ملفوظ 225: آئینہ میں تصویر نظر نہیں آتی

ملفوظ 225: آئینہ میں تصویر نظر نہیں آتی یا کہ حضرت شیشہ میں بھی تصویر ہوتی ہے اس کو دیکھنا کیوں جائز ہے فرمایا میں اس سوال کو سمجھا نہیں شیشہ میں کیسی تصویر ہوتی ہے عرض کیا کہ جب شیشہ انسان دیکھتا ہے تو اس کی تصویر اس میں نظر آتی ہے فرمایا اس میں تصویر کہاں ہوتی ہے غلط ہے اس کی تو صورت یہ ہے کہ یہ آپ کی نگاہ کی شعاع جو اس پڑتی ہے وہ شعاع واپس ہو کر چہرہ پر پڑتی ہے تو یہ چہرہ نظر آتا ہے اس میں کچھ بھی نہیں مرئی ( دکھائی دینے والی چیز ) یہ خود ہی ہوتا ہے ـ عرض کیا کہ آج حضرت کے فرمانے سے سمجھ میں آیا بہت عرصہ سے یہ شیشہ دل میں تھا فرمایا کہ احکام میں دخل دینا عوام کو اسی واسطے جائز نہیں نہ معلوم کیا گڑ بڑ کریں غرض اس کو دوسری تصاویر پر قیاس نہیں کر سکتے ـ 8 رمضان المبارک 1350ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم یکش

ملفوظ 224: یاجوج ماجوج کا حال

ملفوظ 224: یاجوج ماجوج کا حال ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت یاجوج ماجوج کی غذا کیا ہے فرمایا کہ حضرت مولانا محمد یعقوب صاحبؒ نے ایک مرتبہ فرمایا تھا ( حضرت کتابیں بہت دیکھتے تھے اس لئے باتیں زیادہ معلوم تھی ) کہ غذا یاجوج ماجوج کے لشکر کی ایک سانپ ہے جو آسمان کی جانب سے روزانہ گرتا ہے وہ اتنا بڑا ہوتا ہے کہ سبکو کافی ہو جاتا ہے ـ پھر فرمایا کہ حضرت مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ سے سنا ہے کہ یاجوج ماجوج کو تبلیغ ہو چکی ہے اس لئے کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ رات بھر اس دیوار کو چاٹتے ہیں اور کھودتے ہیں جو ان کے درمیان حائل ہے جب وقت آئے گا تو وہ یہ کہیں گے کہ انشاء اللہ کل اس کو ختم کر دیں گے انشاء اللہ کہنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو اللہ کا نام معلوم ہے اور تبلیغ ہو چکی ہے یہ نئی بات معلوم ہوئی پہلے سے معلوم نہ تھی ـ

ملفوظ 223: ممکن ہے کہ شیخ کے پیر سے مناسبت نہ ہو

ملفوظ 223: ممکن ہے کہ شیخ کے پیر سے مناسبت نہ ہو فرمایا ! کہ جب حضرت حاجی صاحب نے حضرت مولانا گنگوہی کو بیعت کی اجازت دی مولانا نے اسی وقت عذر فرمایا مگر حضرت نے اصرار سے فرمایا مولانا گنگوہ پہنچے تو ایک بی بی نے مرید ہونے کی درخواست کی حضرت گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ نے انکار فرما دیا ـ اتفاق سے حضرت حاجی صاحب گنگوہ تشریف لائے اس وقت حاجی صاحب سے اس بی بی نے شکایت کی ـ حضرت نے مولانا سے فرمایا کہ اس کو بیعت کرو مولانا نے عرض کیا کہ حضرت اب تو آپ تشریف رکھتے ہیں آپ ہی کر لیجئے ـ حضرت حاجی صاحبؒ نے اس پر عجیب جواب دیا جس میں ایک مسئلہ بھی بیان فرما دیا کہ اگر اس کو مجھ سے عقیدہ نہ ہو تم سے ہی ہو پھر فرمایا ہمارے سامنے مرید کرو پھر اس کو مرید کیا مولانا سے ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت اس میں مسئلہ کیا ہوا فرمایا مسئلہ یہ ہوا کہ اگر پیربھی پیر ہو اور اس کی طرف میلان نہ ہو ( یعنی مناسبت نہ ہو ) تو اس سے نفع نہ ہو گا ـ

ملفوظ 222: اس طریق میں مناسبت بڑی چیز ہے

ملفوظ 222: اس طریق میں مناسبت بڑی چیز ہے فرمایا ! کہ اس طریق میں مصلح کیساتھ مناسبت ہونا بڑی چیز ہے بدوں مناسبت کے طالب کو نفع نہیں ہو سکتا ـ یہی وجہ ہے کہ میں عدم مناسبت کی بناء پر طالب کو مشورہ دیتا ہوں کہ مجھ سے تم کو نفع نہ پہنچے گا اگر تم چاہو تو کسی دوسرے مصلح کا نام بتلا دوں

