ایک مولوی صاحب کے جواب میں فرمایا کہ میں باستثناء بعض مواقع کے کہ احتمال لغزش کا ہو جاتا ہے اکثر اوقات الحمد للہ ڈانٹ ڈپٹ کرنے کے بعد بھی نہیں پچھتاتا بلکہ کہتا ہوں کہ اچھا ہوا جو کہا سنا کہنا ہی چاہیے تھا جیسے باپ اگر بیٹے کو ضرورت اور حدود کے اندر ڈانٹ ڈپٹ کرے اور اس سے اس کی اصلاح کی توقع ہو تو باپ خوش ہو گا یا پچھتائے گا ظاہر ہے کہ خوش ہو گا ۔
( ملفوظ 109 ) کون سے امراء کو مرید کرے ؟
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں امراء کو مرید نہیں کرتا اس لیے کہ ان کی تربیت نہیں ہو سکتی ۔ تربیت کے لیے ضرورت ہے کہ ڈانٹ ڈپٹ بھی ہو اور نواب یا بادشاہ اس کو کب برداشت کر سکتے ہیں ۔ مرید ایسے ہی کو کرے کہ جن کو کم از کم گدھا
تو کہہ سکے ۔ ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ پھر وہ اس نعمت سے محروم ہی رہیں ۔ فرمایا کہ اگر چاہیں تو محروم نہیں رہ سکتے اس کا بھی ایک طریقہ ہے ہر ایک عذر کا جواب اللہ نے دل میں پیدا فرما دیا ہے وہ یہ ہے کہ قبل از بیعت اس درجہ کی بے تکلفی پیدا کر لیں پھر بیعت ہوں دیکھو کیسے اصلاح کی جاتی ہے جس سے حکومت اور ریاست سب کو بھول جائیں مگر اکثر وہاں ان چیزوں کی ضرورت بھی کم ہوتی ہے اس لیے کہ امراء میں سے اکثر فقیروں کے پاس وہی امراء آتے ہیں جو واقع میں اپنی طبیعت سے فقراء ہی ہوتے ہیں اور یہ ان کی فہم سلیم ہونے کی پہلی دلیل ہے پھر فہم سلیم کے ہوتے ہوئے وہ ایسی بیہودگی اور بے تمیزگی کیوں کریں گے جس سے ایسی سیاست کی ضرورت واقع ہو ۔
( ملفوظ 108 )قواعد یاد ہو جانے سے بے فکری
فرمایا ایک روز ڈاک میں خطوط زائد آئے تو ایک صاحب کہنے لگے کہ آج تو خط بہت ہیں ، میں نے کہا کہ جب تک ضابطے یاد ہیں کیا فکر ہے بالکل ایسا ہی قصہ ہے کہ ایک مکان میں ایک سخی رہتا تھا سائلوں کو بہت دیتا تھا ، اتفاق سے سخی نے اس مکان کو چھوڑ دیا اور ایک بخیل صاحب آ کر رہے ، عادت کے موافق سائلوں کا ہجوم رہتا تھا مگر یہ سب کو اللہ کریم کر کے رخصت کر دیتا ، عرب میں دستور ہے کہ جہاں سائل سے اللہ کریم کہا سائل فورا واپس ہو جاتا ہے ۔ ایک روز بخیل بہت پریشان ہو کر گھر میں گیا اس کی لڑکی نے پریشانی کا سبب دریافت کیا اس نے کہا یہاں کثرت سے سائل آتے ہیں ، لڑکی نے کہا جب تک اللہ کریم یاد ہے اس وقت تک کیا پریشانی
تو ایسے ہی جب تک ضابطے یاد ہیں کیا فکر جیسا چاہا جواب لکھ دیا ، مثلا یہ ہی لکھ دیا کہ یہ مضمون غیر ضروری ہے تو جب تک مثلا یہ یاد ہے کیا فکر ۔
( ملفوظ 107 )مرید کا شیخ سے مزاحمت کرنا
