( ملفوظ 130 )مجلس کا بعذر ملتوی فرمانا

فرمایا ارادہ تھا کہ سویرے کھانا کھاؤں اور تھوڑی دیر آ کر بیٹھوں مگر دیر ہو گئی ، کام بہت ہی ہے اس وجہ سے اس وقت بیٹھنا نہ ہو گا ، فرمایا کہ حضرت والا مکان پر تشریف لے گئے اور مجلس خاص بوقت صبح موقوف رہی ۔
2 شوال المکرم 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم چہار شنبہ

( ملفوظ 129 )معاشرت دین کا جزو ہے

فرمایا کہ لوگ اہل و عیال کے حقوق کی قطعا پرواہ نہیں کرتے ، حکومت کرنا جانتے ہیں ۔ یہ خیال نہیں کرتے کہ جن پر حکومت کرتے ہیں ان محکوموں کا بھی کوئی حق ہمارے ذمہ ہے یا نہیں ، معاشرت کو تو دین کی فہرست سے نکال کر ہی رکھا ہے ، اس باب میں بڑی کوتاہی ہو رہی ہے اور ان سب گڑبڑوں کا سبب دین سے غفلت ہے ۔

( ملفوظ 128 )حرام مال مسجد کی تعمیر میں لگانا

احقر جامع نے دریافت کیا کہ رنڈی کی آمدنی جو بالیقین حرام ہے اور اس کا صرف کرنا جائز نہیں ہے اگر وہ اس آمدنی سے کسی مسکین فقیر و غیرہ پر صدقہ یا خیرات کر دے اور پھر وہ مسکین مالک ہونے کے بعد کسی مسجد یا مدرسہ میں دے دے تو جائز ہے یا نہیں ؟ فرمایا نہیں اور یہ قاعدہ جو مشہور ہے کہ شرعا تبدل ملک سے تبدل عین ہو جاتا ہے یہ مطلق و عام نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شے ایسی ہے کہ حلال تو ہے مگر کسی عارض کے سبب ایک شخص کو دی جائے جس کے لیے جائز ہے اور پھر وہ شخص اس دوسرے کو دے دے جس کے لیے اس عارض سے حرام تھا ، مثلا زکوۃ ہاشمی اور غنی کو حرام ہے فقیر مسکین کو جائز ہے ۔ اب اگر زکوۃ کسی فقیر مسکین غیر ہاشمی کو دیدی جائے اور وہ مالک ہو کر ہاشمی یا غنی کو دے دے تو جائز ہے ۔ حدیث بریرہ میں آیا ہے :
لک صدقۃ و لنا ھدیۃ
اور جو شے اپنی ذات میں حرام ہے وہ سب کے لیے حرام ہے اس میں تبدل ملک کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ کتنی ہی ملکیں بدلیں وہ حرام کی حرام ہی ہے جیسے چوری کا مال غصب کا مال زنا کی اجرت البتہ اس صورت میں فقہاء نے ایک حیلہ لکھا ہے وہ یہ کہ رنڈی کسی حلال مال سے قرض لے کر مسجد میں دے ، یہ جائز ہے اس لیے کہ قرض لینا جائز ہے اور اس کو پھر جہاں سے چاہے ادا کر دے اس صورت میں مسجد وغیرہ میں لگا سکتے ہیں مگر چونکہ اس رقم سے قرض ادا کرنا ناجائز ہے اس لیے کسی مہاجن سے قرض لے کر دے دے کسی مسلمان سے قرض لے کر نہ دینا چاہیے تا کہ وہ مسلمان حرام سے محفوظ رہے ۔ یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے اور ایسا بھی جب کرے جب کوئی مجبوری ہو ورنہ بچنا ہی مناسب ہے ۔ مولوی بیچارے ان ہی باتوں سے عوام میں بدنام ہو جاتے ہیں کہ ہیر پھیر خوب جانتے ہیں حلانکہ ان ہی عوام کے واسطے یہ صورتیں نکالیں ، اس کا یہ صلہ ملا ۔

