ملفوظ 115: کیفیات کا نہ ہونا بھی موجب رحمت ہے

فرمایا ! کہ کیفیات محمودہ نفسانی بھی ہوتی ہیں اور روحانی بھی ـ بعض مرتبہ کیفیات کا نہ ہونا موجب رحمت ہے اور ہونا موجب فتنہ ـ کیونکہ پہلی صورت میں اپنے کو ناقص سمجھتا ہے اور دوسری صورت میں کامل ـ

ملفوظ 114: بڑی مجلس میں مجمع کے حقوق ہوتے ہیں

فرمایا ! کہ یہ طے ہوا ہے سب کی اطلاع کی وجہ سے بیان کرتا ہوں کہ صبح کی مجلس میں عام مجمع ہونے سے قلب پر ایک تعب ہوتا ہے کبھی زیادہ مجمع ہونے کیوجہ سے آواز بلند کرنا پڑتی ہے کہ سب سن لیں اس سے بھی تعب ہوتا ہے پھر مجمع کے عام ہونے سے قلب میں زیادہ بیٹھنے کا تقاضہ ہوتا ہے اور اس کا ثمرہ بعد میں مجھ کو بھگتنا پڑتا ہے ـ ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت جو لوگ حضرت کے پاس آئے ہیں وہ حضرت کی زیارت کو ـ صحبت کو ذریعہ نجات سمجھتے ہیں اس لئے مجلس تو عام ہی رہے مگر حضرت کا جس وقت جی اٹھنے کو چاہے حضرت اٹھ جایا کریں فرمایا کہ یہ میری کچھ طبعی سی بات ہے کہ زیادہ مجمع میں سے اٹھتے ہوئے شرم معلوم ہوتی ہے کہ مجلس کا مقصود تو اس قدر بڑا اور اس میں کبڈی کا سا پالا چھوا کر چل دیئے کچھ اچھا نہیں معلوم ہوتا ـ

ملفوظ 113: مدرسہ دیوبند اور حضرتؒ کی زمانہ طالب علمی کا امتحان

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مدرسہ دیوبند میں بڑے ہی با کمال حضرات کا اجتماع رہ چکا ہے اب ان حضرات کو آنکھیں ڈھونڈتی ہیں بڑا ہی با برکت اور با خیر مجمع تھا حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمتہ اللہ علیہ کیسے جامع کمالات تھے ہر فن میں کمال رکھتے تھے ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ سنا ہے کہ حضرت مولانا قاسم صاحب رحمتہ اللہ علیہ یہ فرمایا کرتے تھے کہ مولوی سید احمد صاحب مدرس ثانی کے ذہن اور میرے ذہن کی ایک نوعیت ہے ـ حضرت والا نے سن کر فرمایا کہ یہ مقولہ حضرت مولانا احمد حسن صاحب امروہی رحمتہ اللہ علیہ کی نسبت سنا ہے ـ اسی سلسلہ میں فرمایا کہ مولانا سید احمد صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے قصائد عرفیہ میں میرا سالانہ امتحان لیا کتابیں میں نے کبھی توجہ کے ساتھ نہ دیکھیں نہ پڑھیں میں نے گھونٹ گھانٹ کر ایک تقریر کر دی ـ فرمایا اور کچھ میں نے پھر ایک دوسری تقریر کردی فرمایا ـ اور میں نے ایک اور تیسری تقریر کر دی ـ آخر میں فرمایا کہ ان میں سے ایک مطلب بھی صحیح نہیں مگر تمہاری ذہانت پر نمبر دیتا ہوں میں نے اپنے دل میں کہا کہ جناب اس وقت تو نمبر ہی مقصود ہے کتاب کس کو مقصود ہے ـ

