ملفوظ 215: تعویذوں کی فرمائش سے گھبراہٹ

تعویذوں کی فرمائش سے گھبراہٹ فرمایا ! کہ جن خطوط میں تعویذوں کی فرمائش ہوتی ہے ان سے میرا جی گھبراتا ہے ایک صاحب کا خط آیا ہے جس میں ایک ہی قسم کے دس بارہ تعویذوں کی ایک دم فرمائش ہے ـ واہیات لوگوں کو خالی بیٹھے بیٹھے ایسی ہی سوجھتی ہے اگر اس طرح تعویذ لکھے جایا کریں تو ایک محکمہ قائم کرنے کی ضرورت ہے باقاعدہ ایک دفتر ہو اس میں منشی رہیں تاکہ ان لوگوں کا یہ کام ہو مجھے اتنی فرصت کہاں ایک تعویذ لکھ کر لکھ دوں گا کہ جتنی ضرورت ہو ـ آپ خود کسی سے نقل کرالیں ـ

ملفوظ 214: اعتکاف اور ریح کا مرض

ملفوظ 214: اعتکاف اور ریح کا مرض فرمایا ! کہ ایک صاحب کا خط آیا ہے لکھا ہے کہ میں اعتکاف کیا کرتا ہوں اور اب مرض ہو گیا ہے ریح کا ـ ایسی صورت میں مسجد میں بیٹھنا یا رہنا اس کے متعلق کیا حکم ہے ؟ میں نے جواب میں لکھ دیا ہے کہ اعتکاف نہ چھوڑو اگرچہ ہوا دار ہو ـ اس پر ایک مولوی صاحب نے تبسم آمیز لہجے میں عرض کیا کہ حضرت نہ معلوم وہ کیا سمجھیں گے فرمایا اس سے مراد مسجد کی کھڑکیاں بھی تو ہو سکتی ہیں جو کھلی ہوئی ہوں ان سے ہوا آئیگی اور اعتکاف ہوگا ـ فرمایا کہ اس ہوا پر ایک حکایت یاد آئی ـ یہاں پر ایک حافظ صاحب تھے بچوں کو پڑھایا کرتے تھے انہوں نے ایک قاعدہ مقرر کیا تھا اور وہ اس وجہ سے کہ لڑکے وہیں پر بیٹھے بیٹھے بدبو پھیلاتے رہتے تھے حافظ صاحب نے پریشان ہو کر حکم دیا کہ باہر جا کر ایسا کرو ـ اب اس کیلئے ضرورت ہوئی اصطلاح کی کہ کیا کہہ کر اجازت لیا کریں ؟

حافظ صاحب نے یہ تجویز فرمایا کہ یہ کہہ کر اجازت لیا کرو کہ چڑیا چھوڑ آؤں بس بچوں کو ایک بات ہاتھ آگئی ہر وقت کا ان کیلئے شغل ہو گیا ایک ادھر سے اٹھتا ہے حافظ جی چڑیا چھوڑ آؤں ایک ادھر سے اٹھتا ہے کہ حافظ جی چڑیا چھوڑ آؤں ـ حافظ جی بے چارے دق آ گئے تب کہا کہ ابے یہیں چھوڑ دیا کرو ـ

ملفوظ 213: حضرت کی زندگی اور وفات سے متعلق دو خواب

ملفوظ 213: حضرت کی زندگی اور وفات سے متعلق دو خواب فرمایا ! کہ ایک خط آیا ہے لکھا ہے کہ 2 رمضان المبارک 1350ھ بروز شنبہ بوقت عشاء ایک شخص نے مجھ سے حضور کی نسبت کہا کہ رحلت فرما گئے اس وقت سے طبیعت پریشان ہے بے حد رنج و صدمہ ہے خدا کرے یہ خبر جھوٹ ہو اور حضور کو اللہ تعالی ہمارے سامنے قائم رکھیں ـ میں نے جواب لکھ دیا ہے کہ ابھی تو ارادہ نہیں ـ ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ارادہ سے کیا ہوتا ہے فرمایا یہ میں نے کب کہا ہے کہ ارادہ مؤثر ہے اللہ ہی کے قبضہ میں ہے مگر جی یوں چاہتا ہے کہ ضروری ضروری کام سب ہو جائیں ـ اس پر ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ہمارے لئے بڑی خوشخبری ہے یعنی ارادہ نہ ہونا فرمایا کہ یہ تو ایک شاعری ہے ـ عرض کیا کہ شاعری ہو یا کچھ بھی ہو خوش خبری سے خالی نہیں ـ ایک اور مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ایک طالب علم نے مدرسہ دیوبند میں ایک خواب دیکھا اس میں حضورؐ کی زیارت سے مشرف ہوئے ان طالب علم نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ! حضور ! حضرت تھانوی کی کس قدر حیات ہے حضورؐ نے ارشاد فرمایا کہ ابھی ان سے ایک اور خاص کام لینا ہے اس وقت تک حیات ہے ـ احقر جامع کہتا ہے کہ یہ خواب سن کر حضرت والا پر ایک خاص اثر ہوا اور کچھ دیر تک حضرت والا پر سکوت کا عالم رہا اس وقت کی کیفیت کا لطف اہل مجلس ہی سمجھ سکتے ہیں ـ