ملفوظ 221: شیخ کی خدمت میں ایک خاص مدت تک رہنا

ملفوظ 221: شیخ کی خدمت میں ایک خاص مدت تک رہنا ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ میں اہل طریق کے لئے ہمیشہ اس کا خیال رکھتا ہوں کہ ہر کام سہولت سے ہو جائے حتی کہ بڑے بڑے مقاصد سہولت سے حاصل ہو جاتے ہیں اور یہ موقوف ہے صحبت پر مرید کو شیخ کی خدمت میں ایک مدت خاص تک رہنا ضروری ہے ـ اس سے مقصود میں خاص سہولت ہو جاتی ہے ـ رہا یہ کہ کس قدر مدرت میں کام ہو جاتا ہے اس کا تعین مشکل ہے یہ مناسبت پر موقوف ہے اگر اہل استعداد ہوتا ہے بہت جلد کام ہو جاتا ہے ـ حضرت حاجی صاحبؒ کی خدمت میں حضرت مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ کل پنتالیس روز رہے اس کے بعد حضرت حاجی صاحبؒ نے فرمایا کہ ہم دے چکے جو کچھ دینا تھا ـ حضرت مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ اس وقت کا یہ فرمانا حضرت کا کہ ہم دے چکے جو کچھ دینا تھا سمجھ میں نہ آیا کہ کیا دیا مگر پندرہ برس کے بعد معلوم ہوا کہ یہ دیا تھا پھر اس پر حضرت مولانا گنگوہی نے مزاحا فرمایا کہ اگر ہم جانتے کہ یہ چیز ہے تو اتنی محنت کیوں کرتے ـ اس پر حضرت والا نے بھی مزاحا فرمایا کہ مل جانے پر فرماتے تھے ورنہ پندرہ برس تو معلوم ہی ہونے میں لگ گئے ـ

ملفوظ 220: تواضع کے ساتھ تکبر کا علاج

 

ملفوظ 220: تواضع کے ساتھ تکبر کا علاج فرمایا ! کہ ایک مولوی صاحب کی یہ کوشش ہے کہ ندوہ میں ایک ایسے عالم کی ضرورت ہے جو اپنے اخلاق سے وہاں کے طلباء کی اصلاح کر سکے ـ مجھ سے بھی انہوں نے ذکر کیا ـ میں نے ایک مولوی صاحب کا نام لیا کہ وہ مناسب ہیں انہوں نے کہا کہ متکبروں کی وہاں کمی نہیں متکبر تو وہاں پر بھی بہت ہیں وہاں ایسے شخص کی ضرورت ہے کہ متکبر نہ ہو ـ پھر فرمایا کہ متواضع بھی ایسا ہو کہ سب کے تکبروں کو توڑ کر نیچا دکھلاوے ـ ایک صاحب نے عرض کیا کہ جب اس کو یہ خیال ہوگا کہ میں دوسروں کے تکبر کو توڑ سکتا ہوں کیا یہ تکبر نہ ہو گا فرمایا کہ یہ تکبر نہیں ہوگا گو بظاہر صورتا تکبر معلوم ہو مگر حقیقتا تکبر نہیں ایسا تکبر اور تواضع دونوں جمع ہو سکتے ہیں ـ اس کی بالکل ایسی مثال ہے کہ کوئی اس کا دعوی کرے کہ میں تکبر کا علاج کر سکتا ہوں تو یہ تکبر تھوڑا ہی ہے ـ پھر فرمایا کہ تکبر کا مرض ایسا عام ہوا ہے کہ انگریزی مدارس تو پہلے ہی سے بد نام ہیں اور بد نام کیا واقعہ ہے کہ ان میں بکثرت متکبر ہوتے ہیں مگر آجکل عربی مدارس میں بھی یہ بلا موجود ہے متکبرین بھرے ہیں الا ماشاءاللہ ـ وجہ یہ کہ بدوں خاص انتظام کے اصلاح غیر ممکن ہے چاہے عربی مدارس ہوں یا انگریزی اور انتظام نہ ان میں ہے نہ ان میں ہے ـ ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت اگر کوئی علی گڑھ میں پڑھے اور طبعی تواضع اس میں ہو تو کیا وہ باقی رہ سکتی ہے ـ فرمایا کہ نہ رہنا کیا معنی اگر طبعی تواضع بھی نہ ہو وہ بھی کسی کامل کی صحبت سے پیدا ہو سکتی ہے گو اس درجہ کی نہ ہو جس درجہ کی طبعی ہوتی ہے صحبت اگر کسی کامل کی میسر آ جائے بڑے کام کی چیز ہے بڑی دولت ہے اسی کو مولانا فرماتے ہیں ؎ یک زمانہ صحبت بااولیاء ٭ بہتر از صد سالہ طاعت بے ریا ( اولیاء اللہ کی تھوڑی دیر کی صحبت سو سالہ اس طاعت سے جو بے ریا ہو بہتر ہے ) ـ

 

ملفوظ 219 : ہر عمل پر آمادہ ہو جانا شرط اول ہے

 

