( ملفوظ 90 ) حضرت کی دارو گیر اور لوگوں کا اعتراض

فرمایا کہ آج نماز عید میں بدتمیزی کا طوفان نہ تھا ، صرف موج تھی کیونکہ تھوڑی سی فوج تھی ۔ 27 رمضان المبارک یعنی آخری جمعہ کے روز تو لوگوں نے نہایت ہی گنوار پن سے کام لیا ۔ بھلا اگر میرے مزاج میں سختی ہوتی تو آج میں نے سختی کا کیوں نہ برتاؤ کیا ۔ خدانخواستہ کوئی مجھ کو جنون تھوڑا ہی ہے کہ ویسے ہی لوگوں کے سر ہوتا پھروں ، جب کوئی بے اصولی اور بے ڈھنگا پن اختیار کرتا ہے ایسا برتاؤ کرتا ہے مجھ کو بھی تغیر ہو جاتا ہے اس پر معترضین اہل الرائے میرے کہنے سننے کو تو دیکھتے ہیں مگر لوگوں کی حرکات کو نہیں دیکھتے
کہ آخر انہوں نے بھی کچھ کیا ہے یا نہیں ؟ ان کی نالائق حرکتوں کو نظر انداز کر کے اور میری دارو گیر کو پیش نظر رکھ کر مجھ پر سختی کا فتوی دیتے ہیں یہ انصاف ہے اور یہ ہیں فیصلہ کرنے والے مگر خیر خوب فتوی دیں اور مجھ کو بدنام کریں مجھ پر بحمد اللہ ان باتوں کا کوئی اثر نہیں اور نہ میں اصول صحیحہ کو کسی کی وجہ سے چھوڑ سکتا ہوں میں تو اس سے بھی خوش ہوں کہ ان بدفہموں کو تنبیہ سے تکلیف پہنچی ، انہیں معلوم تو ہو کہ کسی بے خطا آدمی کو ستانے پر یہ گت بنا کرتی ہے ۔

( ملفوظ 89 )مخاطب پر حق کا اثر

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مخاطب پر حق کا اثر ہوتا ہی ہے حتی کہ اگر غصہ بھی حق پر ہو اور بالکل حق پر تو مخاطب کو اس
میں ندامت ہوتی ہے ۔ اگر اس کے خلاف ہو تو گو کلیہ نہیں مگر احتمال غالب یہ ہوتا ہے کہ اس غصہ میں ضرور کچھ آمیزش ہے باطل کی ۔ میں نے اس کا تجربہ کیا ہے ۔ مثلا کسی کو نمازی نماز کی نصیحت کرے تو اس کی ایک صورت تو یہ ہے کہ محض اللہ کے واسطے تبلیغ کی اور
اور اس کی ہمدردی اور خیر خواہی مقصود ہے تو اس کا اثر تو اور ہو گا اور ایک یہ کہ اس کی تحقیر مقصود ہے اور اپنی بڑائی اور اپنے کو نمازی
سمجھ کر اس سے افضل سمجھ رہا ہے اس وقت کا کچھ اور اثر ہو گا ۔

یکم شوال المکرم 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح نماز عید الفطر یوم سہ شنبہ