ملفوظ 112: حضرتؒ کے عقد ثانی کا واقعہ

ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت عقد ثانی کا داعی کیا پیش آیا تھا فرمایا ان کی سادگی دینداری اور بے نفسی داعی ہوئی ـ شروع ہی سے ان کی یہ حالت تھی اسی وجہ سے میں نے ان کو سعید احمد مرحوم کیلئے تجویز کیا تھا ـ جی چاہتا تھا کہ ایسی اچھی طبیعت کا آدمی گھر میں رہے جب مرحوم کی وفات ہو گئی ان کے گھر میں رہنے کی بجز عقد کے کوئی صورت نہ تھی اور یہ بات مجھ کو بعد میں معلوم ہوئی کہ علاوہ میرے خاص دوستوں کے حضرت مولانا خلیل احمد صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی بھی یہی رائے تھی کہ ایسا ہو جانا چاہئے ـ بلکہ یہ بھی فرمایا تھا کہ وہ اپنے گھر میں سے اس معاملہ میں ڈرتا ہے ـ واقعی مجھے جو اس میں تردد تھا وہ یہی تھا مجھے پیلے گھر کے مزاج سے اندیشہ تھا اور وہ اندیشہ واقع بھی ہوا گو اب بحمد اللہ اس کا اثر باقی نہیں رہا ـ میں نے ایک مرتبہ اس کے متعلق خواب دیکھا کہ میں کسی سے پوچھ رہا ہوں کہ اگر عقد ثانی ہو گیا تو بڑے گھر میں سے کیا کریں گی تو یہ جواب ملا کہ وہ بیٹھی ہوئی قرآن پاک پڑھا کریں گی نیز اس کے متعلق میں نے ایک یہ بھی خواب دیھا تھا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا میرے مکان میں تشریف لانے والی ہیں ـ اس سے میں یہ تعبیر سمجھا کہ جو نسبت عمر کی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بوقت نکاح حضور کے ساتھ تھی وہ ہی نسبت ان کو ہے یہ شاید اس طرف اشارہ ہو ـ میں نے اس کے متعلق ایک رسالہ بھی لکھا ہے الخطوب المذیبہ اس کا نام ہے اس میں واقعہ کی حقیقت کو ظاہر کر دیا ہے اور رسالہ کے لکھے جانے کے داعی میرے بھائی منشی اکبر علی صاحب مرحوم ہوئے تھے انہوں نے ایک خط میں مجھ سے استفسار کیا تھا کہ آخر ضرورت ہی نکاح کی کیا پیش آئی تھی اصل میں تو ان کو جواب دینا تھا وہ بہ شکل سالہ ہو گیا ـ وہ رسالہ بعض لوگوں کے لئے تو جو کہ اہل فہم تھے دوستی کا سبب بن گیا ایسے لوگوں نے یہ کہا کہ ایسے شخص سے ضرور تعلق رکھا جائے اس لئے کہ اس میں استقلال اور اگر بعض کا اعتقاد جاتا رہا ہو تو جاتا رہے ـ بحمد اللہ ! میں کوئی کام کسی کے معتقد یا غیر معتقد بنانے کی نیت سے تھوڑا ہی کرتا ہوں میرے بڑے گھر میں سے مجھ سے کہا کہ تم نے یہ عقد کر کے عقد ثانی کا دروازہ کھول دیا اب لوگ ایسا ہی کریں گے ـ میں نے کہا کہ کھولا نہیں بند کر دیا ہے لوگوں کو معلوم تو ہو گا کہ اتنے حقوق ہیں کسی کی بھی ہمت نہ ہو گی ـ فرمایا یہ ادائے حقوق کی دشواری کا خیال ہی خیال ہے ورنہ اللہ تعالی ایسی مدد فرماتے ہیں کہ عمل کرنا اور حقوق کا ادا کرنا پھولوں سے بھی ہلکا ہو جاتا ہے ـ مشکل سے مشکل کام ان کی مدد سے آسان ہو جاتا ہے مگر ارادہ شرط ہے ـ حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب رحمتہ اللہ علیہ سے عرض کیا کہ حضرت قرآن پاک میں ہے ما جعل علیکم فی الدین من حرج ( دین میں حق تعالی نے تم پر کوئی تنگی نہیں فرمائی ) اور مفقود الخبر کے متعلق جو امام اعظم رحمتہ اللہ علیہ کا مذہب ہے اس میں حرج ہے فرمایا اس میں تو حرج اور تنگی ہے اور جہاد میں تنگی نہیں جہاں سر کٹتے ہیں عورتیں بیوہ ہوتی ہیں بچے یتیم ہوتے ہیں اگر حرج کے یہی معنی ہیں اور تنگی اسی کو کہتے ہیں تو اسکو بھی قرآن شریف کی فہرست سے نکال دو چپ رہ گئے ـ مولانا پر جذب غالب رہتا تھا مجذوب سمجھے جاتے تھے مگر کیسا جواب دیا یہ حضرات دین کے عاشق تھے اس لئے اامور دینیہ میں ہر وقت ہوشیار اور بیدار رہتے تھے ـ دیکھئے ! جہاد میں کتنا تعب ہے اور آخر انجام اس کا قتل ہے مگر حضرت اس وقت ایسا بھی نہیں ہوتا جیسے چیونٹی کاٹ لیتی ہے ـ بعض بزرگوں کا قول ہے کہ جو پلنگ پر پڑ کر مرتا ہے اس کو ایسی تکلیف ہوتی ہے جیسے چھ سو تلوار اس پر ایک دم پڑی ہوں اور جہاد میں آسانی سے جان نکلتی ہے ( جو اس قدر سخت ہے ) بظاہر یہ سب ارادہ کی برکت ہے ارادہ بڑی دولت ہے اس سے بڑے سے بڑے مشکل کام آسان ہو جاتے ہیں چنانچہ مجھ کو اس معاملہ میں عدل بالکل آسان ہو گیا ـ اور گو کہنے کی تو بات نہیں مگر کہتا ہوں کہ میں نے حقوق کی رعایت یہاں تک کی اور یہ محض دوستوں کو معلوم کرانے کی غرض سے کہہ رہا ہوں تاکہ عمل کریں کہ ایک کے وقت میں دوسرے کا خیال بھی نہیں آنے دیتا ـ اور یہ اس وجہ سے کہ جہاں تک میرے ارادہ اور قصد کو دخل ہے وہاں تک کیوں کو تا ہی کروں اور یہ خیال کیا کہ قصدا اس خیال کرنے میں بھی ایک قسم کا استمتاع ہے ـ ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت نے اس خیال کے استمتاع ہونے کے متعلق ایک مرتبہ اور بھی فرمایا تھا اور اس سے استدلال کیا تھا کہ اگر اپنی بیوی کے پاس ہو اور صحبت کے وقت کسی اجنبیہ کا قصدا خیال کرے تو وہ حرام ہوگا ـ فقہاء نے اس کو بیان فرمایا ہے فرمایا کہ ہاں استدلال کیا ہوگا ـ

