آج 3 بجے والے گاڑی سے بعض حضرات رخصت ہونے والوں سے حضرت والا نے مصافحہ فرما کر فرمایا کہ بعض لوگ ادب کی وجہ سے مصافحہ کے لیے تازہ وضو کر کے آتے ہیں میرے ہاتھ میں سن چڑھ گیا ، ان میں سے بعض کے ہاتھ مانند برف کے ٹھنڈے تھے ، معلوم نہیں ظہر کا وضو اس قدر جلد کیوں توڑ دیا گیا بڑا ادب تو یہ ہے کہ اس کا اہتمام کرے کہ دوسروں کو راحت پہنچے ۔
( ملفوظ 119 ) لکھتے وقت مضامین کی آمد
مولوی اسعداللہ صاحب کو تلخیص البدایہ کا ترجمہ کرتے ہوئے ایک مقام پر حل کی ضرورت پیش آئی ۔ حضرت والا نے فرمایا کہ میری یہ حالت ہے اگر خود لکھتا ہوں تو آمد مضامین کی اور کیفیت ہوتی ہے مشورہ کے وقت وہ بات نہیں ہوتی ۔
( ملفوظ 118 ) وقار کب اچھا اور کب برا ؟
فرمایا کہ آج کل لوگوں میں وقار عرفی کا مرض پیدا ہو گیا ہے جو حقیقت میں کبر ہے اور کبر بڑی ہی مضر چیز ہے اس سے اجتناب کی سخت ضرورت ہے ۔ حق تعالی جس پر اپنا فضل فرمائیں ، وہی بچ سکتا ہے ۔ البتہ جہاں اس میں شرعی مصلحت ہو وہاں اس کی صورت بھی مطلوب ہے اس کے متعلق ایک حکایت امیر شاہ خاں صاحب نے بیان کی ۔عجیب حکایت ہے نواب ٹونک وزیر الدولہ حضرت سید صاحب کے مرید تھے ۔ ایک خان صاحب ان کے پیر بھائی تھے وہ اکثر ان سے لوگوں کی سفارش کیا کرتے تھے ۔ ایک روز ایک شخص کی دربار میں سفارش کی ، نواب صاحب نے قبول نہ کی ، پیر بھائی صاحب نے نواب صاحب کے سر دربار ایک دھول رسید کی اس وقت تو نواب صاحب کچھ نہ بولے جس وقت کچہری ختم ہو چکی تنہائی میں پیر بھائی کو لیجا کر عرض کیا کہ اگر سر بازار آپ میرے جوتے لگائیں میرے لیے عین فخر کی بات ہے میرے دل میں آپ کی ایسی ہی وقعت و عظمت ہے لیکن سر دربار ایسا کرنا مناسب نہیں وہ بھی اس وجہ سے کہ اللہ تعالی نے مجھ کو خدمت خلق کے سپرد کی ہے اس کے لیے ضرورت ہے کسی قدر رعب کی اور اس سے رعب نہیں رہتا تو خدمت میں خلل پڑے گا اس لیے دربار میں ایسا نہ کیا کریں ، دیکھو ایسوں کو ضرورت تھی وقار کی باقی وہ خود مقصود بالذات نہیں اور کبر تو خود ہی قبیح ہے ۔
( ملفوظ 117 ) حضرت حاجی صاحب کا مقام
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ کوئی کیا زہد اور تقوی کا دعوی کر سکتا ہے کیا کوئی علم پر ناز کر سکتا ہے وہاں ناز سے کچھ کام نہیں چل سکتا ، نیاز کی ضرورت ہے ، دیکھئے اوپر کی حکایت میں کتنے بڑے شخص کی نظر سے ایک دقیقہ مخفی رہ گیا ۔ یہ مسئلہ حضرت شاہ حاجی صاحب کے یہاں حل ہوا کہ نفس کی تلبیس سے بعض اوقات ضروری پہلو تک بھی نظر نہیں پہنچتی ۔ چناچہ حضرت حاجی صاحب سے جب کوئی عرض کرتا کہ حضرت نوکری چھوڑ دوں اس پر حضرت فرماتے کہ نوکری مت چھوڑو کام میں لگو جب کام کرو گے خود بخود نوکری چھوڑ دو گے اور وہ وقت ہو گا کہ اس چھوڑنے کا تحمل ہو گا اور بدون کام کیے ہوئے قوت تحمل کی نہ ہو گی تو ممکن ہے کہ اس چھوڑنے سے ایسی پریشانی ہو جو دین میں مضر ہو ۔ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نے ایک مرتبہ حضرت حاجی صاحب سے عرض کیا کہ حضرت میرا ایک جگہ نوکری کا تعلق ہے اگر حضرت اجازت فرمائیں تو چھوڑ دوں ۔