( ملفوظ 88 )حضرت کے گھر والوں کا واقعہ

خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ حضرت گھر میں عورتیں بھی آتی ہوں گی ان پر بھی بے اصول باتوں پر ڈانٹ ڈپٹ ہوتی ہو گی ، فرمایا کہ پرسوں ہی کا واقعہ ہے کہ چند عورتیں گاؤں کی آئی تھیں ، وہ کچھ کپڑا ساتھ
لائی تھیں ، انہوں نے گھر میں دینا چاہا گھر میں سے کہا کہ بدون ان کی اجازت کے میں نہیں لے سکتی ، ایک ان میں سے بولی کہ مولوی جی
تھوڑا ہی گٹھری کو کھول کر دیکھیں گے انہوں نے ڈانٹا اور کہا کہ کیا واہیات ہے میں بغیر ان کی اجازت کے ایسا کب کر سکتی ہوں ۔ خبردار ! جو ایسی بیہودہ فرمائش کی سو ان کو بھی ضرورت پڑی ڈانٹنے کی وہ سب عورتوں کی بڑی سفارش کیا کرتی تھیں ، جب اپنے پر پڑی تو وہی کیا جو میں کرتا ہوں اور میرا معاملہ تو گھر والوں کے ساتھ بھی ان باتوں میں وہی ہے جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر
والوں کو فرمایا تھا کہ پہلے تم عمر کے اقارب تھے اور اب امیرالمؤمنین کے اقارب ہو ، لوگوں کی نظر تمہارے افعال پر ہو گی ، اگر تم نے
کچھ فروگذاشت کی تو تم کو اوروں سے دگنی سزا دوں گا ۔

( ملفوظ 87 )غیر ضروری سوالات پر حضرت کا جواب

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اکثر خطوط میں غیر متعلق اور غیر ضروری سوال آتے ہیں ان میں بعض تو اقارب کے خطوط ہوتے ہیں سو ان سے تو اور معاملہ ہوتا ہے مگر دوست احباب جو ایسی فضولیات پوچھتے ہیں مثلا طاعون وغیرہ کے متعلق یا اور کوئی غیر ضروی سوال کرتے ہیں یا پوچھتے ہیں میں اکثر یہ شعر لکھ دیتا ہوں :

ما قصہ سکندر دارا نخواندہ ایم از ما بجز حکایت مہر و وفا مپرس

اکثر لوگ خواب لکھ کر بھیج دیتے ہیں میں لکھ دیتا ہوں کہ مجھ کو تعبیر سے مناسبت نہیں اور یہ شعر لکھ دیتا ہوں :

نہ شبم نہ شب پرستم کہ حدیث خواب گویم چو غلام آفتابم ہمہ ز آفتاب گویم

اگر خواب کے قصہ میں رہوں تو بیداری کا کوئی بھی نہ ہو ، میں یہ چاہتا ہوں کہ ضروریات میں وقت صرف ہو اور کام کی باتوں میں سب مشغول ہیں ، فضولیات کو سب چھوڑ دیں ۔

( ملفوظ 86 ) اصول کی پابندی ، بے انتظامی سے الجھن

فرمایا کہ لوگوں کی تو عادت نہیں صفائی اور انتظام کی الجھی ہوئی طبیعتیں ہیں میرا تو گھر میں بھی یہی معمول ہے جو چیز جہاں سے اپنے ہاتھ سے لیتا ہوں وہیں رکھتا ہوں ، مثلا قلمدان ، دیا سلائی گھر میں جہاں سے اٹھاتا ہوں وہیں خود رکھتا ہوں دوسرے پر اس کام کو نہیں چھوڑتا ۔ جی یہ چاہتا ہے کہ اصول صحیحہ کا میں بھی تابع ہوں اور دوسرے کو بھی ان ہی کا تابع بناؤں ، بس اتنی سی بات ہے جو لوگوں پر گراں ہے نہ میں خادم بننا چاہتا ہوں نہ مخدوم نہ تابع نہ متبوع میں جس کام کا ہوں اگر کوئی سلیقہ سے مجھ سے وہ خدمت لینا چاہے جان و دل سے حاضر ہوں اور گڑبڑ کی حالت میں خدمت سے معذور ہوں میں کیا کروں اصول صحیحہ اللہ تعالی نے میری فطرت میں
رکھ دیئے ہیں ۔ اگر لوگ ان کے اختیار کرنے سے معذور ہیں تو میں ان کے عکس سے معذور ہوں ۔