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ مرید کا شیخ کے ساتھ طریق میں مزاحمت کرنا ایسا ہے جیسے بیٹا باپ کے ساتھ مزاحمت کرے اور شاگرد استاد کے ساتھ مزاحمت کرے اور کوئی نوکر اپنے آقا یا افسر کے ساتھ مزاحمت کرے ، چاہے مرید کی کوئی خاص رائے مفید ہی ہو مگر آئندہ کے لیے دروازہ کھلتا ہے اور اس کی عادت پڑتی ہے اس لیے شیخ اس کو مٹا دیتا ہے ۔ اب یہ چیزیں مدون تھوڑا ہی ہیں یہ اجتہادی اور ظنی باتیں ہیں
اہل فن سمجھ سکتے ہیں ۔ غیر اہل فن کے بس کا کام نہیں جیسے طبیب حاذق سمجھتا ہے امراض کو اور غیر حاذق تو گڑبڑ ہی کرے گا سمجھے گا خاک بھی نہیں ۔
( ملفوظ 106 )اصلاح کے طریقہ میں شیخ اکبر کیساتھ شرکت
ایک مولوی صاحب کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ اصلاح کے اس خاص طریق کے متعلق جو میرا معمول ہے یعنی داروگیر بعض اوقات خود مجھ کو شبہ ہوتا تھا کہ اپنے بزرگوں کے خلاف نہ ہو گو اصلاح تو اپنے بزرگ بھی فرماتے ہی تھے مگر وہاں یہ خاص صورت یعنی روک ٹوک داروگیر محاسبہ نہ تھی مگر آداب الشیخ رسالہ دیکھ کر بڑی قوت ہوئی کہ میں اس طرز میں تنہا نہیں ہوں بلکہ اتنا بڑا شیخ بھی میرے ساتھ ہے بلکہ جو آداب شیخ اور مرید کے اور طریق تربیت و تعلیم کے اس میں شیخ نے لکھے ہیں اور قیود پابندیاں عائد کی ہیں اس قدر تو اب تک بھی میرے یہاں نہیں ۔ پس میرا وہ شبہ کہ یہ میرا طرز بدعت نہ ہو ، شیخ امام محی الدین ابن عربی کا رسالہ آداب الشیخ دیکھ کر جاتا رہا ۔
اسی سلسلہ میں فرمایا کہ میرے سامنے ایک صاحب حکیم عبدالمجید خاں صاحب دہلوی کے پاس مرض جذام کے علاج کو آئے ، حکیم صاحب نے نبض دیکھ کر اور حالات معلوم کر کے فرمایا کہ کچھ قیام کی ضرورت ہے اس پر مریض صاحب نے کچھ مشغولی کاروبار ریاست کے سبب عذر کیا اور عرض کیا کہ نسخہ لکھ دیجئے گا اور وہ نسخہ تھا خاندانی اور من جملہ اسرار ۔ اس پر حکیم صاحب بگڑ گئے ، فرمایا کہ کل کو کہنا کہ اپنی بیٹی دے دو اور بہت سخت سست کہا ، بیچارا بہت ہی ذلیل و خوار کی طرح کھڑا رہ گیا ، بہت ہی شرمندہ ہوا اور حکیم صاحب ہیں کہ برس رہے ہیں واقعی اہل کمال میں استغنا ہوتا ہے ۔
( ملفوظ 105 ) شیخ وہ ہے جس میں دین انبیاء علیہم السلام کا سا ہو
ایک سلسلہ گفتگو میں حضرت شیخ اکبر کا قول نقل فرمایا کہ شیخ وہ ہے جس میں دین انبیاء علیہم السلام کا سا ہو تدبیر اور تجویز طبیب کی سی ہو ، سیاست و داروگیر محاسبہ و معاقبہ بادشاہوں کا سا ہو
( ملفوظ 104 ) شیخ کامل اور قلب کی صفائی
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ شیخ کی مثال بالکل طبیب کی سی ہے اگر طبیب اناڑی ہے تو پھر جان کی خیر نہیں ۔ جیسا کہ مقولہ مشہور ہے کہ ( نیم حکیم خطرہ جان نیم ملا خطرہ ایمان ) بعض اناڑی شیخ سب کو ایک ہی لکڑی سے ہانکتے ہیں ۔ اسی سبب سے لوگوں کی تربیت اور اصلاح نہیں ہوتی جیسے ایک طبیب کا قصہ ہے کہ کسی مریض کا علاج کیلئے بلائے گئے مریض کی چارپائی