( ملفوظ 127 )کافروں کا مسجد کی تعمیر میں چندہ دینا

ایک صاحب نے دریافت کیا کہ اگر کوئی ہندو مسجد میں بطور امداد رقم دے ، لے لینا جائز ہے یا نہیں ؟ اور اس رقم کو مسجد کی تعمیر میں صرف کیا جا سکتا ہے یا نہیں ؟ جواب فرمایا جائز ہے پھر دریافت فرمایا کیا کوئی ہندو ایسا ہے جو مسجد میں چندہ دینا چاہتا ہے ؟ عرض کیا کئی شخصوں نے خواہش ظاہر کی مگر بغیر مسئلہ پوچھے لینا مناسب نہیں سمجھا ، فرمایا اگر لیا جائے تو دو باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے ایک تو یہ کہ وہ دینے والے ایسے نہ ہوں کہ دے کر احسان جتلائیں ۔ دوسرے یہ کہ اس سے مسلمان متاثر ہو کر ان کے مذہبی چندہ میں شریک نہ ہونے لگیں ۔ اس خیال سے کہ انہوں نے ہمارے یہاں چندہ دیا تھا ہم کو بھی دینا چاہیے ۔ ممکن ہے کہ وہ مندر بنانے لگے تو وہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے مسجد میں دیا تھا تم مندر میں دو ، سو ایسی جگہ چندہ لینا بھی جائز نہیں اور اگر ان باتوں کا اندیشہ نہ ہو تو لے لیا جائے کوئی حرج نہیں اور یہ قرائن سے معلوم ہو سکتا ہے ۔ عرض کیا گیا اس کا تو احتمال ہے کہ شاید ایسا ہو کہ وہ اپنے مذہبی چندہ میں شریک کریں ، فرمایا تو ایسی صورت میں لینا جائز نہیں ۔

( ملفوظ 126 )پہلے کے مجانین اور اب کے مجازین

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مولوی سالار بخش صاحب گو صحیح الادراک نہ تھے مگر ذہین بڑے تھے ، ان کی باتیں عجیب و غریب ہوتی تھیں ، باہر جب نکلتے تھے تو منہ پر نقاب ہوتا تھا کہ کہیں کافر کو ان کا چہرہ نظر نہ آ جائے ۔ ایک شخص تھا قمرالدین نام کا اس سے کچھ خفا ہو گئی تھی تو ایک روز وعظ میں بیان کیا کہ اس کو بعضے لوگ کہتے ہیں کمرو یعنی بھونڈا منہ بعضے کہتے ہیں خمرو یعنی ٹیڈہا بعضے کہتے ہیں قمرو یہ اصل میں ہے قم رو یعنی اٹھ چلا جا عالم کی مجلس میں سے ۔ ایک مرتبہ کسی نے کہا کہ مولوی صاحب سالار بخش کیا نام ہے جس کے معنی ہیں سالار کا بخشا ہوا یہ تو شرک ہے تو کہتے ہیں کہ یہ تو اللہ کا نام ہے ۔ یہ اصل میں سال آر یعنی سال کا لانے والا تو وہ کون ہوا بجز اللہ تعالی کے حضرت مولانا گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کو ان کی طرف سے خیال تھا کہ یہ میرے بتلائے مسائل پر ناحق کے اعتراضات کیا کریں گے ، بس یہ تدبیر کی کہ ایک مرتبہ مولوی سالار بخش صاحب گنگوہ آئے ہوئے تھے ۔ حضرت مولانا سے ایک شخص نے مسئلہ پوچھا ، حضرت نے فرمایا کہ آج کل مولوی سالار بخش صاحب آئے ہوئے ہیں وہ ہم سب کے بڑے ہیں ، ہم ان کے ہوتے ہوئے مسئلہ کیا بتائیں انہیں سے جا کر دریافت کرو ، یہ شخص وہاں پہنچا اور جا کر مولوی صاحب سے مسئلہ دریافت کیا اور حضرت کا یہ مقولہ بھی نقل کر دیا ۔ مولوی صاحب اس کو سن کر بہت خوش ہوئے اور کہا کہ وہ بھی بڑے عالم ہیں بس انہیں سے جا کر دریافت کرو ہم نے یہ کام ان ہی کے سپرد کر دیا ہے ۔ اب یہ ہی سلسلہ ہو گیا کہ جو مولوی صاحب کے پاس مسئلہ پوچھنے آتا حضرت کا نام بتلا دیتے ۔ یہ حضرت کی فراست تھی کسی لطیف تدبیر سے کام نکال لیا ۔ سچ یہ ہے کہ اس زمانے کے مجانین بھی اچھے ہی تھے آج کل کے تو مجازین بھی شاید ایسے نہ ہوں ۔ ایسا کوئی کر کے تو دکھلائے اور ہمیشہ حضرت کے ثناء خواں رہے ۔
2 شوال المکرم 1350 ھ مجلس بوقت 9 بجے صبح یوم چہار شنبہ

