤں ۔ آخر اس سے مل کر پوچھا کہ یہ واقعہ ہے اور میں خضر علیہ السلام سے یہ دعا کرانا چاہتا ہوں اس لیے تمہاری حالت تحقیق کرنا چاہتا ہوں ۔ اس نے ایک آہ بھری اور کہا کیا پوچھتے ہو جائداد بھی ہے ، مال بھی ہے ، جاہ بھی ہے ، عزت بھی ہے مگر ایک ایسی مصیبت میں گرفتار ہوں کہ خدا دشمن کو بھی نہ دے اور قصہ بیان کیا کہ مجھ کو اپنی بیوی سے محبت بدرجہ عشق تھی وہ بیمار ہو گئی میں رونے لگا ، اس نے کہا کہ تم خواہ مخواہ روتے ہو میرے بعد دوسری شادی کر لو گے ، میں نے یقین دلایا کہ ہر گز ایسا نہ ہو گا ، اس نے کہا سب باتیں ہی ہیں ، میں نے اس کو یقین دلانے کیلئے اپنا عضو مخصوص کاٹ کر اس کے سامنے رکھ دیا ، کہ لے اب تو یقین آ گیا پھر وہ اچھی ہو گئی ، اب جو غم مجھ کو ہے بیان نہیں کر سکتا ، اتفاق سے پھر خضر علیہ السلام سے ملاقات ہوئی اس نے عرض کیا کہ حضرت واقعی دنیوی زندگی بے فکری کی نہیں ہو سکتی ۔ اب دعا کر دیجئے کہ اللہ تعالی آخرت درست کر دے ۔
( ملفوظ 136 )انہماک فی الدنیا کا علاج
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ انہماک فی الدنیا نہایت ہی مبغوض چیز ہے حق تعالی فرماتے ہیں :
یایھا الذین امنوا لا تلھکم اموالکم ولا اولادکم عن ذکر اللہ
ترجمہ یہ ہے کہ اے مسلمانو ! تم کو تمہارا مال اور تمہاری اولاد خدا کر ذکر سے غافل نہ کر دے اور بعض بزرگوں نے یہاں تک بیان کیا ہے کہ نفرت عن الدنیا کی غرض سے بھی کبھی اس کی طرف متوجہ نہیں ہونا چاہیے اس میں تو کدورات ہی کدورات ہیں اس کی طرف جس غرض سے بھی توجہ کی جائے ظلمات سے خالی نہیں ، بس سب میں بہتر نسخہ یہ ہے کہ انسان حق تعالی کی طرف متوجہ رہے کام میں لگا رہے انشاء اللہ تعالی ایک دن ایسا آئے گا کہ قلب سے یہ چیزیں خود بخود کافور ہو جائیں گی اور حق ہی حق جلوہ گر رہ جائے گا البتہ اگر کسی کی خصوصیت طبیعت کی وجہ سے شیخ قبائح کا مراقبہ تجویز کرے وہ ضرورت کا موقع اور اس کلیہ سے مستثنی ہے ۔
( ملفوظ 135 )حضرت کا دوسروں کی بے حد رعایت فرمانا
ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت یہاں پر رہ کر تو اگر کسی کتاب کا ترجمہ وغیرہ کرنا چاہتا ہوں تو سب کام بسہولت ہو جاتے ہیں اور دوسری جگہ جا کر ایسی گڑبڑ ہوتی ہے کہ کچھ کام نہیں ہوتا ، فرمایا کہ اس کا سبب یہ ہے کہ یہاں پر ہر شخص بے فکر ہے جس طرح جس کا جی چاہے اوقات منضبط کر سکتا ہے اور دوسری جگہ اپنے متعلقین پر خوب حکومت چلاتے ہیں اس لیے اکثر اوقات پریشان رہتے ہیں یہاں پر بحمد اللہ سب کی راحت کا خیال رکھا جاتا ہے حتی کہ کسی کو میری نسبت یہ شبہ تک بھی تو نہیں ہوتا کہ نہ معلوم کس وقت بلا بھیجے مجھ کو اگر مولوی شیر علی سے کچھ کہنا ہوتا ہے تو خود جا کر کہتا ہوں ان کو نہیں بلاتا ۔ اسی طرح آ کر کبھی حکیم صاحب سے اپنی کسی حالت کے بیان کرنے کی ضرورت پڑتی ہے تو خود ان کے پاس جاتا ہوں اور جانے سے پہلے حکیم صاحب کو اطلاع کر دیتا ہوں کہ بشرط آپ کی فرصت کے میں فلاں وقت آؤں گا ۔ ایک مرتبہ میں نے اسی طرح کہلا کر بھیجا تو حکیم صاحب نے کہا کہ میں خود آؤں گا ، میں نے منع کرا کر بھیج دیا کہ ان کا بلانا اصول کے خلاف ہے محتاج کو محتاج الیہ کے پاس جانا چاہیے ، بدنام کرنے والے ان امور کو نہیں دیکھتے کہ میں اصول صحیح کو اپنے اوپر بھی جاری کرتا ہوں اور جن چیزوں میں بدنام کرتے ہیں ان کی حقیقت یہ ہے کہ آنے والے خود مجھے چھیڑتے ہیں پھر میں ان کے چھیڑنے کے حقوق ادا کرتا ہوں ۔