حضرت نے جواب میں فرمایا کہ مولوی صاحب ابھی تک تو آپ پوچھ ہی رہے ہیں یہ پوچھنا خود دلیل ہے تردد کی اور تردد دلیل ہے خامی کی اور خامی کی حالت میں ملازمت کا تعلق چھوڑنا موجب تشویش قلب ہو گا اور جس وقت قلب میں قوت پیدا ہو جائے گی اس وقت خود بخود چھوڑ دو گے ۔ اگر کوئی روکے گا بھی نہ مانو گے ۔ یہ ہے حضرت کی شان مشیخت اور فن کی مہارت کی اور یہ سب حضرت ہی کا صدقہ ہے جس کو میں اس وقت بیان کر رہا ہوں ۔ حضرت اس فن کے امام کے امام تھے ، مجتہد تھے ، مجدد تھے ، حضرت پیدا ہوئے اس زمانہ میں مگر ان میں روح تھی پہلوؤں کی کیسی پاکیزہ اور پرمغز تعلیم فرمائی جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ آج رازی اور غزالی نہیں پیدا ہوتے وہ حضرت حاجی صاحب کے ان ملفوظات کو دیکھیں اور فیصلہ کریں کہ غزالی رازی اب بھی ہوتے ہیں یا نہیں ، یہ شان تھی حضرت کی :
برکفے جام شریعت برکفے سندان عشق ہر ہوسنا کے نداند جام و سنداں باختن
یکم شوال المکرم 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم سہ شنبہ
( ملفوظ 116 )نفس ، دیندار کو دینی رنگ سے مارتا ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ہر وقت آدمی کو اپنے نفس کی دیکھ بھال اور نگرانی میں لگا رہنا چاہیے یہ نفس کم بخت ہر رنگ میں مارتا ہے حتی کہ دیندار کو دنیا میں دین کا رنگ دکھا کر مبتلا کر دیتا ہے خیر جو کچھ بھی ہوا جس وجہ سے بھی ہو سخت ضرورت ہے نگرانی کی کسی کو بھی بے فکر نہ ہونا چاہیے اس پر تفریعا ایک حکایت بیان فرمائی کہ حضرت شاہ عبدالقادر صاحب کو ایک غیرب آدمی نے ایک دھیلا بطور ہدیہ پیش کیا ۔ حضرت شاہ صاحب نے یہ عذر کیا کہ تم غریب آدمی ہو تم سے کیا لیں گے ، وہ بیچارہ خاموش ہو گیا مگر حق تعالی کو یہ بات ناپسند ہوئی ۔ حضرت شاہ صاحب کے فتوحات بند ہو گئے فکر ہوئی غور کیا دعاء کی قلب پر وارد ہوا کہ اس دھیلے کے لوٹانے سے ایسا ہوا اس شخص سے وہ دھیلا مانگو ، چناچہ مانگا جب فتوحات کا دروازہ کھلا ، بعض لوگ فخر کرتے ہیں کہ معاصی پر بھی ہماری نسبت باطنی باقی رہتی ہے وہ آنکھیں کھولیں کہ کیسی بات پر عتاب ہو گیا جس میں معصیت کا شبہ بھی نہیں ہو سکتا لیکن واقع میں عتاب کی بات ضرور ہو گی ۔ شاید یہ وجہ ہو کہ اصل سبب رد کا نفس کا ترفع ہو جس کا عنوان نفس نے مہدی کی مصلحت تراش لیا ہو اس لیے کہتا ہوں کہ نفس کی نگرانی کی سخت ضرورت ہے ۔
( ملفوظ 115 ) ہر زمانے کے انوار جدا ہونا
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ بعض لوگوں کو تو یہاں تک صحیح ادراک ہوتا ہے کہ رمضان کے قبل اور بعد میں فرق معلوم ہو جاتا ہے قبل کا اور رنگ ہوتا اور بعد کا اور رنگ اور رمضان شریف کے ایام میں اور رنگ
( ملفوظ 114 ) مسخرے کو مس ہو گیا ہو گا کسی خر سے
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت فلاں شخص باوجود دیندار ہونے کے مسخرے ہیں اور ان کی بعض باتیں مسخرے پن کی بیان کیں ، حضرت والا نے سن کر مزاحا فرمایا کہ ان کو مس ہو گیا ہو گا ، کسی خر سے یہ اس کا اثر ہے ۔