( ملفوظ 125 ) حاکم کی عقلمندی اور لطیف تدابیر

فرمایا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے حکم فرمایا تھا کہ بازار میں تجارت کے لیے وہ بیٹھے جو فقیہ ہو ، مطلب یہ تھا کہ جتنے آ کر اس سے خریدیں گے چونکہ ان سب کو خرید و فروخت کے معاملات ایسے لوگوں سے پڑیں گے تو وہ سب کے سب بھی فقیہ ہو جائیں گے ۔ اس تدبیر سے سارے ملک کو درسگاہ اور خانقاہ بنا دیا تھا ۔ بڑی لطیف تدبیر تھی حکومت سے سب کام سہولت سے بن سکتے ہیں اس کی تائید میں حکایت بیان فرمائی کہ عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ نے طلباء کو پریشان دیکھ کر قصد کیا کہ ان کا کہیں ٹھکانا کریں اور بیت المال پر بار نہ ہو ۔ ایک روز بیٹھے ہوئے حوض پر وضو کر رہے تھے ایک رئیس بھی وہاں پر موجود تھے ان سے امتحانا ایک مسئلہ دریافت کیا ، وہ بیچارے مسئلہ کیا بتلا سکتے وہ کیا جانیں کہ مسئلہ کیا چیز ہے نہ بتا سکے ۔ عالمگیر بہت خفا ہوئے کہ شہر میں اس قدر اہل علم اور طلباء موجود ہیں تم سے یہ نہیں ہوتا کہ ان سے مسائل پوچھ پوچھ کر یاد کر لیا کرو ۔ اسی روز تمام امراء میں کھلبلی مچ گئی ۔ اہل علم اور طلباء کی قدر ہو گئی ، ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایک ایک کو اپنے یہاں رکھ لیا ، حکومت کا یہ اثر ہوتا ہے ۔ اسی سلسلہ میں فرمایا یہ جو مشہور ہے کہ وزیر عاقل ہونا چاہیے گو بادشاہ بے وقوف ہو ۔ محض غلط ہے ، بادشاہ ہی کا عاقل ہونا ضروری ہے ورنہ بادشاہ کو وزیر کا تابع ہو کر رہنا پڑے گا تو اس صورت میں وزیر بادشاہ اور بادشاہ وزیر ہو گا ۔ فرمایا کہ بادشاہ کے بیوقوف اور وزیر کے عاقل ہونے پر مولانا فخرالحسن صاحب گنگوہی کا لطیفہ یاد آیا ۔ ایک مرتبہ کہا کہ اگر مجھ کو سلطنت مل جائے تو حضرت مولانا محمد قاسم صاحب کو وزیر بناؤں اور حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب کی نسبت کہا کہ ان کو جرنیل بناؤں غرضیکہ سب کے عہدے تجویز کرنے کے بعد کہا کہ میں بادشاہ بنوں ۔ ایک صاحب نے کہا کہ یہ کیا کہ حضرت مولانا کو تو وزیر اور خود کو بادشاہ تجویز کیا ، کہا کہ میاں بادشاہ تو بیوقوف ہوتا ہے اور وزیر عاقل اس لیے بادشاہ ہونا میں اپنے لیے پسند کرتا ہوں اور مولانا کو وزیر تجویز کیا ہے ۔

( ملفوظ 124 )نری تحقیقات بیکار ہیں

فرمایا کہ بعض لوگوں کو تحقیقات کا بہت شوق ہوتا ہے ، وقت بیکار کھوتے ہیں کام میں لگنا چاہیے ، محض تحقیقات سے کیا ہوتا ہے ، زیادہ سے زیادہ تحقیقات سے فن کی تدوین ہو جائے گی مگر نتیجہ کچھ نہ ہو گا ۔ اگر آدمی کام کرے تو تحقیق بھی خود ہو جاتی ہے بلکہ ایک خاص بات یہ مشاہد ہے کہ جو شخص کام نہ کرے وہ سوال بھی نہیں کر سکتا ۔ سوال بھی کام کرنے والا ہی کر سکتا ہے تو وہ تحقیقات ہی کرے گا ۔ دوسری بات یہ ہے کہ کام کرنے والے کے سوال پر جو جواب ہو گا پھر اس کو اس پر شکوک وارد ہوں گے پھر ان شکوک کے جواب کی ضرورت ہو گی ۔ بس وہ اسی کام کا ہو رہے گا اور کام کرنے والے کو جواب ملے گا اس میں شبہ اس واسطے نہیں ہو سکتا کہ اس کو حالت مشاہد ہو گی وہ تکذیب کر نہیں سکتا بخلاف کام نہ کرنے والے کے صرف قال ہی قال ہے حال نہیں اس لیے اس کو شکوک پیش آئیں گے غرض بغیر کام کیے ہوئے تحقیق سے اور خلجان بڑھتا ہے ۔