( ملفوظ 85 )حضرت کا مزاج اور ناراضگی کی وجہ

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ بعض باتیں جو دوسروں کے یہاں استحسان کا درجہ رکھتی ہیں میرے یہاں ان کی کوئی قدر نہیں بلکہ مجھ کو تو ان سے نفرت ہے مثلا لوگوں کو مانوس کرنا جمع کرنا ، یہ سب چیزیں میرے یہاں محل نفرت ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھ پر ایک مجذوب کی نظر کا اثر ہے ان کی دعا سے میرا تکون ہوا ہے اور باوجود اتنی آزاد مزاجی کے جو تھوڑا بہت
ضبط ہے یہ حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی برکت ہے ۔ بات یہ ہے کہ ضروری خدمتوں کے لیے تو حاضر ہوں مگر لوگوں کی غیر ضروری خواہشوں کو کہاں تک پورا کروں مگر پھر بھی میرے یہاں باوجود قواعد و ضوابط کے جس کو لوگ تنگی سمجھتے ہیں بڑی سہولتیں ہیں ،
دوسرے مشائخ کے یہاں جا کر دیکھو ہفتوں ، عرض حاجت کی نوبت نہیں آتی ، اگر آئے بھی تو یہ خیال ہوتا ہے کہ کہیں گرانی نہ ہو اور میں تو روزانہ اس کے لیے تیار رہتا ہوں کہ کسی کا کوئی حرج نہ ہو کسی کی کوئی مصلحت فوت نہ ہو ، البتہ اتنا چاہتا ہوں کہ صاف بات ہو جو معاملہ ہو ایک طرف ہو کوئی الجھن باقی نہ رہے ، میں لوگوں کو ان کی خدمت انجام دے کر فارغ کرنا چاہتا ہوں اور وہ مجھ کو اور میرے قلب کو فضول فرمائشوں میں مشغول کرنا چاہتے ہیں بس یہی سبب ہے لڑائی کا لوگوں سے ۔

( ملفوظ 84 )طالب کو شیخ کے تصرف کا انتظار

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل تو لوگوں کو صاحب تصرف شیخ کی تلاش رہتی ہے ایسے شیخ کی تلاش اس لیے کرتے ہیں کہ خود کچھ کرنا نہیں چاہتے ۔ یہ چاہتے ہیں کہ شیخ اپنے تصرف سے سب کچھ کر دے ، ولایت غوثیت قطبیت سب کچھ حاصل ہو جائے اور کرنا کچھ بھی نہ پڑے ، بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔ خیال خام ہے ایک بزرگ کی حکایت ہے کہ ان کے یہاں ایک مرید کئی سال سے پڑا ہوا تھا اور لوگ آتے تھے کوئی چھ ماہ میں کوئی سال بھر میں اپنا کام کر کے اور خلافت لے کر چل دیتے مگر یہ مرید اسی خبط میں تھا کہ از خود کچھ نہ کروں گا ، پیر ہی کچھ دیں گے تو لوں گا اور پیر تصرف کے نفع کا ناکافی ہونا سمجھایا کرتے تھے ۔ آخر اس کو وسوسہ نے
گھیرنا شروع کیا کہ معلوم ہوتا ہے کہ پیر تصرف سے کورے ہیں اس کی اطلاع پیر کو ہو گئی حلانکہ یہ کوئی نقص نہیں مگر چونکہ یہ خیال خلاف واقعہ تھا اس لیے پیر نے اس وقت تو ضبط کر لیا ، یہ بڑے ظرف کے لوگ ہوتے ہیں اس وقت پی گئے ، کچھ روز بعد اس کو اپنی قوت تصرف دکھلانا چاہی ۔ ایک روز فرمایا ایک مٹکے میں پانی بھر کر مسجد کے دروازہ پر رکھو اور ایک مونڈھا وہاں پر رکھو اور پچکاری لا کر رکھو اس نے یہ سب انتظام کر کے شیخ کو اطلاع دی ، شیخ مسجد کے دروازہ پر آ کر اور پچکاری ہاتھ میں لے کر بیٹھ گئے اور جو اس طرف سے گزرا خواہ کافر ہی ہو شیخ ایک پچکاری بھر کر اس پر رنگ پھینکتے جس پر رنگ کی ایک چھینٹ بھی پڑ جاتی وہی بے اختیار