ملفوظ 111: اولاد کا ہونا بھی اور نہ ہونا بھی حکمت ہے

فرمایا ! کہ ایک مرتبہ حضرت حاجی صاحبؒ نے میرے سامنے ایک تقریر فرمائی کہ اولاد ہونے میں یہ کلفت ہوتی ہے یہ پریشانیاں ہوتی ہیں ـ یہ خلجان ہوتے ہیں ـ سبب اس کا یہ ہوا تھا کہ میری ایک خالہ ساس تھیں انہوں نے حضرت حاجی صاحب سے میرے لئے اولاد ہونے کی دعا کرائی تھی ـ اس موقع پر حضرت نے مجھ سے فرمایا تھا کہ بھائی ! تمہاری خالہ نے تمہارے اولاد ہونے کی دعا کو کہا تھا ـ میں نے دعا تو کر دی مگر جی تو یہی چاہتا ہے کہ جیسا میں ہوں ویسے ہی تم رہو مطلب یہ تھا کہ اولاد نہ ہو میں سمجھ گیا کہ اولاد نہ ہوگی چناچنہ نہیں ہوئی ـ حتی کہ جب میں نے دوسرا عقد کیا ان کی عمر اولاد ہونے کی تھی مگر عجب اتفاق ہے کہ ان کو ڈاکٹرنی نے کہہ دیا تھا کہ تم شادی مت کرنا تمہارے لئے سخت مضر ہے اگر اولاد ہوئی تو پھر تمہاری جان کی خیر نہیں سو اولاد میرے لئے مضر باطن بتلائی گئی اور ان کیلئے مضر ظاہر ـ سو شادی تو ہوئی مگر اللہ تعالی نے ان کی جان کی حفاظت فرمائی کہ ان سے بھی اولاد نہیں ہوئی ـ سو اولاد نہ ہونے میں ان کی مصالح جان کے ساتھ اور میرے مصالح ایمان کے اور یہ سب کے لئے نہیں ـ یہی اولاد بعض کیلئے آلہ بعد ہو جاتے ہیں اور بعض کیلئے آلہ قرب ہو جاتے ہیں ـ اس کو حق تعالی ہی خوب جانتے ہیں کہ کس کیلئے سبب بعد کا ہوں گے اور کس کیلئے سبب قرب کا ـ پس جیسے اولاد ہونا ایک دولت اور نعمت ہے ۤـ مگر سب کے لئے نہیں اسی طرح پیشین گوئی اور تصرف و کرامت دولت ہیں مگر سب کیلئے نہیں بلکہ بعض کیلئے یہ چیزیں حجاب ہیں اور مجھ جیسے کمزور کے لئے تو یہ چیزیں حجاب ہی ہو جاتیں اپنی حالت سے میں ہی خوب واقف ہوں ـ بس مجھے تو یہ ہی حالت پسند ہے کہ جو احکام معلوم ہوں ان پر عمل کر لوں اور وہی اپنے دوستوں کو بتلا دوں ـ

