( ملفوظ 100 ) بندہ کی ہمت اور حق تعالی کا جذب

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ بفضلہ تعالی کام سب کچھ ہو سکتا ہے ہمت کی ضرورت ہے بندہ کا فرض کام شروع کر دینا ہے اس میں لگ جانا ہے اور وہ صرف اسی کا مکلف ہے پھر چند روز میں انشاء اللہ تعالی سب کچھ ہو رہے گا ، ہمت تو وہ چیز ہے کہ پہاڑوں کو ہلا دیتی ہے اہل تواریخ نے حضرت سیدنا یوسف علیہ السلام کی ہمت کی ایک حکایت لکھی ہے جس وقت زلیخا نے مکان میں حضرت سیدنا یوسف علیہ السلام کو بلایا ہے تو اس مکان کے یکے بعد دیگرے سات درجے تھے اور ساتوں مقفل کر دیئے گئے تھے اور قفل بھی نہایت مضبوط تھے مکان کو اس قدر محفوظ کر کے تب زلیخا نے اپنی خواہش کا اظہار کیا مگر قوت کے سامنے ایک بھی زلیخا کی نہ چلی حقیقت تو یہ ہے کہ یہ قوت نبوت ہی تھی جو سیدنا یوسف علیہ السلام کا اتنا قوی توکل رہا ورنہ دوسرا تو سر کے بل آ کر گر جاتا ۔ غرض مکان سب مقفل اس میں سے نکل جانے کے لیے کوئی راستہ بظاہر نظر نہیں آتا تھا مگر اللہ رے ہمت اور بھروسہ اس وقت آپ پر
یہ حال غالب ہوا کہ مجھ کو اپنا کام کرنا چاہیے ، آگے ان کا کام ہے ضرور مدد فرمائیں گے ۔ غرض یہ کہ سیدنا یوسف علیہ السلام وہاں سے توکل پر بھاگے اور زلیخا پیچھے دوڑیں جس دروازہ پر آپ علیہ السلام پہنچتے تھے پہنچنے سے قبل اس کا قفل ٹوٹ کر کواڑ کھل جاتے تھے ، ساتوں دروازوں کو اسی طرح طے کر گئے اور عفت اور عصمت کے ساتھ باہر نکل آئے ۔ اسی کو مولانا فرماتے ہیں :

گرچہ رخنہ نیست عالم راپدید خیرہ یوسف دارمے باید دوید

اور مشکل کام ہم کو ہی مشکل معلوم ہوتا ہے باقی ان کے نزدیک تو سب آسان ہے البتہ وہ طلب کو دیکھتے ہیں پھر تو سب کچھ ادھر ہی سے ہو جاتا ہے ۔ اسی کو مولانا فرماتے ہیں :

تو مگو مارا بداں شہ بار نیست باکریماں کارہا دشوار نیست

اور جو لوگ بیٹھے ہوئے نری آرزو اور تمنائیں پکاتے رہتے ہیں وہ اکثر محروم رہتے ہیں ۔ غرض ان کی طرف سے کچھ بھی کمی نہیں مگر آپ
بھی تو کچھ کیجئے ذرا حرکت کر کے دیکھئے پھر دیکھئے برکت ہوتی ہے یا نہیں ، بندہ ذرا بھی حرکت کرتا ہے تو ادھر سے جذب ہوتا ہے رحمت اور فضل متوجہ ہو جاتے ہیں اور اگر یہ بات نہ ہوتی تو کوئی بڑے سے بڑا بھی واصل نہ ہو سکتا کیونکہ بدون اس طرف سے جذب ہوئے یہ مسافت طے ہونا محال ہے ۔ اسی کو فرماتے ہیں :

نہ گرد و قطع ہر گز جاوہ عشق از دویدن ہا کہ می بالدبہ ایں خود ایں راہ چوں تاک از بریدن ہا

پھر اگر اب بھی کوئی محروم رہے تو بجز اس کے کیا کہیں گے کہ اس شخص نے اپنے ہاتھوں اپنی استعداد خراب کر لی جس کی وجہ سے یہ محروم ہے اور خسران اس کی گلو گیر ہے ۔ خوب فرماتے ہیں :

اس کے الطاف تو ہیں عام شہیدی سب پر ( یعنی اختیار منہ )

تجھ سے کیا ضد تھی اگر تو کسی قابل ہوتا ( یعنی اختیار امنک )