اشھد ان لا الہ الا اللہ و اشھد ان محمدا عبدہ و رسولہ
پڑھنے لگتا ۔ ایک ہی تاریخ میں شیخ نے ہزاروں کفار کو مسلمان بنا دیا ۔ جب پانی ختم ہو گیا تو شیخ مسند پر پہنچے اور فرمایا کہ بلاؤ اس مرید کو وہ آیا ، فرمایا کہ تم نے شیخ کا تصرف دیکھا ۔ میں نے یہ سب کچھ تیرے ہی دکھلانے کی وجہ سے کیا ہے مگر تجھ کو تو جب ہی کچھ ملے گا جب تو خود چکی پیسے گا اس وقت شیخ کو جوش ہی آ گیا کہ لاؤ آج اس کو دکھا ہی دوں کہ صاحب تصرف کسے کہتے ہیں مگر اس وقت اگر کوئی ایسا بھی کر دکھائے مگر ہو وہ مخالف سنت تو ایسے شخص کے پاس جانے کی اور اس سے بیعت ہونے کی اجازت نہ ہو گی اس لیے کہ ایسی باتیں شعبدہ باز بھی کر سکتے ہیں کیونکہ عوام ان چیزوں میں فرق نہیں کر سکتے اور نہ ان کے پاس معلوم کرنے کا کوئی معیار ہے بس ان کے لیے معیار یہی ہے کہ پیر کے افعال و اقوال شریعت اور سنت کے موافق ہوں ۔

( ملفوظ 83 ) زیادہ ناگواری بے فکری سے ہوتی ہے

فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ میرے سب دوست صحیح اصول پر ہوں اگر ان کو اہتمام میں لگا دیکھتا ہوں تو معمولی غلطیوں سے درگزر کرتا ہوں ، زیادہ ناگواری اس وقت ہوتی ہے جب کسی کو بے فکر دیکھتا ہوں ۔

( ملفوظ 82 )حضرت پر خشیت حق

فرمایا کہ مجھ کو اپنے اصول اور قواعد پر ناز نہیں بلکہ ہر وقت ڈرتا رہتا ہوں کہ یہ قواعد نا پسندیدہ نہ ہوں اس لیے یہ عرض کرتا ہوں کہ اے اللہ گنہگار ہوں نہ میرے پاسعمل ہیں نہ مجھ کچھ آوے جاوے آپ کے فضل پر نظر ہے آپ معاف فرما دیں ۔

( ملفوظ 81 )بے تکلفی کے بغیر خدمت نہ لینا

فرمایا کہ بعض امور فطری ہوتے ہیں وہ کسی کی رعایت سے کیسے بدلے جا سکتے ہیں ۔ مثلا مجھ کو کسی ایسے شخص سے کہ جس سے بے تکلفی نہ ہو ، خدمت لیتے ہوئے حجاب معلوم ہوتا ہے یہ فطری چیز ہے کسی کی خاطر سے اس کو کیسے بدل دوں ۔ ایک مولوی صاحب کے ایک مرید تھے وہ ایک شرعی ضرورت سے ان کو چھوڑ کر یہاں پر آئے ، ان کو پہلے پیر کی یہاں عادت تھی ہر طرح کی خدمت کرنے کی اور یہاں ان کو کسی خدمت کی بھی اجازت نہ ہوئی ۔ آپ نے ایک رقعہ مجھ کو دیا کہ میں تو سعادت سمجھ کر خدمت کرتا تھا ، مجھ کو سعادت سے محروم کیا گیا ، میں نے کہا کہ جہاں سعادت تقسیم ہوتی ہے وہاں جاؤ آدمی بے چارے نیک ہیں پھر وہ سمجھ گئے ، میں نے ان کی دلجوئی کے لیے دو چار مرتبہ ان سے کچھ کام بھی لے لیا جس سے ان کا وہم رفع ہو گیا ۔