( ملفوظ 123 )تعلقات کم کرنے کی نصیحت خاص

فرمایا کہ مولوی صاحب نے بذریعہ پرچہ آج صبح اپنے حالات سے اطلاع دی تھی میں نے ان کے جواب دیدئے ۔ ایک یہ بات دریافت کی تھی کہ مجھ کو کوئی خاص وصیت فرما دی جائے ۔ اس کا جواب میں نے یہ دیا کہ جہاں تک ممکن ہو تعلقات کم کرنے چاہیں ۔ خواجہ صاحب نے دریافت کیا کہ تعلقات سے حضرت کی کیا مراد ہے ؟ فرمایا ان مولوی صاحب کو دوسروں کے معاملات میں گھسنے کا اور مشوروں میں پڑھنے کا بہت شوق ہے ، آدمی کو آزاد ہو کے رہنا چاہیے ۔ عرض کیا کہ اگر کوئی مشورہ لے یا کوئی بات پوچھے تو کیا بتلا دے ، فرمایا کہ آج کل تو یہ بھی مناسب نہیں ۔ یہ باتیں تجربے سے تعلق رکھتی ہیں ، اسی میں راحت ہے کہ دوسروں کے قصہ جھگڑوں میں نہ پڑے ۔ اسی کو مولانا فرماتے ہیں :
ہیچ کنجے بے دود بے دام نیست جز بخلوت گاہ حق آرام نیست
( دنیا کا کوئی کونہ درندوں اور کشمکشوں سے خالی نہیں ہے ، بجز خلوت حق کے کہیں حقیقی راحت نہیں )

( ملفوظ 122 ) دانت گرنے کی تعبیریں

مولوی عبدالمجید صاحب نے عرض کیا کہ میں اکثر خواب میں دیکھتا ہوں کہ میرے تمام دانت داڑھ نکل کر گر پڑے ، فرمایا ہمارے حضرت مولانا محمد یعقوب فرمایا کرتے تھے کہ دانت سخت چیز ہے اس سے سختی دور ہونا ہے ایک اور بھی اس کی تعبیر ہو سکتی ہے کہا کرتے ہیں کہ دندان آز تیز ہو گیا پس اس خواب سے مراد ہے کہ حرص جاتی رہی ۔ ایک اور تعبیر ہے جو بعض دانتوں کے ساتھ خاص ہے یعنی سامنے کے دانتوں کے ساتھ ۔ پس اس سے مراد نمائش اور ریاء کی اصلاح ہے کیونکہ یہ سامنے کے دانت زینت اور نمائش ہی کے لیے ہوتے ہیں ۔ خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ سامنے کے دانت حضرت مخارج کی ادا کے لیے بھی تو ہو سکتے ہیں ۔ فرمایا کہ مخارج تو مسوڑھوں سے بھی ادا ہو سکتے ہیں ۔ چناچہ حضرت مولانا گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے دانت نہ رہے تھے مگر قرآن شریف پڑھنے کے وقت یہ نہ معلوم ہوتا تھا کہ حضرت کے دانت نہیں ہیں ۔ احقر جامع نے دریافت کیا کہ حضرت گنگوہی کی عمر کیا تھی ؟ فرمایا تقریبا اسی سال کی تھی ۔ ایک صاحب نے حضرت گنگوہی سے عرض کیا تھا کہ حضرت دانت بنوا لیجئے ، فرمایا کیا ہو گا دانت بنوا کر پھر بوٹیاں چبانی پڑیں گی ، اب تو دانت نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو رحم آتا ہے ، نرم نرم حلوا کھانے کو ملتا ہے ، حضرت بڑے ہی ظریف تھے ۔

( ملفوظ 121 )اندر کی رونق

خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ حضرت آج بہت لوگ رخصت ہو رہے ہیں ، بڑی ہی رونق تھی ، فرمایا اجی حضرت اندر رونق چاہیے اگر اندر رونق ہے تو باہر بھی معنی رونق ہے اگرچہ صورت نہ ہو ۔