ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے نزول میں کسی نے اختلاف نہیں کیا بلکہ اجماع ہے سوائے اس قادیانی کے صرف اس نے عیسی علیہ السلام کی آمد سے انکار کیا اور انکار بھی کیسا کہ خود ہی عیسی بن بیٹھا ، کسی نے خوب کہا ہے :
بنمائے بصاحب نظرے گوہر خودرا عیسی نتواں گشت بتصدیق خربے چند
اور اس شخص کے نزدیک اجماع تو کیا چیز ہے یہ تو کہتا ہے کہ اگر حدیث بھی میرے اصول سے ثابت نہ ہو تو اس حدیث کو بھی ردی کے ٹوکرے میں ڈال دیا جائے ۔ ایک صاحب کے سوال کے جواب میں اس مدعی کے دلائل کے متعلق فرمایا کہ ایسے دلائل تو کوئی بات نہیں ، آدمی جب کوئی کام کرتا ہے تو شیطان اور نفس اس کو ایسی ہزاروں چیزیں سمجھا دیتے ہیں ۔ عرض کیا کہ ذہانت سے کام لیتا تھا ، فرمایا کہ سب ہی کچھ آدمی کے اندر ہے چاہے جس سے کام لے لے ، فرمایا کہ ذہانت پر ایک حکایت یاد آ گئی جس سے معلوم ہو گا کہ ذہانت کچھ اہل حق ہی کے ساتھ خاص نہیں ، لکھنؤ پر جب انگریزوں کا تسلط ہو گیا تو ایک انگریز افسر نے ایک مجتہد کو بلایا ان مجتہد نے کہا کہ اگر حاکمانہ طور پر بلانا ہے تو حکم دے کر گرفتار کر لیا جائے اور اگر دوستانہ طریق پر بلانا ہے تو جس طرح بادشاہ بلاتے تھے احترام شان و شوکت سے اسی طرح پر بلایا جائے ۔ اس انگریز افسر نے کہا کہ ہم دوستانہ طریق پر بلانا چاہتے ہیں اور اس نے بڑی شان و شوکت سے استقبال وغیرہ کا انتظام کیا ، مجتہد گئے ملاقات ہوئی ، اس انگریز نے اول یہ سوال کیا کہ آپ کے نزدیک یہاں جہاد کا کیا حکم ہے ، کہا کہ ہمارے یہاں جہاد کے لیے امام کا ہونا شرط ہے اور امام اس وقت ہے نہیں اس لیے یہ سوال سنیوں سے کیجئے اس نے دریافت کیا کہ اگر امام ہو تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے کہا کہ امام مہدی علیہ السلام سے اس طرف کوئی امام نہ ہو گا ۔ سو جب مہدی علیہ السلام ہوں گے تو ان کے ساتھ عیسی علیہ السلام بھی ہوں گے اور دونوں حضرات مشورہ کر کے جو فیصلہ کر دیں گے اس سے نہ تمہیں انکار ہو گا نہ ہم کو وہ انگریز دم بخود رہ گیا پھر کوئی سوال نہیں کیا ، کیا مقصود اس نے اپنا حاصل کر ہی لیا تھا کہ ان کے یہاں جہاد نہیں ۔14 ذیقعدہ 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم چہار شنبہ
اقوال