( ملفوظ 134 )ترکی ٹوپی
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل گو ترکی کی ٹوپی عام ہو گئی ہے مگر کم از کم مقتداء لوگ تو اس کو استعمال نہ کریں اور جو کر رہے ہیں وہ ترک کر دیں یہ کوئی اسلامی لباس نہیں اور میں فتوی میں آگے تو نہیں بڑھتا مگر مجھ کو تو ایسے لباس کو دیکھ کر انقباض ہوتا ہے ۔
( ملفوظ 133 )حضرت غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا دھوبی
ایک مولوی صاحب کے ایک سوال کے جواب میں فرمایا آپ تو اسی پر تعجب کر رہے ہیں ، میں نے مولانا فضل الرحمن صاحب گنج مراد آبادی سے خود اس سے زیادہ عجیب ایک حکایت سنی ہے جس میں توجیہ کی بھی ضرورت ہے اور کوئی بیان کرتا تو شاید یقین ہونا بھی مشکل ہوتا اور بہت ممکن تھا کہ میں سن کر رو دیتا وہ یہ کہ ایک دھوبی کا انتقال ہوا ، جب دفن کر چکے تو منکر نکیر نے آ کر سوال کیا : ” من ربک ما دینک من ھذا الرجل ”
وہ جواب میں کہتا ہے کہ مجھ کو کچھ خبر نہیں میں تو حضرت غوث اعظم رحمۃ اللہ کا دھوبی ہوں اور فی الحقیقت یہ جواب اپنے ایمان کا اجمالی بیان تھا کہ میں ان کا ہم عقیدہ ہوں جو ان کا خدا ، وہ میرا خدا جو ان کا دین وہ میرا دین اسی پر اس کی نجات ہو گئی ۔ باقی اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کا ایمان بھی اجمال ہی تھا محض تعبیر اجمالی تھی ۔
( ملفوظ 132 ) بچوں کو بھی صحبت سے فائدہ ہوتا ہے
مولوی عبدالمجید صاحب نے سوال کیا کہ حضرت والا کی خدمت میں بچے آ کر بیٹھتے ہیں ان کو کوئی نفع ہوتا ہے ، فرمایا کہ برابر ہوتا ہے صحبت میں بیٹھنے سے انس ہوتا ہے اور انس پر موقوف ہے نفع کا ہونا ، فرمایا کہ انس کے نافع ہونے پر ایک قصہ یاد آ گیا ، ضلع مظفر نگر کا رہنے والا ایک ہندو ایک مسلمان کی صحبت میں رہ کر مسلمان ہو گیا اور وطن سے جلا وطن ہو کر کان پور پہنچ گیا ۔ اہل باطل کو فکر رہتی ہی ہے تکثیر کی اس بیچارے کا کوئی ٹھکانا نہ تھا ایسے ہی پھر رہا تھا ایک شیعی صاحب مل گئے وہ اس کو اپنے گھر لے گئے ، بڑی خاطر کی اس کے بعد اپنی نماز سکھانی چاہی ، اس نے کہا کہ یہ تو اور طرح کی نماز ہے میں نہیں پڑھوں گا ، میرا دوست تو اور طرح کی نماز پڑھتا تھا ، وہی مجھ کو سکھائی ہے وہی پڑھتا ہوں اور پڑھوں گا یہ جواب دے کر میرے پاس آ گیا ، میں اس وقت کان پور میں مقیم تھا اور آ کر یہ سب واقعہ بیان کیا ۔ یہ حفاظت انس ہی کی بدولت ہوئی اور کفر سے نکل کر اسلام میں داخل ہو گیا ، یہ سب انس ہی کے کرشمے ہیں ۔
( ملفوظ 131 )حضرت کی ایک عبارت کی روایت بالمعنی و بے معنی
قبل از نماز ظہر مصلے پر تشریف لے جاتے ہوئے فرمایا کہ آج ایک صاحب کا خط آیا ہے جس میں مجھ پر اعتراض کیا ہے اس میں لکھا ہے کہ کلید مثنوی میں تم نے یہ فلاں بات اس طرح لکھ دی ہے ۔ میں مضمون خط کو دیکھ کر حیرت میں رہ ہی گیا کہ اللہ یہ تو میرے عقیدہ کے خلاف ہے میں ایسا مضمون کیسے لکھ سکتا ہوں ، پھر غضب یہ کہ پورا پتہ لکھا ہے کہ جلد فلاں مقام فلاں صفحہ فلاں پر یہ مضمون ہے ۔ میں نے کلید مثنوی دیکھی تب معلوم ہوا کہ حضرت نے اس میں تحریف کی ہے میری عبارت ہی نہیں ۔ میری عبارت سے جو خود سمجھے ہیں اس کو لکھا ہے کہ تو نے یہ لکھا ہے خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ممکن ہے کہ کاتب سے غلطی ہوئی ہو ، فرمایا کاتب سے اتنی بڑی غلطی نہیں ہو سکتی کہ صفحہ کا صفحہ بدل ڈالے یہ تو ان حضرت کی بدفہمی کا ثمرہ ہے میری عبارت اور مضمون سے جو مفہوم خود سمجھے اس کو میری طرف