( ملفوظ 113 ) ہر چیز کا اپنی حد پر ہونا
خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ حضرت جن صاحب کو حکیم صاحب کے سپرد کیا گیا تھا انہوں نے حکیم صاحب سے رجوع کر لیا ہے وہ یہاں پر آئے ہوئے ہیں ، آج وہ وطن واپس جا رہے ہیں ۔ حضرت سے معلوم یہ کرنا ہے کہ جن لوگوں کو مکاتبت مخاطبت کی اجازت نہیں وہ جانے کے وقت حضرت سے مصافحہ کر سکتے ہیں یا نہیں ؟ فرمایا کہ علت تو اذیت ہے مصافحہ میں کون سی اذیت ہے ہاتھ ملایا چل دیئے مکاتبت مخاطبت میں گڑبڑ کرتے ہیں اس سے تکلیف ہوتی ہے میرے یہاں الحمد للہ ہر چیز حد پر ہے ۔
میں تو کہا کرتا ہوں کہ جو لوگ مجھ کو سختی میں بدنام کرتے ہیں وہ خدا کو تو کیا پہچانیں گے جب بندوں ہی کو نہیں پہچانتے ان کو یہی خبر نہیں سختی کیا چیز ہے فرمایا کہ قدسی صاحب میرے پاس بیٹھے تھے وہ اس وقت مریض تھے میں ایک شخص کو ان کے سامنے ڈانٹ رہا تھا ، فورا ان کی حالت کی طرف ذہن منتقل ہوا ، میں نے ان سے پوچھا کہ اس سے آپ کو تو کوئی تکلیف نہیں ہوئی ، کہا کہ مرعوب ہو رہا ہوں ، میں نے کہا آپ تو مرغوب ہیں مرغوب کو مرعوب نہ ہونا چاہیے بس خوش ہو گئے ، میں نے کہا کہ آئندہ انشاء اللہ آپ کے سامنے کبھی کسی کو کچھ نہ کہوں گا ۔
( ملفوظ 112 )حاکم نہ ڈھیلا ہو نہ ڈھیلا
ایک مولوی صاحب کے جواب میں فرمایا کہ میں کب کہتا ہوں کہ بادشاہ کو ڈھیلا یعنی حد سے زیادہ نرم ہونا چاہیے ، میں تو یہ کہتا ہوں کہ ڈھیلا بمعنی کلوخ یعنی زیادہ سخت نہ ہونا چاہیے ، بادشاہ کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسا بن کر رہنا چاہیے ۔ حق تعالی سے ہیبت کرنے میں خاص اثر ہوتا ہے کہ اس کی ہیبت دوسروں کے قلب میں ہوتی ہے ۔ مولانا فرماتے ہیں:
ہر کہ تر سید از حق و تقوی گزید ترسد ازوے جن و انسان ہر کہ دید
اور فرماتے ہیں :
ہیبت حق است ایں از خلق نیست ہیبت آں مرد صاحب دلق نیست
( جس نے تقوی اختیار کیا اور اللہ سے ڈرتا رہا اس کی ہیبت جن انسان بلکہ جو اس کو دیکھتا ہے سب پر ہوتی ہے ، یہ ہیبت حقیقت میں حق تعالی کی ہوتی ہے اس مخلوق کی یا اس گدڑی والے کی نہیں ہوتی ۔ 12 )
( ملفوظ 111 )نواب حیدر آباد سے ملاقات نہ کرنا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حیدر آباد دکن گیا تھا ، بعض مخلص احباب نے مجھ سے اجازت لی کہ ہم نواب صاحب سے ملاقات کرانے کی کوشش کریں مگر میں نے یہ سمجھ کر کہ چونکہ سلاطین میں سے ہیں اس لیے تو ان کو تو نفع نہ ہو گا اور جو ہم کو ان سے نفع ہو سکتا ہے وہ بقدر ضرورت اللہ نے ہم کو بھی دے رکھا ہے اس ملاقات کو پسند نہیں کیا اس لیے میں احتیاط کرتا ہوں کہ بڑے دنیاداروں کو میں مرید نہیں کرتا ۔ ایک ہندی مقولہ مشہور ہے کہ حاکم کی اگاڑی اور گھوڑے کی پچھاڑی سے الگ ہی رہنا بہتر ہے ۔ گھوڑا پیچھے سے لات مارتا ہے بادشاہ آگے سے ہاتھ مارتا ہے ۔

You must be logged in to post a comment.