( ملفوظ 279 ) فضول سوالات کا مرض عام ہو گیا ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل فضول سوالات کرنے کا مرض قریب قریب عام ہو گیا ہے ۔ شاہ جہاں پور میں ایک طالب علم نے مجھ سے دریافت کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو شفاعت کا اذن ہو چکا یا وہاں پر ہو گا ، میں نے کہا کہ اس تحقیق سے فائدہ کیا کہا کہ ویسے ہی پوچھتا ہوں ، میں نے کہا آخر اس سوال کی غایت کیا ہے یہ تو معلوم ہے کہ شفاعت ہو گی اور یہ بھی معلوم ہے کہ بعد اذن کے ہو گی ۔ اب یہ کہ یہاں اذن ہو چکا یا وہاں ہو گا ۔ اس سوال کی کیا ضرورت پیش آئی ، مولوی مسیح الزمان خاں شاہ جہان پوری بڑے ہی ظریف تھے ، وہ بھی تشریف رکھتے تھے ، کہنے لگے کہ بڑا فائدہ ہے اگر ان کو یہ تحقیق ہو گئی کہ اذن ہو چکا ، تب تو مایوس ہو کر بیٹھ جائیں گے اور اگر یہ معلوم ہوا کہ ابھی نہیں ہوا تو یہ بھی درخواست کریں گے ۔ شاید ان کے حق میں قبول ہو جائے وہ طالب علم بہت شرمندہ ہوا اور پھر سوال نہیں کیا ، اس قسم کے سوالات کرنا فضول وقت کو برباد کرنا ہے ۔
( ملفوظ 278 ) عورتوں کا سفید لباس پہننا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ تشبہ کا مسئلہ نہایت نازک ہے لوگ اس کو ہلکا سمجھتے ہیں ۔ ایک صاحب نے عرض کیا کہ عورتیں خصوص لڑکیاں آج کل سفید لباس پہننے لگی ہیں یہ مردوں سے تشبہ تو نہ ہو جائے گی ، فرمایا کہ وہاں کے رسم و رواج پر ہے دیکھ لیا جائے کہ عام دیکھنے والوں کو اس سے کھٹک تو نہیں ۔
( ملفوظ 277 ) لفظ ” حضور ” کا استعمال
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضور کا لفظ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ استعمال ہوتا ہے ۔ کیا یہ الفاظ اوروں کے لیے بھی استعمال کرنا جائز ہے ؟ فرمایا کہ جہاں پہلے سے تخصیص ہو جائے وہاں یہی حکم ہے جہاں پہلے ہی سے عموم ہوں وہاں یہ حکم نہیں ۔
( ملفوظ 276 )سائل کے سلام کا جواب اور کاغذ میں مٹھائی دینا
ایک مسئلہ خاص کے سلسلہ میں حضرت والا کوئی فقہ کا فتوی ملاحظہ فرما رہے تھے ، فرمایا کہ عجیب عجیب جزئیات لکھی ہیں ۔ لکھا ہے کہ اگر سائل آ کر سلام کرے اور پھر مانگے اس کے سلام کا جواب دینا واجب نہیں اس لیے کہ مقصود اس کو سلام کرنا نہیں بلکہ مانگنا ہے ، فرمایا کہ ایک اور جزئی لکھی ہے کہ ہمارے زمانہ میں روافض داہنے ہاتھھ میں انگوٹھی پہنتے ہیں اس لیے گو یہ سنت ہے مگر روافض کا شعار ہونے کی وجہ سے مکروہ ہے ۔ فرمایا کہ ایک اور جزئی لکھی ہے جو کاغذ میں مٹھائی وغیرہ لپیٹتے ہیں اس کے متعلق لکھا کہ نجوم و طب اور ادب کی کتاب کے اوراق میں لپیٹ لینا جائز ہے مگر شرط یہ ہے کہ اس میں اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا نام نہ ہو اور اگر ہو اس کو جدا کر لیا جائے ۔ ایک صاحب نے عرض کیا کہ لپیٹ لینا ناجائز ہے یا مکروہ ہے ، فرمایا کہ الفاظ تو مجھے یاد نہیں مگر تقابل کیا ہوا مکروہ وہ بھی ناجائز ہی کی ایک قسم ہے ۔ اسی سلسلہ میں فرمایا کہ اس بلا میں تو ہم بھی مبتلا ہیں ایسی چیزیں بدون ان قیود کی رعایت کے لپیٹ لیتے ہیں اور یہ بہت ہی برا ہے کہ جس میں خود مبتلا ہو اس کو کھینچ تان کر جائز کرنے کی کوشش کرے اس سے اچھا ہے کہ اپنی غلطی کا اقرار کر لے ۔