منسوب کر دیا کہ تم نے یہ لکھا ہے ۔ فرمایا کہ امانت دیانت لوگوں سے اٹھ ہی گئی ، خط کے جواب میں ان کی خبر لوں گا ۔ پھر سوال جو آگے کیا ہے وہ نہایت معقول مگر عبارت کے سمجھنے میں نامعقول رہے ۔ سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل علم ہیں خواجہ صاحب نے دریافت کیا کہ کون صاحب ہیں ، فرمایا ایسے سینکڑوں ہیں میں کیا جانوں کون بلا ہیں ۔
فرمایا یہ چاہیے تھا کہ میری عبارت بجنسہ نقل کر کے یہ لکھتے کہ میں اس کا مفہوم یہ سمجھا ہوں کیا یہ صحیح ہے باقی میری عبارت کا وہ مفہوم ہی نہیں جو وہ سمجھے ، اب اس بد فہمی کا کیا علاج افسوس اہل علم سے بھی امانت ، دیانت اٹھ ہی گئی ۔ تماشا ہے عبارت اپنی لکھی ہوئی اور منسوب میری طرف میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ میرے عقیدہ کے خلاف اور میں ایسی بات لکھوں ۔ میری عبارت ہی کو نہیں سمجھے میری عبارت کا مطلب ہی نہیں ایسے بد فہموں کا کیا کوئی علاج کر سکتا ہے ؟ یہ فرما کہ نماز ظہر پڑھانے کے لیے مصلے پر تشریف لے گئے ۔ بعد نماز ظہر فرمایا کہ جواب نرم لکھوں گا ، شرارت نہیں کی بلکہ سمجھے نہیں ، بیچارے معذور ہیں ، کم فہمی کا کیا علاج ہے ، شکایت صرف یہ ہے کہ سمجھ سے کام نہیں لیا ۔ خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ کیا ایسی غلطی بھی ہو سکتی ہے کہ اتنا تغیر تبدل کر دیا ؟ فرمایا کہ فہم کی غلطی ایسی ہی ہوتی ہے ۔ میں جواب لکھ کر ابھی مضمون سناتا ہوں ، آپ مجھ کو یہ بھی لکھتے ہیں کہ جواب مشرح اور مفصل دیجئے ، مغلق اور اجمالی نہ ہو ۔ فرمایا آج کل اگر ہر نقل پر اعتماد کرے اچھی خاصی گمراہی پھیل جائے ، اس شخص نے تو بالکل تحریف ہی کر دی ، پھر جواب تحریر فرمایا کہ میں نے ان کو ابھی دوسری دفعہ سوال کرنے کا محتاج ہی رکھا ہے ۔ اس کے بعد حضرت والا نے کلید مثنوی لے کر اس مقام کو پڑھ کر سنایا کہ یہ ہے وہ مضمون جس پر ان کو شبہ ہوا اور وہ سمجھے نہیں حلانکہ بالکل بے غبار ہے میری عبارت کو روایت بالمعنی بنا کر اس پر شبہ کیا ہے ۔ خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ نقل بالمعنی کر دی ، فرمایا بے معنی کر دی ، ہاں بالمعنی کہنا اس معنی کو صحیح ہے کہ معنی کو بل میں کر دیا ۔ اس لطیفہ میں بالمعنی کی رسم خط سے قطع نظر کر کے تلفظ کا اعتبار کیا کہ بالمعنی کے اول لفظ بل بولا جاتا ہے اور بے معنی کر دی میں تو کہا کرتا ہوں کہ اگر کسی کو لکھنا آئے اور سمجھ نہ ہو یہ بھی خدا کا قہر ہے نہ معلوم کیا لکھ رہا ہے کسی کو جیسے ان بزرگ نے میرے مضمون کا ناس کر دیا اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے ایک منہیار چوڑیوں کی گٹھڑی لیے جا رہا تھا ایک گنوار لٹھ لیے راستہ میں ملا ، اس کی گٹھڑی پر ایک لٹھ مار کر پوچھا ، ابے اس میں کیا ہے اس نے کہا میاں ایک اور مار دو تو کچھ بھی نہیں ۔ خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ عجیب جواب دیا ، فرمایا کہ آپ جواب کو عجیب لیے پھرتے ہیں اس کی تمام چوڑیوں ہی کا چورا ہو گیا ، ایسے ہی ان صاحب نے میرے مضمون کے ساتھ معاملہ کیا ۔ فرمایا جواب دیکھ کر خوش نہ ہوں گے کہیں گے کہ سوال کا پھر محتاج رکھا جواب نہ دیا ۔ دیکھئے میرے لکھنے سے مقام کو سمجھ جائیں گے یا نہیں ، مشکل ہے ایسے کم فہم کی سمجھ میں کیا آئے گا ۔

You must be logged in to post a comment.