یک سوال کے جواب میں فرمایا ! کہ عاشق ہمیشہ نا مراد ہی رہتا ہے کیونکہ جس مقام قرب تک پہنچتا ہے آ گے کا طالب ہوتا ہے جو اس وقت حاصل نہیں وھکذا ـ غرض حضرت عاشق جنت سے ادھر نا مراد ہی رہتا ہے مگر وہ نامرادی ہی اس کی مراد ہے ؎ گر مرادت رامذاق شکر ست ٭ بے مرادی نے مراد دلبر ست ( اگرچہ تیری خواہش کیسی ہی شیریں اور عمدہ ہے ـ مگر کیا (ہر وقت اپنے کو بے مراد سمجھ کر آ گے ترقی کا طالب رہنا یہ ) بے مرادی محبوب کی خواہش نہیں ہے ) ـ اور بعض کو تو یہاں تک غلو ہو گیا ہے کہ انہوں نے یہ حکم لگا دیا ہے کہ جنت میں بھی یہی نا مرادی اور بے چینی ہو گی ـ مگر یہ محض غلط ہے وہاں بالکل سکون ہوگا اس غلطی کا منشاء یہ ہے کہ تجلیات لا متناہی ہیں وراء الوراء ثم وراء الوراء تو ہر تجلی پر اس کی طلب بڑھتی رہے گی اورچونکہ وہ لامتناہی ہیں تو اس آ گے کے انتظار میں بے چینی ہو گی لیکن یہ حقیقت کے خلاف ہے اس لئے کہ جتنی طلب ہو گی چونکہ وہاں اس کی استعداد بھی ہو گی اس لئے وہ اول ہی بار عطا فرما دی جائے گی اور اس سے آ گے جو عطا ہو گی وہ بلا طلب عطا ہو گی اس لئے اس کا انتظار ہی نہ ہو گا ـ خلاصہ یہ کہ یہاں طلب زیادہ ہے استعداد کم ! اس لئے عطا میں دیر ہوتی ہے وہاں استعداد سے زیادہ طلب ہی نہ ہو گی ـ اسلئے نہ انتظار ہو گا نہ بے چینی غرض جنت میں بے چینی نہ ہو گی ـ
اقوال
ملفوظ 104: فقہی مسائل میں لوگوں کی دلیری
فرمایا! کہ آجکل مسائل فقہی میں لوگ بہت دلیر ہیں سب سے زیادہ مجھ کو فقہ ہی میں بولتے ہوئے ڈر معلوم ہوتا ہے مسائل کا بہت ہی نازک معاملہ ہے اس میں ہر گز ہر شخص کو دخل نہ دینا چاہئے ـ
ملفوظ 103: کرامت کی حقیقت
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ یہ لکھا ہے عارفین نے کہ کرامت کا درجہ اس ذکر لسانی سے بھی جو کہ بلا حضور قلب ہو کم ہے اور پھر اس سے بھی کم درجہ ہے تصرف کا ـ حضرت اصل چیز تو تشرف ہے یعنی اطاعت سے مشرف ہونا تصرف میں کیا رکھا ہے اور اس زمانہ میں تو لوگوں نے خلط کر رکھا ہے تصرف کو بھی کرامت سمجھتے ہیں ـ ان چیزوں کے پیچھے پڑنا ہی بے کار وقت کو کھونا ہے آدمی کوضروری کاموں میں اپنا وقت صرف کرنا چاہئے ـ حضرات انبیاء علیہم السلام کا اتباع ہونا چاہئے وہ اب منحصر ہے اتباع نبویؐ میں ـ جس کو حق تعالی اس کی توفیق عطا فرمائیں ـ بڑی نعمت ہے آجکل تصرف کو علامت قرار دیتے ہیں ولایت اور قبولیت کی ـ صحیح راستہ تو یہ ہے کہ قدم بقدم حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے چلنا نصیب ہو جائے یہی بڑی دولت ہے اور اسی میں سب کچھ ہے اس کے سامنے اور چیزوں کی تمنا کرنے کی ضرورت نہیں ـ اور چیزوں میں رکھا کیا ہے ـ خود حضورصلی اللہ علیہ وسلم بھی تصرف نہ فرماتے تھے ـ صرف اتنا ثابت ہے کہ کبھی ایک شخص کے سینہ پر ہاتھ مار دیا کبھی بدن پر ہاتھ پھیر دیا ـ بس ایسے ایسے واقعات گاہ گاہ ثابت ہیں ـ جو کسی عارض کی وجہ سے ہوتا تھا