( ملفوظ 275 )شبہ کی صورت میں مفتیوں سے پوچھنا
ایک طالب علم نے ایک واقعہ کی نسبت کہیں باہر علماء سے استفتاء کیا تھا جواب آنے پر حضرت والا کو دکھایا گیا ملاحظہ فرما کر فرمایا کہ جواب صحیح نہیں ، فلاں فلاں علماء کو اور دکھانا چاہیے ۔ ایک صاحب نے عرض کیا کہ اگر جواب صحیح نہ ہو تو کیا چند مفتیوں کو دکھلانا ضروری ہے ، فرمایا کہ ضرورت کی بناء تو آپ خود ہی فرض کر رہے ہیں کہ اگر جواب صحیح نہ ہو ، عرض کیا کہ اگر شبہ ہو ، فرمایا کہ اگر شبہ ہو تب ہی دکھلانا ضروری ہے اور اگر شبہ نہ ہو تو پھر اس کا مکلف نہیں ، عرض کیا کہ اگر مفتی کو خود شبہ ہو تو اس کو کیا دوسرے مفتی سے پوچھنا چاہیے ، فرمایا کہ اس وقت بھی پوچھنا واجب ہے ۔
( ملفوظ 274 )آہستہ گفتگو سے دوسرے کی اذیت
ایک صاحب نے دستی استفتاء پیش کیا ۔ حضرت والا نے دریافت فرمایا کہ ممکن ہے کہ کتاب دیکھ کو جواب لکھوں تو آپ کو کس طرح پہنچاؤں گا ۔ اس پر ان صاحب نے نہایت آہستہ آواز سے جواب دیا کہ سب کو حضرت والا نہ سن سکے اس پر تنبیہ فرمائی کہ ایسے طریق سے کلام کرنا چاہیے کہ دوسرا سن سکے اس تنبیہ پر بھی ان صاحب کی آواز میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ، فرمایا کہ آپ سنانے سے معذور ہیں اور میں سننے سے معذور ہوں ، بند کی جائے گفتگو یہ آج کل کا ادب رہ گیا ہے کہ جس سے دوسرے کو اذیت پہنچے ( نوٹ ) جامع ملفوظات نے اس استفتاء کے رکھنے یا واپس کر دینے کا ذکر نہیں کیا ، غالب تو یہی ہے کہ واپس کر دیا ہو گا ۔ ( محشی )
( ملفوظ 273 )درویشی کا ڈھونگ یہاں نہیں
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اس طریق کی حقیقت مردہ ہو گئی تھی اب الحمد للہ مدتوں بعد زندہ ہوئی اور اسی احیاء کے سلسلہ میں صاف کہتا ہوں کہ ہم تو طالب علم ہیں ہم نہیں جانتے کہ درویش کسے کہتے ہیں لوگ تو یہ چاہتے ہیں کہ رنگین کپڑے ہوں ، آنکھیں بند ہوں ، بڑے دانوں کی تسبیح ہاتھ میں ہو کہ جو لٹھ کا بھی کام دے ہر وقت ایک پینک سی میں رہے جیسے افیون والا استغراق کی حالت میں ہوتا ہے ۔ سو یہ ڈھونگ یہاں پر نہیں اگر درویشی یہ ہے تو ہم درویش نہیں کیوں صاحب کیا کیمیا گر کے لیے کسی خاص ہیئت اور خاص لباس کی بھی ضرورت ہے اور کیا اس کی بھی ضرورت ہے کہ کیمیا گر فیشن ایبل ہو بلکہ اس کے لیے تو ایسا ہونا عیب کی بات ہے اس کے پاس ایسی چیز ہے کہ اگر وہ مل گئی تو ان سب سے استغناء ہو جائے تو کیا دین کیمیا سے کم ہے کہ اس کے لیے ان رسوم کی ضرورت ہو الحمد للہ یہاں پر صحیح دین ہے اسی کی تعلیم ہے اسی کی تدابیر ہیں اسی کی اشاعت ہے اگر اشاعت نہیں ہے تو اشاعت کسے کہتے ہیں میں تو ہر وقت اسی کا اہتمام تقریر سے تحریر رکھتا ہوں ۔ اس طریق کی حقیقت کا انکشاف لوگوں پر ہو جائے اور ان کا دین محفوظ ہو جائے بد فہم اس سے کوسوں دور بھاگتے ہیں ، چاہتے ہیں کہ اس رسمی اور عرفی پیری مریدی کا شکار بنے رہیں ۔ سو اگر وہ اسی میں رہنا چاہتے ہیں تو اور کہیں جائیں یہاں تو سیدھی اور سچی تعلیم دی جائے گی ۔ اگر یہ منظور نہیں تو اور بہت درویش اور مشائخ ہیں دنیا میں جائیں ان کے پاس وہاں مرضی کے موافق تعلیم ہو گی ، یہاں پر نباہ نہیں ہو سکتا ، یہاں پر بدفہم نہ رہ سکتا ہے نہ اس کو رہنے دے سکتا ہوں ۔
13 ذیقعدہ 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم سہ شنبہ
( ملفوظ 272 )اصول کی پابندی اور بیعت کی شرائط
ایک نووارد صاحب نے حضرت والا سے بیعت کی درخواست کی ۔ حضرت والا نے فرمایا کہ بیعت کوئی ضروری چیز نہیں ، اصل چیز تعلیم ہے اور یہ خیال کہ بدون بیعت ہوئے نفع نہیں ہو سکتا ، یہ خیال جہالت کا ہے بیعت الگ چیز ہے اس کی بھی ایک خاص برکت ہے مگر اس کو درجہ کا دخل نہیں کہ اس کے وجود عدم پر نفع اور ضرر کا مدار ہو اس پر ان صاحب نے عرض کیا کہ جو حضرت حکم فرمائیں میں تعمیل کے لیے حاضر ہوں ، فرمایا اس میں حکم کی کون سی بات ہے اور میں جو فائدہ بیان کرتا ہوں مجھے تنگ کرنا مقصود نہیں ۔ مطلب میرا یہ ہوتا ہے کہ طالب حقیقت سمجھ لے اور معاملہ صاف ہو اور بدون اس کے محض باتیں بنانے سے کام نہیں چلتا ، کام تو کرنے سے چلتا ہے اور کام بھی طریقہ اور اصول سے ہو ان اصول پر عمل کر کے تو دیکھے جو پھر کبھی بھی تنگی یا دشواری پیش آئے اور ناواقف لوگ اسی سے گھبراتے ہیں اگر میرے یہاں پر اصول نہ ہوتے خواہ وصول کر لیا کرتا مگر عوام خوش رہتے مگر میں نے اپنا دنیوی خسارہ گوارہ کر لیا محض اس واسطے کہ یہ لوگ راستہ پر پڑ جائیں اس لیے یہ اصول اختیار کیے اس لیے نہ معتقد بنانے کی کوشش کرتا ہوں نہ غیر معتقد بنانے کی کوشش کرتا ہوں صحیح اصول پیش کر دیتا ہوں اس پر چاہے کوئی معتقد رہے یا غیر معتقد نہ اس کی خوشی کہ کوئی معتقد ہو نہ اس کا رنج کہ کوئی غیر معتقد ہو ، الحمد للہ سب برابر ہیں کسی کو بلانے نہیں جاتا ، کوئی اشتہار نہیں دیا ، کیا میرے دماغ میں جنون ہے مالیخولیا ہے کہ میں یہ چاہوں کہ لوگ مجھ سے غیر معتقد ہوں ۔ ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت والا کے رسائل اور کتابیں اشتہار رہی تو ہیں ان کو لوگ دیکھ کر آتے ہیں ، فرمایا کہ مگر یہاں آ کر رسائل کو بزعم خود جب میرے معاملات پر منطبق نہیں پاتے تو میں ان کی طرف سے یہ شعر پڑھتا ہوں :