ملفوظ 110: حضرت کی تواضع اور تصرف و کرامت کے نہ ہونے پر اظہار شکر

ایک اہل علم کے سوال کے جواب میں فرمایا ! کہ میں تو اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ مجھ کو تصرف اور کرامت وغیرہ سے محفوظ رکھا ورنہ مجھ جیسے کمزور کیلئے تو یہ چیزیں حجاب بن جاتیں اور اسی پر کیا اولاد کیسی دولت ہے کہ اس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی دوسری چیز نہیں ہوتی مجھ کو اس سے بھی محفوظ رکھا گیا اگر اولاد ہوتی تو نہ معلوم کیا کیا آفتیں ہوتیں ـ

ملفوظ 109: دارالعلوم دیوبند کے قرن اول کا حال

فرمایا ! کہ جس زمانہ میں میں مدرسہ دیوبند میں پڑھا کرتا تھا اس وقت کے حالات و واقعات یاد آ آ کر عجیب قلب کی کیفیت ہوتی ہے اس وقت یہ معلوم ہوتا تھا کہ ہمیشہ ایسا ہی زمانہ رہے گا ـ اس وقت بڑے بڑے اہل کمال کا اجتماع تھا اور قریب قریب سب اپنے کو مٹائے ہوئے اور فنا کئے ہوئے تھے ـ جب کبھی اتفاق سے ان حضرات کا اجتماع ہو جاتا تھا یہ معلوم ہوتا تھا کہ ہر بزرگ دوسرے کو اپنے سے بڑا سمجھتا ہے بڑی ہی خیر کا مجمع تھا ـ یہی حالت آپس میں طلباء کی تھی اور اساتذہ کے سامنے تو بولنے کی بھی ہمت نہ ہوتی تھی اور ایک یہ زمانہ ہے کہ اس وقت سے کوئی منابست ہی نہیں ؎ چہ نسبت خاک رابعالم پاک اس وقت کھلم کھلا نظر آتا تھا کہ مدرسہ پر انوار کی بارش ہو رہی ہے اور یہ سب ان حضرات کی مقبولیت کی علامت تھی اور ان حضرات کے تقوی و طہارت کے ثمرات تھے اور مدرسہ کی مقبولیت کا اس قدر جو اثر ساری دنیا پر ہوا یہ بھی ان ہی حضرات کی برکت تھی مقبولیت پر یاد آیا حضرت مولانا محمد یعقوب صاحبؒ نے خواب میں دیکھا کہ جنت ہے اور اس میں ایک طرج چھپر کے مکان بنے ہوئے ہیں ـ فرماتے ہیں کہ میں نے دل میں کہا کہ اے اللہ ! یہ کیسی جنت ہے جس میں چھپر ہیں جس وقت صبح کو مدرسہ آیا ـ مدرسہ کے چھپر نظر پڑے تو ویسے ہی چھپر تھے یہ زمانہ بالکل مدرسہ کا ابتدائی زمانہ تھا تب تعبیر سمجھ میں آئی کہ یہ مدرسہ کی مقبولیت دکھلائی گئی ہے ـ اس زمانہ میں نہ یہ لمبی چوڑی تعمیر تھی نہ اساتذہ ترک اور شان سے رہتے تھے نہ طلباء کا کوئی فیشن تھا پھٹے ہوئےکپڑے ٹوٹی ہوئی جوتیاں یہ ان کا ظاہری حال تھا نہ اس جدید قسم کے قواعد اور قانون تھے نہ اتنے ممبر اور محراب تھے کام جو کچھ ہوا سب کو معلوم ہے کہ کیسے کیسے با کمال لوگ فارغ ہو کر