ـ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا غالب معمول نہ تھا سو اول تو اس کا تصرف ہونا ثابت نہیں ـ اسی لئے محدثین ان واقعات کو معجزات میں لاتے ہیں دوسرے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صاحب وحی تھے اگر تصرف ہی ہو تو اذن سے ہوتا تھا اوروں کو یہ بات نصیب نہیں ـ اور ہر حال میں خواہ وہ تصرف ہو جس میں قصد تاثیر ہوتا ہے یا معجزہ ہو ـ جس میں قصد کو دخل نہیں لیکن یہ امر دونوں میں مشترک ہیں ـ کہ اس طرف پوری توجہ نہیں ہوتی جیسے کہ عام اہل تصرف کے تصرف کے لوازم عادیہ سے ہے کہ اس وقت دوسرے خطرات کو اہتمام سے دفع کرتے ہیں
ملفوظ 102: اسباب کی ضرورت اور ضعف طبعی
ایک سلسسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ حضرت حاجی صاحبؒ نے ایک صاحب کے مشورہ لینے پر زمین وقف کرنے سے منع فرمایا تھا بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک نیک کام سے روک دیا مگر بڑی ہی حکیمانہ بات فرمائی کہ وقف کر کے کورے رہ جاؤ گے اور اس کے بعد جو پریشانی ہو گی نہ معلوم اس کو برداشت کر سکو گے یا نہیں ـ واقعی ہم ضعفاء ہیں بظاہر ہم کو اسباب کی بھی ضرورت ہے کہ کچھ ہمارے پاس ہو ـ ایک بزرگ کی حکایت ہے کہ انہوں نے دعا کی تھی کہ اے اللہ ! نفس پریشان رکھتا ہے کہ کل کو کہاں سے کھائے گا اس لئے اگر سب رزق اکٹھا مل جائے تو کوٹھڑی میں بند کر کے رکھ دوں اور جب نفس کہے کہ کہاں سے کھائے گا تو اس سے کہہ دوں کہ کوٹھڑی میں سے یہ خاص قسم کا ضعف اور قوت منافی نہیں کمال کے ـ یہ ضعف طبعی بات ہے فرمایا اس طبعی بات پر یاد آیا ـ ایک باد شاہ اور ایک بزرگ میں کسی مسئلہ پر گفتگو ہوئی ـ دوران گفتگو میں تیزی آ گئی باد شاہ برہم ہوا اور آواز دی کہ کوئی ہے ادھر ! ان بزرگ نے آواز دی کہ کوئی ہے تو مکان کے ایک گوشہ سے نہایت زبردست شیر ببر برآمد ہوا اور لپکا چونکہ باد شاہ اور بزرگ دونوں ایک ہی سمت میں بیٹھے تھے ـ باد شاہ سے پہلے یہ بزرگ بھاگے حالانکہ وہ ان ہی کی کرامت کا ظہور تھا تو یہ باتیں طبعی ہوتی ہیں یہ منافی کمال کے نہیں ـ حضرت موسی علیہ السلام کیسے قوی القلب تھے ـ مگر قرآن پاک میں قصہ موجود ہے ولی مدبرا ولم یعقب یا موسی لا تخف انی لا یخاف لدی المرسلون ـ ( یعنی جس وقت موسی علیہ اسلام نے حق تعالی کے حکم سے عصا زمین پر ڈالا اور وہ اژدھا بن گیا خود موسی علیہ اسلام اس سے ڈر کر بھا گے یہ طبعی خوف تھا ) ـ 2 رمضان المبارک 1350ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم دو شنبہ
ملفوظ 101 : حضرت شاہ اسمٰعیل شہیدؒ کی ایک عبارت