چہ قیامت است جاناں کہ بعاشقاں نمودی رخ ہمچو ماہ تاباں دل ہمچو سنگ خارا
اور میں الحمد للہ اپنی اصلاح سے بھی غافل نہیں ، چاہے مجھ سے کوئی قسم لے لے ، جو بات معلوم ہوتی جاتی ہے اس کی اصلاح کرتا رہتا ہوں ، میں اپنے کو بھی اصلاح سے بری نہیں سمجھتا ، صدہا نقائص میرے اندر ہیں بلکہ اہل معاملہ جو ناواقفی سے اعتراض کرتے ہیں وہ اکثر غلط ہوتا ہے اور میں جو اپنی نسبت کہتا ہوں وہ صحیح بقول شاعر :
خود گلہ کرتا ہوں اپنا تو نہ سن غیروں کی بات ہیں یہی کہنے کو وہ بھی اور کیا کہنے کو ہیں
( اے جان من یہ کیا قیامت ہے کہ تم نے عاشقوں کو اپنا چہرہ تو چمکتے ہوئے چاند جیسا دکھلایا اور دل پتھر جیسا 12 )
ناواقفوں کی تو یہ حالت ہے کہ ایک بار ایک چھکڑا بھرا ہوا عورتوں کا قصبہ تیتروں سے آیا ، بیعت ہونے کی درخوست کی ، میں نے دریافت کرایا کہ خاوند کی اجازت لے کر آئیں یا نہیں ، معلوم ہوا نہیں میں نے بیعت سے انکار کر دیا اور کہہ دیا خاوندوں سے اجازت لے کر اور ان کے دستخط کرا کر سب الگ الگ خطوط میرے پاس بھیجو ، میں بیعت کر لوں گا ۔ جناب نہ پھر کوئی تیتردن سے آیا نہ بٹیردن سے یہ تو طلب کی حالت ہے اگر طلب ہوتی تو میں نے کون سی ایسی سخت شرط لگائی تھی کہ وہ ہو نہیں سکتی تھی اس پر میری شاکی ہو کر اور اعتراض کر کے گئیں ۔
اب مقابلہ میں اہل فہم کی حالت بیان کرتا ہوں ۔ مولوی عبدالحئی صاحب حیدر آباد دکن سے چلے تو چار شرطیں ذہن میں لے کر چلے تھے کہ جہاں یہ شرطیں پاؤں گا وہاں بیعت ہوں گا ۔ ایک تو یہ کہ بیعت کو تعلیم کی شرط نہ بناوے دوسرے کہ وہاں لنگر نہ ہو ، تیسرے یہ کہ ان پڑھ نہ ہو ، چوتھے یہ کہ بہت بوڑھا نہ ہو ، چاروں شرطیں عجیب ہیں اور یہاں پر الحمد للہ بزرگوں کی دعاء کی برکت سے چاروں پہلے ہی سے ہیں ۔ سو دیکھ لیجئے کہ کیسی سمجھ کی بات ہے یہاں کا طرز الحمد للہ اس مقولہ کا مصداق ہے محبت رکھیں پاک لینے دینے کے منہ میں خاک ، غرض اس طریق سے ناواقفی کے سبب لوگوں کو پریشانی میں ابتلا ہے بس میں اسی کو ظاہر کرنا چاہتا ہوں ۔
( ملفوظ 271 )پیر کو سب سے افضل سمجھنے کا فائدہ
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ پیر کی افضلیت بمعنی انفعیت کا عقیدہ ہونے میں یہ راز ہے کہ منافع باطنیہ کا مدار جمعیت قلب پر ہے تو اس عقیدہ اور خیال کی بدولت جمعیت قلب میسر ہو جاتی ہے اور اس کے خلاف جمعیت قلب نہیں ہو سکتی اس لیے قلب مشوش رہے گا ۔

You must be logged in to post a comment.