کے نیچے نارنگی کے چھلکے پڑے ہوئے تھے ، حکیم صاحب نے نبض دیکھ کر فرمایا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم نہ نارنگی کھائی ہے اس مریض نے اقرار کیا کہ بیشک کھائی ہے ۔ حکیم صاحب کے صاحبزادے بھی ساتھ رہتے تھے ، مکان پر آ کر حکیم صاحب سے دریافت کیا کہ آپ
نے یہ کیسے معلوم کر لیا تھا کہ اس مریض نے نارنگی کھائی ہے ۔ حکیم صاحب نے فرمایا کہ بیٹا اس کی چارپائی کے نیچے نارنگی کے چھلکے پڑے ہوئے تھے بس اب کیا تھا صاحبزادے کے ہاتھ ایک قاعدہ کلیہ آ گیا ۔ گو وہ ایک واقعہ جزئیہ تھا اب حکیم صاحب کے بعد صاحبزادہ کا زمانہ آیا ۔ ایک مریض کو دیکھنے کے لیے بلائے گئے ، اتفاق سے اس مریض کی چارپائی کے نیچے نمدہ پڑا ہوا تھا ، آپ نبض دیکھ
کر فرماتے ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم نے نمدہ کھایا ہے ، لوگوں نے اس کو وہاں سے یہ کہہ کر نکال دیا کہ تمہاری دم میں نمدہ یہ تو ایک حکایت ہے جو میں نے توضیح کے لیے اس وقت بیان کی مگر آج کل حالت مشائخ کی یہ ہی ہو رہی ہے کہ سب کو ایک ہی وظیفہ ایک ہی ورد یہ سب باتیں فن سے واقف نہ ہونے کی بدولت ہو رہی ہیں ۔ تصوف کو ان لوگوں نے بدنام کر دیا ، تصوف کی جو حقیقت حضور صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے زمانہ میں تھی اس کو تو لوگوں نے مستور بلکہ مقصود ہی کر دیا ۔ شیخ کو تو ایسا حکیم ہونا چاہیے جیسے ایک بزرگ کے پاس ایک شخص مرید ہونے گئے ، بزرگ نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس کچھ مال ہے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان کو مال سے محبت ہو گی ، عرض کیا کہ سو روپیہ ہیں ، فرمایا ان کو علیحدہ کر کے آؤ عرض کیا بہت اچھا ، دریافت فرمایا کہ کس طرح کرو گے ، عرض کیا کہ مسکین کو دیدونگا ، فرمایا کہ اس میں تو حظ ہو گا نفس کو کہ ہم نے بڑی سخاوت کی ، دریا میں پھینک کر آؤ عرض کیا کہ بہت اچھا دریافت فرمایا کہ دریا میں کس طرح پھینکو گے ، عرض کیا کہ ایک دم سب کو لے جا کر پھینک آؤں گا ، فرمایا کہ نہیں ایک روپیہ روز پھینک کر آؤ تاکہ نفس پر روزانہ آرا چلا کرے ۔ یہ ہے شیخ ہونے کی شان ، امراض کا علاج مثل طبیب کے کرتے ہیں ، سب کو ایک ہی لکڑی نہیں ہانکتے ، بعض سے مال جدا کراتے ہیں اور بعض کو مال جمع کرنے کو کہتے ہیں بعض مشائخ نے تو سلطنت تک ترک کرا دی جس کو آج انتہائی معراج کا زینہ لوگ سمجھتے ہیں اور جس کے پیچھے دین ایمان قربان کرنے کو تیار ہیں ۔ معلوم بھی ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی بعثت کا اصل راز یہ ہے کہ وہ دنیا کو قلب سے نکالیں ، گو ہاتھ میں بقدر ضرورت رہے قلب تو بس حق تعالی ہی کے رہنے کی جگہ ہے ۔ صاحبو ! قلب کو صاف رکھو نہ معلوم کس وقت نور حق اور رحمت حق قلب پر جلوہ گر ہو جائے اس لیے ہر وقت اس کے مصداق بنے رہو ۔