نکلے اور اب اس وقت سب کچھ ہے اور اس کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں وہ جو ایک چیز تھی جس کو روح کہتے ہیں وہ نہیں رہی باقی علم اور جگہ سے اب بھی بہت تھا مگر زمانہ تحریک سے وہ بھی آیا گیا ہوا اس لئے کہ طلباء کو تقریروں تحریروں اور کمیٹی جلسوں ہی سے فرصت نہیں ـ سخت افسوس ہے بعضوں کی تو یہاں تک نوبت آ گئی کہ علم دین میں مشغول ہونے کو فضول اور بیکار بتاتے ہیں ـ نہ معلوم یہ سبق کہاں سے حاصل کیا ہے ـ یورپ میں تو یہ طریقہ نہیں وہاں بھی بعض اوقات اس قسم کی تحریکات ہوتی ہیں مگر جو جماعت علم کی تحصیل میں مشغول ہے اس کو ان تحریکات میں شرکت کی اجازت نہیں دی جاتی یہیں پر دیکھ لیجئے ـ ہماری ہمسایہ قوم کس ہوشیاری اور چالاکی سے کام کر رہی ہے یہ ساری بے اصولیاں اور بد انتظامیاں مسلمانوں ہی کے حصے میں آ گئی ہیں بھیڑا چال ہے جس طرف کو ایک چلا اسی طرف کو سب چلدیتے ہیں یہ بھی کوئی کام کرنے کا طریقہ ہے کہ سب ایک ہی کام میں لگ جائیں ـ اس پر دعوی ہے سیاست دانی کا میں کام کرنے کو منع نہیٰں کرتا مگر جو کچھ بھی ہو ـ اصول کے ماتحت ہو اور حدود و احکام اسلام سے تجاوز نہ ہو ـ اور طلباء کو اس قسم کی کمیٹیوں اور جلسوں میں شرکت کی اجازت ہر گز ہر گز نہ دینا چاہیے سخت مضر ہے پرائے شگون کیلئے اپنی ناک کیوں کٹائے دیتے ہو ـ ہوش سے کام کرنے کی ضرورت ہے جوش سے اول تو کام نہیں ہوتا اور اگر ہوتا بھی ہے تو اس کی عمر بہت تھوڑی ہوتی ہے ـ کیا ان کاموں کیلئے طلباء ہی رہ گئے ہیں اور مسلمان کچھ کم ہیں ان سے کام لو اگر کرنا ہی ہے مگر سنتا کون ہے جو دماغوں میں سما گئی ہے اس کے سامنے کسی خیر خواہ کا کہنا اور نفع اور ضرر کسی کی کچھ خبر نہیں کہ آخر اس کا انجام ہے کیا بے حد دل دکھتا ہے مگر سوائے دعا کے اور کیا چارہ ہے ـ حق  رمضان المبارک 1350ھ مجلس خاص بوقت صبح سہ شنبہ

ملفوظ 108: دو ہی طبقے حکماء کہلانے کے مستحق ہیں

فرمایا ! کہ حقیقت میں اس امت میں دو ہی طبقے حکماء کہلائے جانے کے قابل ہیں ـ فقہاء اور صوفیہ ! بڑے بڑے فلاسفر اور سائنس داں ان حضرات کے سامنے گرد ہیں کیا ٹھکانہ ہے ان حضرات کی عمق نظر کا ـ چنانچہ فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر معشوق کا لعاب کوئی نگلے تو اس پر کفارہ ہے اور غیر محبوب کے لعاب سے کفارہ نہیں کہاں نظر پہنچی ہے سبحان اللہ