ـ ملفوظ 212: قیمتی اشیاء کے استعمال سے احتراز

قیمتی اشیاء کے استعمال سے احتراز فرمایا ! کہ ایک صاحب کا خط آیا ہے لکھا ہے کہ میں جوتا بھیجنا چاہتا ہوں جس کی قیمت دس روپیہ ہے اس پر فرمایا کہ دس روپیہ کی قیمت کا جوتا پہن کر ہمیشہ کے واسطے دماغ سڑ جائے گا اور اس میں ایک راز اور بھی ہے وہ یہ ہے کہ ہم جیسے طلبہ کو زیادہ فاخرہ لباس نہیں پہننا چاہئے ـ اور نہ شان وشوکت سے رہنا چاہیے ـ غریبوں کی طرح رہنا مناسب ہے اس لئے کہ ان کو سابقہ زیادہ تر غرباء ہی سے پڑتا ہے اور ایسی صورت میں رہنے سے ان پر ایک قسم کا رعب اور ہیبت ہوگی وہ استفادہ نہ کر سکیں گے اس لئے میں اس کا بھی خیال رکھتا ہوں ہاں یہ بھی نہ ہونا چاہئے کہ بالکل زدہ حالت میں رہیں جس سے کوئی صورت سوال خیال کرے اگر خدا دے تو اوسط درجہ میں اہل علم کو رہنا چاہئے خیر الامور اوسطہا کا عامل بن کر رہنا چاہئے ـ

ملفوظ 211: علماء کے احترام کی حفاظت

 علماء کے احترام کی حفاظت
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ مجھ کو اس کا تحمل نہیں کہ ایک بے جاہل کسی عالم پر اعتراض کرے یا اس کی اہانت کرے ـ بگھر ایک قصبہ ہے وہاں پر ایک جلسہ ہوا تھا علماء کے احترام کیلئے جلسہ گاہ کو سجایا گیا بلیونپر کپٹا مندھا گیا پنڈال بنایا گیا ـ بعض علماء دیوبند یہ حالت دیکھ کر وہاں کر وہاں سے واپس ہو گئے اتفاق سے اسی زمانہ میں مدرسہ دیوبند میں لا ٹوس صاحب لفٹنٹ گورنر آئے تھے وہاں ان کیلئے اسی قسم کا تکلف کیا گیا تھا ـ اس پر ایک صاحب نے میرے سامنے اعتراض کیا کہ اپنے لئے مولوی سب کچھ جائز کر لیتے ہیں اور دوسروں کیلئے نا جائز ـ میں نے کہا کہ اکرام ضیف کا اس کے مذاق کے موافق کیا جاتا ہے ـ سو وہاں ضیف تھا ایک دنیا دار اس کا احترام یہی تھا اور یہاں ضیف تھے علماء ، یہاں ان کا یہ احترام نہ تھا ـ تم کو بالکل فہم نہیں تم دونوں کو ایک ہی بات سمجھتے ہو دونوں میں بڑا فرق ہے ـ

اس جواب کا منشاء زیادہ تر یہ تھا کہ عوام کو علماء پر اعتراض کرنے کی جرات نہ ہو ـ جن صاحب نے اعتراض کیا تھا ان سے یہ میری گفتگو تھی ـ میں نے یہ بھی کہا کہ میں اس کا اقرار کرتا ہوں کہ یہ میں نے اس نیت سے جواب نہیں دیا ہے کہ یہ اہتمام اچھا ہے متفق میں بھی ہوں تمہارے ساتھ ـ مگر نیت سے قطع نظر دیکھنا یہ ہے کہ جو وجہ میں نے بیان کی وہ صحیح ہے یہ یا نہیں ـ کہنے لگے کہ جی ہاں بے شک وجہ تو بالکل ٹھیک ہے ـ میں نے کہا کہ اصل منشاء اس جواب کا یہ ہے کہ علماء کا اعتقاد عوام کے قلب سے نہ نکلے کیونکہ اس اعتقاد کا کم ہو جانا بڑی خطرناک بات ہے اگر عوام کا عقیدہ علماء سے خراب ہو گیا تو پھر عوام کیلئے کوئی راہ ہی نہیں گمراہ ہو جائیں گے میں تو کہا کرتا ہوں کہ چاہے عالم بد عمل ہی کیوں نہ ہو مگر فتوی تو جب دیگا صحیح ہی دے گا ـ