یک چشم زدن غافل ازاں شاہ نباشی شاید کہ نگاہے کند آگاہ نباشی
( اس بادشاہ کی طرف ایک لمحہ کو بھی غافل نہ ہو ممکن ہے کہ وہ توجہ فرما دے اور تجھے خبر بھی نہ ہو )
ان فضولیات کو چھوڑو کیوں اپنی عاقبت خراب کرتے ہو مسلمانوں اور کافروں میں تو یہی فرق ہے کہ مسلمان عاقبت کی فکر میں لگے ہیں اور
دنیا کو چھوڑے ہوئے ہیں اور کفار عاقبت کو چھوڑے ہوئے ہیں اور دنیا کی فکر میں لگے ہیں ان کفار کی انہماک کی بالکل یہ حالت ہے :
عاقبت سازد ترا ازدیں بری ایں تن آرائی و ایں تن پروری
( یہ بدن کے بناؤ سنگھار میں لگا رہنا انجام کار تیرے دین ہی کو برباد نہ کر دے ۔ )
اور اسی مضمون کو فرماتے ہیں جس میں مسلمانوں اور کافروں کے مقصود کا فرق معلوم ہوتا ہے ۔
انبیاء در کار دنیا جبری اند کافراں درکار عقبے جبری اند
( انبیاء علیہم السلام تو دنیا کے کاموں میں جبری ہیں کہ جب کوئی کام اپنی مرضی کے خلاف دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اللہ کی یہی مرضی تھی ہمارا اس میں کیا اختیار ہے اور کفار آخرت کے کاموں میں جبری ہیں کہ نماز نہ پڑھیں اور جب کوئی باز پرس کرے تو کہیں کہ بھائی اللہ کا حکم ہو گا جب ہی پڑھیں گے ورنہ ہمارے اختیار میں کیا ہے ۔ انبیاء علیہم السلام آخرت کے کاموں میں اپنے کو مختار سمجھ کر ان کے کرنے کی کوشش فرماتے ہیں اور کافر لوگ دنیا کے کاموں میں کوشش کرتے ہیں اور ان کو اپنے اختیار میں سمجھتے ہیں ۔ 12 )
مسلمانو ! تمہاری فلاح اور بہبود اسی میں ہے کہ تم خداوند جل جلالہ کے راضی کرنے کی فکر کرو ، پھر تو دین کے ساتھ دنیا بھی تمہاری جوتیوں سے لگی پھرے گی ، تم دین اختیار کرو پھر دنیا تو تمہاری لونڈی غلام ہے تم سے پہلے بھی کر کے دکھلا گئے باوجود سلف کے نظائر کے تم ان واقعات کو نظر انداز کر رہے ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ تم مصائب و آلام کا شکار بنے ہوئے ہو کس طرح دل میں دل ڈال دو اور کس طرح اطمینان دلاؤں ، قسم سے زائد اور کوئی ذریعہ اطمینان کا اس وقت میرے پاس نہیں ، میں خدا کی قسم کھا کر عرض کرتا ہوں ، واللہ ثم واللہ ثم واللہ اگر تم خدا کے دین کی رسی کو مضبوط پکڑ لو جس کو حق تعالی فرماتے ہیں :
واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا
تو پھر تم سلف کی طرح تمام دنیا کے مالک بن جاؤ مگر مشکل تو یہ ہے کہ آج کل مسلمانوں کی باگ ڈور ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو اپنے سے بے خبر ہیں اس ہی لیے مسلمان تباہ حال ہیں ایسوں ہی کے متعلق کسی نے خوب کہا ہے :