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت مولانا شہید صاحبؒ کے عنوانات ہی پر بد عتی ان کی تکفیر کرتے ہیں فرمایا یہی بات ہے مگر خود وہ عنوان ہی بے ادبی کے نہیں وہ سمجھ نہیں سکے اس وجہ سے اعتراض کرتے ہیں ـ دیکھئے ! ان عنوانات میں بڑا محل اعتراض عنوان یہ ہے کہ اگر خدا چاہے تو محمد جیسے سینکڑوں بنا ڈالے ـ جس میں ظاہرا تحقیر کا موہم ہے لفظ بنا ڈالے ـ اسی عنوان کو ایک صاحب نے حضرت مولانا احمد علی صاحب سہارن پوریؒ کے سامنے پیش کر کے اعتراض کیا تھا کہ حضرت اس میں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تحقیر ہے فرمایا ہاں مگر فعل تحقیر ہے مفعول کی نہیں ـ اس پر وہ بولے کہ محض بات بنائی جاتی ہے ـ یہ حضرات بڑے عالی ظرف ہوتے ہیں یہ سن کر خاموش ہو گئے ـ ایک روز اتفاق سے یہی صاحب حضرت مولانا احمد علی صاحبؒ سے کہنے لگے کہ حضرت اب تو بیضاوی شریف بھی چھپوا ڈالئے ـ اس وقت حضرت نے فرمایا کہ یہ وہی ڈالنا ہے سو یہ بیضاوی کی تحقیر ہے ـ اور قرآن اس کا جزو ہے کل کی تحقیر جزو کی تحقیر ہے اور قرآن کی تحقیر کفر ہے جب تو آنکھیں کھلیں کہنے لگے واقعی آپ کی تحقیق صحیح ہے ـ واقعی میری مراد اس وقت بیضای کی تحقیر نہ تھی بلکہ چھانپے کی سہولت بتلانا تھا ـ اب ان کی سمجھ میں آیا ـ یہ ہیں علوم ـ یہ حضرات تھے صاحب کمال ـ خیر جی ہم ایسے نہ ہوئے تو کیا ہے الحمداللہ ! اللہ تعالی نے ہم کو ایسے بزرگ تو دیے ہم تو اس کا ہی شکر ادا کرتے ہیں کہ حق تعالی انے ایسے بزرگوں کا تعلق نصیب فرمایا ـ
ملفوظ 99: نسبت ا ور پیر پر اعتراض
ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت جس طرح ایمان جاتا رہتا ہے اور آدمی کافر ہو جاتا ہے کیا اسی طرح نسبت بھی جاتی رہتی ہے فرمایا جس طرح ایمان ظاہری جاتا رہتا ہے ایسے ہی نسبت بھی جاتی رہتی ہے اور جس طرح ایمان فی علم اللہ نہیں جاتا ـ اسی طرح نسبت فی علم اللہ نہیں جاتی ـ پھر اسی سلسلہ میں فرمایا کہ اس طریق میں سب سے زیادہ جو مضر چیز ہے وہ معلم پر اعتراض ہے اس کا ہمیشہ خیال رکھنا ضروری ہے مگر یہ شرط ہے کہ پیر ہو پئیر نہ ہو ـ یہ میں اس وجہ سے متنبہ کر رہا ہوں کہ بعض بات ایسی ہوتی ہے معلم کی کہ وہ سمجھ میں نہیں آتی اور طالب اس میں اعتراض کر بیٹھتا ہے ـ سو اس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر ظاہرا اس سے کوئی امر شریعت کے خلاف صادر ہو جائے تو ایک آدھ بات میں تو مناسب تاویل کر لی جائے گی ـ اگر تاویل سمجھ میں نہ آئے تو یہ سمجھ لیا جائے کہ ممکن ہے کہ اس کی حقیقت ہماری سمجھ میں نہ آئی ہو اور اگر کثرت کے ساتھ ایسے امور صادر ہونے لگیں تو پھر یہ نہیں کہ ہر بات میں تاویل کی جائے گی ـ یہ ایسا ہے جیسے حسین آدمی کے چہرہ پر ایک تل ہو جس کو خال سے تعبیر کرتے ہیں زائد سے زائد دو ہوں تو عیب نہیں مگر یہ بھی نہیں کہ تمام چہرہ تلوں ہی سے بھر جائے اگر ایسا ہے تو پھر تو سارا حسن خاک میں مل جائے گاـ
ملفوظ 98: بد عتی اور تکفیر سازی
ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت آجکل فلاں شہر سے بدعت مٹ رہی ہے کایا پلٹ ہو گئی اور پہلے یہ حالت تھی کہ فلاں صاحب کے مقرب خاص نے وعظ ہی میں بیان کیا بڑے فخر کے ساتھ کہ ندوہ پر ہم نے کفر کا فتوی دیا دیوبندیوں پر ہم نے کفر کا فتوی دیا خلافت والوں پر ہم نے کفر کا فتوی دیا ـ حضرت والا نے سن کر فرمایا کہ جو چیز کسی کے پاس ہوتی ہے وہی تقسیم کیا کرتا ہے ان کے پاس اس کے سوا اور ہے ہی کیا ـ بس کفر ہی تقسیم ہوتا ہے کفر کا ہائیکورٹ ہے ـ کفر کے فتوی دینے کی وجہ سے ہائیکورٹ کفر کا کہا گیا ـ فرمایا کہ میں کفر کا حکم لگانے میں بڑا ضعیف ہوں ہمت نہیں ہوتی ـ ایک مرتبہ حضرت مولانا گنگوہی کے یہاں باطل کی تکفیر کا ذکر تھا اس روز نہایت جوش میں شان رحیمی کا ظہور ہو رہا تھا ـ یہاں تک فرمایا کیا کافر کافر لئے پھرتے ہو ـ قیامت میں دیکھو گے ایسوں کی مغفرت ہوگی جنہیں تم دنیا میں کافر قطعی کہتے ہو ـ اور واقع میں وہ کافر نہ ہوں گے مگر نہایت ہی ضعیف الایمان ہونگے ـ پھر فرمایا لیکن اگر ڈرانے دھمکانے کیلئے شرعی انتظام کیلئے کسی وقت کافر کہہ دیا جائے اس کا مضائقہ نہیں ـ اس میں انتظامی شان کا ظہور ہوگیا ـ
ملفوظ 97: ذکر کے وقت تصور ات
یک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ذکر کے وقت حق جل وعلی شانہ کا تصور کرنا اس کی کیا صورت ہے کس طرح تصور کرے ـ فرمایا کبھی تصور ہوتا ہے صفات کا اور کبھی تصور ہوتا ہے ذات کا مگر بہتر یہ ہے کہ کچھ الفاظ ثنا یا دعا کے تجویز کرکے ان کا خیال سے ورد رکھے اس کے ضمن میں جو توجہ ہوگی وہ کافی ہے
ملفوظ 96: ذکر قلبی افضل ہے یا ذکر لسانی
ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ذکر قلبی افضل ہے یا ذکر لسانی ؟ فرمایا ! ذکر کے متعلق مختلف احکام ہیں ـ بعض احکام تو لفظ کے ساتھ متعلق ہیں ان میں ذکر لسانی افضل ہے اور باقی جو ذکر زبان سے نہ کیا جائے اجر اس پر بھی ملتا ہے یہ ذکر قلبی ہے جس سے ہر وقت قلب میں یاد رہے مگر اس طریق میں قوی اندیشہ رہتا ہے قلب سے ذہول ہو جانے کا ـ اور ذکر لسانی میں یہ اندیشہ نہیں اس اعتبار سے ذکر قلبی سے ذکر لسانی افضل ہے ـ دوسری یہ بات ہے کہ اگرصرف قلب سے ذکر کریگا تو زبان خالی رہیگی اور اگر زبان سے ذکر کریگا تو اس کے ساتھ قلب بھی ادنی توجہ سے متوجہ رہے گا ـ ہاں جس وقت نیند کا غلبہ ہو اس وقت زبان سے ذکر نہ کرے کیونکہ احتمال ہے کچھ کا کچھ نکلنے لگے ـ حدیث شریف میں اس کو استعجام لسانی سے تعبیر فرمایا ہے ـ
ملفوظ 95:اصلاح ، اصلاح کے طریقہ سے ہوتی ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ جس طریق سے میں اصلاح کرنا چاہتا ہوں وہی نافع ہے شرعا بھی عقلا بھی ـ لوگ اس سے گھبراتے ہیں اس کی بالکل ایسی مثال ہے کہ ناسور ہو اور اوپر سے ٹانکے لگا کر مرہم لگا دیا جائے تو کیا مادہ رک جائے گا ہر گز نہیں کسی اور طرف کو نکلنا شروع ہو جائے گا اصلاح تو اصلاح ہی کے طریق سے ہوتی ہے ـ مگر اب چاہتے یہ ہیں کہ جو ہم چاہیں وہ ہو دوسرے کا چاہا نہ ہو ـ اور یہ ناشی ہے خود رائی اور خود نینی ہے ـ اب بتلائے اصلاح ایسے لوگوں کی کس طرح ہو ہر کام اصول سے ہو سکتا ہے بے اصول طریق سے کچھ نہیں ہو سکتا ـ

You must be logged in to post a comment.