ملفوظ 210: مجمل سوال کی تنقیح

مجمل سوال کی تنقیح فرمایا ! کہ ایک شخص کا خط آیا ہے لکھا ہے کہ تہجد کے وقت چار تسبیح پڑھنے کا کیا حکم ہے میں نے جواب میں لکھا ہے کہ حدیث کا یا علماء کا یا مشائخ کا کس کا حکم ؟ فرمایا کہ سوال کا طریقہ بتایا ہے اور سوال کو ٹھیک کرایا ہے تاکہ جواب میں سہولت ہو ـ

ملفوظ 209: مختلف مسائل جمع کرنے پر حضرت کا لطیف جواب

ملفوظ 209: مختلف مسائل جمع کرنے پر حضرت کا لطیف جواب فرمایا ! کہ ایک صاحب کا خط آیا ہے اس میں کچھ حالات باطنی کے متعلق پوچھا ہے کہ کچھ مسائل فقہی پوچھتے ہیں اور میں بنا بر مصالح خاصہ مختلف مضامین کو ایک ہی خط میں جمع کرنے سے منع کیا کرتا ہوں تو میں جواب میں گو یہ لکھ سکتا تھا کہ جس خط میں احوال باطنی ہوں اس میں مسائل مت پوچھا کرو مگر میں نے اس کو احکام کے ساتھ سوء ادب سمجھ کر یہ لکھا ہے کہ جس میں مسائل پوچھنے ہوں اس میں دوسری بات نہ لکھنا چاہئے اصل میں تو جمع کرنے سے منع کرنا ہے مگر چونکہ مسائل اہم اور بڑی چیز ہیں ان کے متعلق اس طرح لکھنا کہ احوال باطنی کے ساتھ مسائل نہ پوچھا کرو ـ ایک قسم کا سوء ادب ہے ـ بحمداللہ میرے یہاں ہر چیز اپنے اپنے مراتب اور حدود پر رہتی ہے ـ

ملفوظ 208: مسلمانوں کو اپنی دولت کی خبر نہیں

 مسلمانوں کو اپنی دولت کی خبر نہیں فرمایا ! کہ میرے جو قواعد اور ضوابط ہیں ان کو اپنی اور دوسروں کی راحت رسانی کے واسطے میں نے وضع کئے ہیں اور ایسے اصول اور ضوابط سب اسلام کے ہیں لوگ کہتے ہیں کہ انگریزوں سے سیکھے ہیں بالکل غلط ہے بلکہ خود انگریزوں نے اسلام سے سیکھے ہیں ہمیں خبر نہیں کہ ہمارے گھر میں کیا دولت ہے اس جہل کی کوئی انتہا ہے اتنی خبر نہیں اپنی دولت کو دوسروں کی سمجھتے ہیں اور یہی کیا جس قدر غیر مسلم اقوام ہیں سب وحشی تھیں تواریخ اٹھا کر دیکھو پتہ چل جائیگا ـ یہ سب اسلام کی خوبیاں ہیں جو دوسری قوموں نے اختیار کر لی ہیں ـ اور ایسے اصول صحیحہ سے ہر شخص منتفع ہو سکتا ہے راحت اٹھا سکتا ہے اس میں مسلم اور غیر مسلم کی قید نہیں ـ میں حیدر آباد دکن گیا تھا ـ تقریبا چودہ روز قیام رہا تھا وہاں پر ایک معزز دوست نے ٹکسال کی سیر کرائی تھی وہاں پر ایک انگریز دکھلانے والا تھا جب وہ تمام مقامات دکھا چکا اور میں رخصت ہونے لگا میں نے اس انگریز سے کہا کہ آپ کے اخلاق سے بہت جی خوش ہوا آپ کے اخلاق تو مسلمانوں جیسے ہیں میرے اس کہنے کا اس انگریز پر بہت زیادہ اثر ہوا اور بہت خوش ہوا کہ ایک مذہبی شخص نے میری تعریف کی ـ میں نے انہیں یہ ظاہر کر دیا کہ یہ تمہارے گھر کی چیز نہیں کبھی اس پر ناز کرو یہ مسلمانوں کے گھر کی چیز ہے جو تم نے اختیار کر لی ہے ـ وہ دوست صاحب جو میرے ہمراہ تھے اور بڑے عہدے پر ممتاز ہیں وہ باہر آ کر مجھ سے کہنے لگے کہ آپ نے عجیب بات فرمائی بہت ہی جی خوش ہوا بالکل نئے طرز سے تعریف کی کہ اس کی تعریف بھی ہو گئی اور مسلمانوں کو ترجیح بھی ہو گئی ـ میں نے کہا کہ میں نے واقعہ بیان کیا حقیقت یہی ہے حضرت اگر ہمیں اپنے گھر کی خبر ہو تب معلوم ہو کہ کیا کیا دولت گھر میں دفن ہے اور کتنا بڑا خزانہ ہے مگر پھر بھی یہ حالت ہے مسلمانوں کی ؎ یک سید پر ناں ترابر فرق سر ٭ تو ہمی لب ناں دربدر تابزانوئی میں قعر آب ٭ وزعطش وز جوع کشتستی خراب یعنی سر پر روٹیوں کا ٹوکرا ہے گھٹنوں تک پانی ہے نہایت پاکیزہ اور لطیف اور دوسروں سے بھیک مانگتے پھرتے ہیں کہ روٹی دیدو پانی دیدو اپنے گھر کی خبر نہیں اس میں سب کچھ ہے ان کے پاس کیا چیز نہیں مگر در بدر پھرتے ہیں کہ جرمن سے یہ لے لو اور جاپان سے یہ اور امریکہ سے وہ لے لو ـ ارے کیا رکھا ہے ان کے پاس انہوں نے تو خود تمہارے ہی گھر سے لیا ہے اور ہم تو الحمداللہ اب بھی مال دار ہیں مگر خبر نہیں ہم کو کہ وہ دولت حق تعالی نے عطا فرمائی ہے جو دوسروں کو نصیب نہیں اور یہ تو ظاہری دولت ہے باقی جو اصل دولت ہے اس میں تو مسلمانوں کا کوئی بھی شریک نہیں وہ ایمان ہے اور ایمانی اخلاق ـ