گربہ میروسگ وزیر وموش را دیواں کنند ایں چنیں ارکان دولت ملک را ، یراں کنند
( بلی کو صدر اعظم ، کتے کو وزیر اعظم اور چوہے کو وزیر مملکت بنا لیں تو یہ ارکان سلطنت ملک کو ویران ہی کریں گے ۔ )
چھوڑ ان فضولیات کو مسلمانوں کا مذاق تو قرآن و حدیث کے مطابق یہ ہونا چاہیے جس کو فرماتے ہیں :
ما قصہ سکندر و دارا نخواندہ ایم از ما بجز حکایت مہرو وفا مپرس
( ہم نے سکندر دارا کے قصے نہیں پڑھے ہم سے حق تعالی کے عشق اور ان سے وفاداری کی باتوں کے سوا کچھ مت پوچھو ۔ 12 )
اس ملفوظ اور ایسے ہی اور ملفوظات سے کسی کو یہ شبہ نہ ہونا چاہیے کہ حضرت مسلمانوں کو دنیا کے تمام کاموں کو ترک کر کے خانقاہ کے کونہ میں بیٹھنے کا تعلیم فرما رہے ہیں کیونکہ یہ تعلیم تو اللہ و رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت کیخلاف ہے اللہ تعالی نے انسان کو اس عالم میں اپنا خلیفہ بنا کر
بھیجا ہے تو اس عالم کے تمام انتظامات کرنا عین مرضی حق کے مطابق ہے تو اس کی تعلیم کیسے دی جاسکتی ہے ۔ حضرت کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان کو دست بکار دل بیار ہونا چاہیے جس طرح مسلمانوں نے حق تعالی سے بالکل تعلق قطع کر لیا ہے اور سراپا دنیا میں منہمک ہو گئے ہیں اس کی اصلاح مقصود ہے اس کو یوں سمجھ لو کہ اگر کسی کو کوئی غم پیش آ جائے یا کوئی اور فکر مقدمہ فوجداری کی لگ جائے تو یہ شخص کھاتا بھی ہے پیتا بھی ہے ، دنیا کے سارے کام کرتا ہے ۔ مگر دل میں ہر وقت وہی غم اور فکر سوار ہے اور ایسا کوئی نہ کوئی واقعہ ہر شخص کو پیش آ ہی جاتا ہے تو جو کیفیت اس غم اور فکر کے وقت قلب اور ظاہری اعضاء کی ہوتی ہے وہی کیفیت مسلمان کی ہونا چاہیے کہ دل میں اللہ بسا ہو اور ہاتھ پیروں سے امور سلطنت انجام دیا جاتا ہو جس کو حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم اور ان کے متبعین برسوں تک کر کے دکھا گئے ہیں ۔ نوکری کرو ، تجارت کرو ، زراعت کرو ، سلطنت کرو ، مگر دل میں تعلق مع اللہ ہو جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ جس طرح آج ہم اپنے حاکم یا امریکہ اور لندن والوں کی رضاجوئی کے لیے اپنی مصلحتوں تک کو فوت کر دیتے ہیں دل میں اللہ سے تعلق ہونے پر ان کی مرضی کے آگے اپنی مصلحتوں اور خواہشوں کو نہایت خوشی سے چھوڑ کر حق تعالی کی مرضی پر چلیں گے اور بہت سہولت سے چلیں گے ۔ خوب سمجھ لو
( ملفوظ 103 )علماء کی کم ہمتی کی وجہ