ملفوظ 107: وعظ کے اندر روانی نہ ہونا بھی حکمت ہے

ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت میں جب وعظ بیان کرتا ہوں تو بیان کے وقت روانی نہیں ہوتی اور یہ بات تھوڑے ہی دنوں سے پیدا ہوئی ہے اس سے پیشتر خوب روانی ہوتی تھی فرمایا کہ اگر کسی کے کلام میں روانی نہ ہو لیکن روانی نہ ہونے کا سبب خوف آخرت ہو وہ تو عین مطلوب اور ممدوح فی الحدیث ہے ـ لیکن اگر خوف آخرت بھی سبب نہ ہو بلکہ کسی اور وجہ سے ہو تو اس کے مصالح پر نظر کر کے یہ حالت بھی مغتنم و مبارک ہے کہ جیسے سبب سے مسبب کا حدوث ہوتا ہے ایسے ہی بعض اوقات مسبب سے سبب پیدا ہو جاتا ہے ـ پس توقع ہے کے اس عدم روانی سے جو کہ بعض اوقات مسبب ہوتا ہے ـ خوف آخرت سے خود سبب یعنی خوف آخرت بھی پیدا ہو جائے ـ جیسا کہ حسیات میں بھی بعض اوقات ایسا ہو جاتا ہے جیسا کہ کھانا مسبب اور رغبت اس کا سبب ہے لیکن بچے کا جب دودھ چھڑایا جاتا ہے تو غذا اس واسطے دیتے ہیں تاکہ اس سے اس کا سبب یعنی رغبت پیدا ہو جائے ـ

ملفوظ 106: امور تکوینیہ مذوبین کے سپرد کرنے کی حکمت

ایک اہل علم کے سوال کے جواب میں فرمایا ! کہ تکوینی کار خانہ مجذوبین سے متعلق کرنے میں یہ حکمت ہے کہ ان میں عقل نہیں ہوتی اس لئے تشریع کے مکلف نہیں ہوتے اور ان کی بعض خدمتیں شرع پر منطبق نہیں ہوتیں مثلا اگر مسلمانوں اور کافروں میں مقابلہ ہو تو مسلمانوں کا غلبہ مقصود تشریعی ہے اور ایسا ہونا بعض اوقات خلاف مصلحت اور حکمت ہوتا ہے اسلئے ایسی جماعت کے سپرد کیا گیا جس کو اس سے کچھ بحث نہیں اور ایسا کام سالک کب کر سکتا ہے اور اس کو کیسے جائز ہوتا ـ اسی سلسلہ میں یہ بھی فرمایا کہ میرا رجحان پہلے اس طرف تھا کہ مجذوبین اجتہاد نہیں کرتے محض امر صریح کے متبع ہیں اور ملائکہ کے متعلق بھی ہیی خیال تھا کہ وہ محض نصوص کے متبع ہیں مگر حدیث جبریل انہ د س الطین فی فم فرعون مخافۃ ان تدرکہ الرحمۃ ( جبریل علیہ السلم فرعون کے منہ میں گارا اس لئے ٹھونس رہے تھے کہ کہیں رحمت حق اس پر متوجہ نہ ہو جائے ) (روایتہ بالحاصل )سے نیز حدیث القاتل التائب من الذنب اختلف فیہ ملائکۃ الرحمۃ والعذاب (جس قاتل نے گناہ (قتل ) سے توبہ کر لی تھی (بعد مرنے کے ) رحمتہ اور عذاب کے فرشتوں میں اسکے بارہ میں اختلاف ہوا ) سے اس طرف رجحان ہو گیا کہ ملائکہ اجتہاد بھی کرتے ہیں وکذا المجذوبین وزادالرحجان بقصۃ الاشراقی ان المجذوبین مختلفون فی احکام بقاء السلطنۃ و تبد لھا ـ (جو ملائکہ کا حال ہے یہی حال مذوبین کا ہے اور اشراقی صاحب ( جو حضرتؒ کے زمانہ میں ایک مذوبؒ تھے ) کے قصہ سے یہ خیال اور بڑھ گیا کیونکہ وہ فرماتے تھے کہ مجذوبوں میں اس میں اختلاف ہے کہ انگریزی سلطنت باقی رہے یا اس کو بدل دیا جائے ) ـ