ملفوظ207: حضرت کا بعض حالات میں خط و کتابت کا خرچ برداشت کرنا

حضرت کا بعض حالات میں خط و کتابت کا خرچ برداشت کرنا ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت بہت سے طالب ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے پاس خرچ نہیں ہوتا تو وہ اس قدر خط و کتابت کو کس طرح برداشت کریں کہ اس کا بھی علاج ہے میں اطلاع کر دیتا ہوں کہ اگر خرچ پاس نہ ہو مجھ سے خرچ منگا لو اور یہ میں اس وقت لکھتا ہوں جب وہ ظار کرے کہ میرے پاس خرچ نہیں ـ مگر میرے پاس جو خط آئے وہ ضابطہ اور قاعدے سے آئے اگر کارڈ کے مناسب مضمون ہو جیسے دریافت خیریر و درخواست دعا تو کارڈ بھیج دیں اور اگر لفافہ کا مضمون ہو جیسے کسی حکم شرعی کا سوال یا اصلاح کے متعلق استفسار لفافہ بھیجیں اور ایسا ہوا بھی ہے کہ ایک شخص نے خط بھیجا میں نے لکھا کہ جواب کیلئے کارڈ کافی نہیں اس نے لکھا لفافہ کے لئے دام نہیں ـ میں نے لکھا کہ دام ہم سے منگا لو اس نے لکھا بھیج دو ـ میں نے ایک روپیہ بھیج دیا اور لکھ دیا کہ جب یہ ختم ہو جائے پھر لکھ دینا میں اور بھیج دونگا اور یہ بھی معمول ہے کہ ایک روپیہ سے زائد ایک مرتبہ میں نہیں بھیجا جاتا ـ اللہ تعالی نے ہر ایک عذر کا ایک جواب قلب میں پیدا فرما دیا ہے ـ

ملفوظ206 : بد خطی کا جواب

بد خطی کا جواب فرمایا ! کہ پہلے ایک صاحب کا خط آیا تھا نہایت بھدے خط کا لکھا ہوا تھا ـ میں نے جواب میں لکھ دیا تھا کہ میں اب تک یہ سمجھتا تھا کہ میں انگریزی نہیں پہچانتا ـ مگر آج معلوم ہوا کہ بعض اردو بھی نہیں پہچانتا آج ان کا پھر خط آیا ہے صاف لکھا ہوا ہے ـ سبب ایسی باتوں کا بے فکری ہے ذہن میں یہ آتا ہی نہیں کہ ہماری اس بات سے دوسرے کو اذیت ہو گی ـفرمایا کہ اگر یہ صاحب طالب ہیں دو چار مرتبہ کی خط و کتابت میں سیدھے ہو جائیں گے