بعض مفاسد کے متعلق ایک مولوی صاحب کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ سب کچھ خرابی نا اہلوں کے علم پڑھ لینے کی بدولت ہو رہی ہے ۔ ان میں اکثر طماع ( لالچی ) ہیں اور بعض جگہ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ امراء نے اپنے بچوں کو علم دین پڑھانا چھوڑ دیا ، غرباء علم دین پڑھتے ہیں تو وہ کہاں سے بلند حوصلہ لائیں ، سو یہ انتخاب کی غلطی ہے جس کی ذمہ دار قوم ہے اہل علم کی شان تو یہ ہونی چاہیے کہ وہ اپنی فاقہ مستی پر نازاں ہوں اور خوش رہیں اور کسی اہل دنیا کی طرف ہاتھ نہ پھیلائیں بلکہ منہ بھی نہ لگائیں علماء کو تو اس کا مصداق بننا چاہیے ۔
ایدل آں بہ کہ خراب ازمے گلگوں باشی بے زرد گنج بصد حشمت قاروں باشی
یہ تو مال کے ساتھ ان کا معاملہ ہو اور جاہ کے ساتھ یہ ہو کہ
در رہ منزل لیلی کہ خطر ہاست بجاں شرط اول قدم آنست کہ مجنوں باشی
غرض ان اہل علم کو تو دنیا اور دنیا والوں پر نظر بھی نہ کرنا چاہیے بلکہ یہ کہہ دینا چاہیے :
مااگر قلاش دگر دیوانہ ایم مست آں ساقی و آں پیمانہ ایم
حضرت شاہ عبدالقدوس صاحب قدس سرہ گنگوہی کی یہ حالت تھی کہ کثرت سے آپ کے گھر فاقے رہتے تھے ۔ حضرت میں زہد کی شان
کا بہت ہی غلبہ تھا حالانکہ ابراہیم لودھی بادشاہ کی بہن آپ کی مرید تھیں مگر ان سے کوئی ہدیہ وغیرہ قبول نہیں کیا جاتا تھا جس کا سبب ان کا کوئی نقص نہ تھا ، ان کی تو یہ حالت تھی کہ حضرت یہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر بزرگوں کے طریقہ کے خلاف نہ ہوتا تو میں اس عورت کو خلافت دیتا ۔ غرض آپ کے یہاں فاقوں کی یہاں تک نوبت پہنچ جاتی کہ گھر میں سے گھبرا جاتیں تو فرمایا کرتے کہ گھبراؤ نہیں
ہماری راحت کا سامان ہو رہا ہے ، وہ پوچھتیں کہاں ، فرماتے جنت میں سامان ہو رہا ہے ۔ وہ بھی ایسی تھیں کہ اس پر قانع ہو جاتیں گھر میں
ان کے پاس ایک چاندی کا ہار تھا ۔ جب شیخ گھر میں آتے تو فرماتے کہ دنیا کی بو آتی ہے ، اتفاق سے ایک بزرگ حضرت کے گھر مہمان ہو کر تشریف لائے ، ان سے حضرت کے گھر میں سے شکایت کی کہ رکن الدین کی شادی کی ضرورت سے میرے پاس چاندی کا ایک ہار ہے مگر اس کے متعلق بھی جب گھر میں تشریف لاتے ہیں تو فرماتے ہیں کہ دنیا کی بو آتی ہے تب ان بزرگ نے شیخ سے فرمایا کہ میاں اس بیچاری کے کیوں پیچھے پڑے ، تم کو سب کی دنیا سے کیا بحث ، پھر کبھی کچھ نہیں فرمایا اور ان بیچاری کی جان بچی اور وہ ہار محفوظ رہا ورنہ گھر میں سے اس کے نکال دینے کیلئے بھی سر تھے ۔ یہ شان اہل علم کی ہونا چاہیے اس پر خواہ کوئی
اعتراض کرے خواہ دیوانہ سمجھے ، یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ آج کل ترقی کا زمانہ ہے ایسے لوگوں کو جو کہ دنیا کو ترک کرتے ہیں تو توکل یا زہد کرتے ہیں بیوقوف اور دیوانہ سمجھتے ہیں ۔ بس اس کا یہ جواب دینا چاہیے :