ملفوظ 219 : ہر عمل پر آمادہ ہو جانا شرط اول ہے ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا ! کہ یہ طریق بہت ہی نازک ہے اس میں قدم رکھنے سے پہلے اپنی شان اپنے کمالات سب کو فنا کر دے اور مصلح کی ہر بات اور ہر تعلیم پر عمل کرنے کیلئے اپنے کو آمادہ کر لے اس راہ کیلئے پہلی شرط یہ ہے کہ ایسا بن جائے فرماتے ہیں ؎ در رہ منزل لیلی کہ خطر ہا ست بجال ٭ شرط اول آنست کہ مجنوں باشمی ( عشق لیلی کے راستہ جہاں جان کیلئے بہت سے خطرات ہیں ـ اول شرط یہ ہے کہ مجنوں بن جاؤ ) ـ حتی کہ جوتیاں کھانے کو تیار ہو جائے اور جو جوتیاں کھانے کو تیار ہو گیا اس نے گویا جوتیاں کھا ہی لیں اور اس کی اصلاح ہو ہی گئی آمادہ ہونا ہی تو مشکل ہے اس لئے کہ آمادگی وہی معتبر ہے جو خلوص دل سے ہو اور خلوص دل سے آمادہ وہی ہوتا ہے جو اپنی شان نہیں رکھتا اور یہی اصل چیز ہے کہ اپنے کو مٹا دے فنا کر دے ورنہ محض جوتیاں کھانے سے کیا ہوتا ہے ـ

 

ملفوظ 218: ترجمہ ترجمہ نہ معلوم ہو ؟

ملفوظ 218: ترجمہ ترجمہ نہ معلوم ہو ؟ ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ ایک شخص کہتے تھے کہ ایسا ترجمہ ہو کہ ترجمہ سا نہ معلوم ہو ـ میں کہا کہ کیوں کیا گناہ ہے اس کی تو ایسی مثال ہے کہ ابا کو ایسے کپڑے پہنانا کہ ابا سے نہ معلوم ہوں ـ 8 رمضان المبارک 1350ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم یکشنبہ

ملفوظ 217: کام خود کرنا آسان کرانا مشکل

ملفوظ 217: کام خود کرنا آسان کرانا مشکل ایک مولوی صاحب نے مضامین وعظ پر کچھ سرخیاں قائم کیں تھیں وہ حضرت والا کو دکھلا کر مشورہ چاہتے تھے اس پر فرمایا کہ پھر آپ ہی کا کیا آرام ملا ـ جب ہر بات میں مجھ کو شریک غالب کیا جاتا ہے میں نے اپنی حالت کو دیکھا ہے کہ کام خود کرنا تو آسان اور کرانا کام بہت مشکل ہے ـ یہ میری کچھ طبعی بات ہے اور ہمیشہ سے ہے ـ

ملفوظ 216: ایک صاحب سے قیام تھانہ بھون کی وجہ کی دریافت

ملفوظ 216: ایک صاحب سے قیام تھانہ بھون کی وجہ کی دریافت خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ حضرت فلاں مقام سے جو صاحب آئے ہوئے ہیں میرے واسطے سے حضرت کی خدمت میں کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں فرمایا کہ صبح انہوں نے بہت دق کیا جو بات پوچھی گئی ایک کا بھی سیدھا جواب نہ ملا ـ ان سے پوچھئے چاہتے کیا ہیں ـ عرض کیا کہ رہنا چاہتے ہیں فرمایا کہ رہیں میرا کیا حرج ہے مگر رہنا بھی تو کسی نفع کیلئے ہی ہوگا ـ یہ بتلا دیں وہ کیا نفع ہے مجھے بھی تو اطمینان ہو کہ ایک شخص اتنی دور سے بال بچوں کو چھوڑ کر روپیہ اور وقت صرف کر کے آیا ہے اس کا مقصود ہے کیا ـ کیا مجھ کو اتنا بھی حق نہیں کہ میں یہاں پر ان کے قیام کی وجہ معلوم کر لوں ـ ان صاحب نے عرض کیا کہ دین کا نفع مقصود ہے فرمایا یہی تو پوچھ رہا ہوں کہ دین کا کیا نفع سوچا ہے ـ عرض کیا کہ صحبت میں خاموش بیٹھے رہنا اور نیک باتیں سننا فرمایا کہ اگر میں باتیں نہ کروں تو پھر کیا ہو گا ـ عرض کیا میں خاموش بیٹھے رہنے کو بھی دین کا نفع سمجھتا ہوں ـ فرمایا کہ اتنا دق کر کے یہ ذرا سی بات بتلائی اچھا رہیے ! اگر صبح ہی اتنی بات بتلا دیتے تو کون سا قاضی گلہ کرتا کچھ نہیں ـ رسمیں ہی خراب ہو گئیں اور اس کا سبب بے فکری اور غفلت ہے اس کا بالکل اہتمام ہی نہیں کہ ہم سے کسی کو اذیت نہ پہنچے سخت تکلیف پہنچاتے ہیں اور پیروں کو تو یوں سمجھتے ہیں کہ یہ تو بے حس ہوتے ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ بت ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ یہ فانی فی اللہ ہیں انہیں کیا خبر کچھ ہوا کرے کیا لغو خیالات ہیں ـ