اوست دیوانہ کہ دیوانہ نہ شد مرعسس رادید و درخانہ نشد
( ملفوظ 102)ہم تو عاشق احسانی ہیں
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت حاجی صاحب فرمایا کرتے تھے کہ عاشق کی دود قسمیں ہیں عاشق ذاتی اور عاشق احسانی تو ہم عاشق احسانی ہیں ( عاشق ذاتی یعنی ذات حق کا عاشق اور عاشق احسانی یعنی جو انعامات الہیہ کی وجہ سے عاشق ہو) سبحان اللہ کیا
ٹھیک بات فرمائی اگر ہم کو کوئی تکلیف نہ ہو اور نعمتیں فائض ہوتی رہیں تو زہد بھی ہے اور توکل بھی ہے تہجد بھی ہے معلوم ہوتا ہے کہ شیخ المشائخ ہیں اور جہاں کوئی تکلیف یا راحت میں کمی ہوئی سب ختم جیسے ایک ظریف شاعر نے ایک طوطے کی تاریخ موت لکھی ہے :
میاں مٹھو جو ذاکر حق تھے رات دن ذکر حق رٹا کرتے
گربہ موت نے جو آ دابا کچھ نہ بولے سوائے ٹے ٹے ٹے
پس ہم اطمینان میں ذاکر اور مصیبت میں اصلی بولی پر آ جاتے ہیں ۔ اسی طوطے کے مشابہ ہیں ۔
( ملفوظ 101 )بے فکری جرم عظیم ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میری جو لوگوں سے لڑائی ہوتی ہے کہ کوئی دن خالی نہیں جاتا کہ مہذب فوجداری نہ ہو تو اس کی اصلی وجہ صرف یہی ہے کہ میری نظر تو کوتاہی کی اصل منشاء پر پہنچ جاتی ہے اور منشاء سخت ہوتا ہے پس مجھ پر زیادہ تر اثر ان مناشی کا ہوتا ہے ناشی کا نہیں ہوتا جس پر دوسروں کی نظر پڑتی ہے اور وہ خفیف چیز ہوتی ہے مثلا ناشی کیا ہے کہ ناتمام یا بے تحقیق بات کہہ دی جس سے دوسرے کو غلط فہمی اور اذیت ہوئی تو یہ اپنی ذات میں معمولی بات ہے لیکن اس کا منشاء ہے بے فکری اور وہ جرم عظیم ہے اس لیے لوگ تو سمجھتے ہیں کہ ذرا سی بات پر غصہ آ گیا اور میں سمجھتا ہوں کہ بہت بڑی بات پر غصہ آیا پھر باوجود اس کے جرم عظیم ہونے کے اگر کسی کا فہم صحیح ہے
جس سے امید ہوتی ہے کہ قصد اصلاح کے بعد اصلاح کر سکے گا تب تو اس کی اصلاحی خدمت کرتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ گو اس میں بے فکری ہے لیکن چونکہ فہم درست ہے اس لیے اس کی اصلاح اس طرح ہو سکتی ہے کہ ذرا توجہ کرے گا تو یہ مرض بے فکری کا جاتا رہے گا اور اگر بے فکری کے ساتھ بدفہمی بھی ہے تو اس کا علاج میری طبیعت پر بوجہ عدم مناسبت بہت گراں ہے میں ایسے شخص کو کہہ دیتا ہوں کہ تم کو مجھ سے مناسبت نہ ہو گی کسی دوسرے سے رجوع کرو اگر تم چاہو گے تو کسی مصلح کا پتہ بتلا دوں گا کیونکہ اس طریق میں بڑی شرط نفع کی مناسبت ہے جب یہ نہیں تو لوگوں کو جمع کرنے سے کیا فائدہ مجھ کو کوئی فوج تھوڑی ہی بھرتی کرنا ہے اور بعض مصلحین ایسے مزاج کے ہوتے ہیں کہ ان کو ایسے امور سے تنگی نہیں ہوتی وہ اس کی اصلاح کر سکتے ہیں کہ وہاں مانع نہیں یعنی عدم مناسبت ۔

You must be logged in to post a comment.