( ملفوظ 99 ) اس طریق میں راہبر کامل کے بغیر قدم نہ رکھے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہ طریق اصلاح بہت ہی نازک چیز ہے ہر شخص کی سمجھ میں نہیں آ سکتا جیسے طبیب جسمانی کا علاج ہر شخص کی سمجھ میں نہیں آ سکتا ۔ اس وقت کتابوں کے مطالعہ کر لینے کو لوگ بڑا کمال اور انتہائی معراج سمجھتے ہیں اگر ایسا ہی ہے تو
طب کے اندر بھی تو کتابیں مدون ہیں ان کو دیکھ کر امراض جسمانی کا علاج کیوں نہیں کر لیتے ۔ سو جیسے وہاں خود علاج نہیں کر سکتے یہاں بھی نہیں کر سکتے جیسے وہاں طبیب جسمانی کی ضرورت ہے ایسے ہی یہاں طبیب روحانی کی ضرورت ہے ۔ آخر دونوں میں فرق کیا ہے ذرا میں بھی سننے کا مشاق ہوں ۔ میں اس وقت ان لوگوں کے متعلق بیاں کر رہا ہوں جو اس راہ میں قدم رکھنا چاہتے ہیں وہ ذرا کان کھول کر سن لیں میں بقسم عرض کرتا ہوں کہ کمال کبھی بدون ماہر سے حاصل کیے نہیں پیدا ہو سکتا خود بخود اس راہ کو طے کرنا چاہتے ہیں سخت دھوکہ میں ہیں ، سخت غلطی میں ہیں اور اس غلطی کی بدولت ہزاروں اپنی جانیں دے بیٹھے ۔ اس راہ میں راہبر کی ضرورت ہے اور راہبر بھی کامل راہبر خاص ریاست رام پور کا ایک قصہ ایک میرے ہم سبق مولوی مظہر نے حضرت استاذی مولانا محمد یعقوب صاحب کے حضور میں بیان کیا کہ وہاں ایک درویش پر ایک حال طاری ہوا ۔ بے چارے فن سے ناواقف تھے اس لیے وارد کی حقیقت نہ معلوم کر سکے ۔ فلاں مولوی صاحب جو شیخ بھی مشہور تھے اس وقت زندہ تھے یہ درویش اس کی خدمت میں بھی حاضر ہوئے ۔ مولوی صاحب اس وقت درس میں تھے اور طلباء مثنوی شریف کا سبق پڑھ رہے تھے ۔ یہ درویش اس وقت ایسی حالت میں تھا کہ جس میں انسان اپنے کو زندیق اور ملحد بلکہ کتے اور سور سے بھی برا سمجھتا ہے ۔ مولوی صاحب نے اس سے پوچھا کہ بھائی تم کون ہو اور کیسے آئے ، عرض کیا کہ میں شیطان ہوں ، مولوی صاحب نے کہا کہ اگر شیطان ہو تو ” لا حول و لا قوۃ الا باللہ ”

وہ شخص وہاں سے اٹھ کر چلا آیا اور اپنی قیام گاہ پر پہنچ گیا اور یہ سمجھا کہ جب واقف راہ شخص نے بھی مجھ کو ایسا ہی سمجھا تو میں واقع میں ایسا ہی ہوں جب یہ ہے تو ایسے مردود سے دنیا کا پاک ہو جانا ہی بہتر ہے ۔ اپنے ایک مرید سے کہا کہ میں اپنا گلا کاٹوں گا ، اگر کچھ کھال باقی رہ جائے تو جدا کر دینا ، اس نے وعدہ کر لیا اس شخص نے حجرہ میں پہنچ کر چاقو سے اپنی گردن جدا کر دی ، مرید نے حجرہ کھول کر دیکھا تو پیر کا کام تمام ہو چکا تھا کچھ کھال الجھی ہوئی تھی اس کو حسب وصیت اس نے جدا کر دیا ۔ اس حالت میں مرید کو پولیس نے گرفتار کر لیا چونکہ معاملہ سنگین تھا اس لیے خاص نواب صاحب کے دربار میں مقدمہ پیش ہوا ، مرید کے بیان ہوئے ان مولوی صاحب کو بھی اطلاع ہوئی انہوں نے بھی اپنی معلومات کے موافق شہادت دی کہ واقعی یہ شخص درس کے وقت میرے پاس آیا تھا اور یہ یہ کہا تھا قرائن سے مرید کے بیان کا صحیح ہونا معلوم ہو گیا ، تب بے چارہ مرید کی جان بچی اور واقعہ کی حقیقت کا انکشاف ہوا حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے سن کر فرمایا کہ ان مولوی صاحب نے کچھ غور نہ فرمایا اس کا جواب یہ ہونا چاہیے تھا کہ اگر تو شیطان بھی ہو تو کیا ہوا شیطان بھی تو انہیں کا ہے نسبت تو پھر بھی باقی ہے ۔ اس سے اس شخص کی تسلی ہو جاتی اور یہ جواب علمی تو نہ تھا کیونکہ ایسی نسبت مطلوب تھوڑا ہی ہے لیکن یہ جواب حالی تھا یعنی خاص اس کی حالت کے مناسب تھا جیسے طبیب بعض اوقات خلاف قواعد کسی خاص مزاج کے اعتبار سے کچھ علاج کرتا ہے اسی لیے میں کہا کرتا ہوں کہ اس راہ میں ایسے شخص کی ضرورت ہے جو جامع بین الاضداد ہو جو سب کی رعایت کر سکے اور وہ اضداد محض صورتا ہوتے ہیں حقیقتا نہیں ہوتے اور ایسا جمع سخت نازک کام ہے ۔

علماء ظاہر کے لیے تو یہ آسانی ہے کہ وہ ظاہر پر اور قاعدہ پر فتوی دے کر الگ ہو جاتے ہیں اور غیر عالم کو یہ آسانی ہے کہ اس کو حدود پر نظر ہی نہیں اپنے ذوق پر حکم لگایا ، مشکل غریب جامع ظاہر و باطن کی ہے کہ اس کو دونوں متضاد کو جمع کر کے فتوی دینا پڑتا ہے ۔ خلاصہ یہ کہ ہے بدون رہبر کامل کے اس طریق میں قدم نہ رکھنا چاہیے اور اگر اس پر کسی کو شبہ ہو کہ ہم نے تو اس قسم کی بہت حکایت سنی ہیں کہ بہت لوگ بدون رہبر کے اس راہ کو طے کر گئے اور منزل مقصود پر پہنچ گئے تو صاحبو ! ایسا اول تو نادر ہے اور نادر قابل اعتبار نہیں پھر وہ نادر بھی کسی راہبر کی عنایت اور توجہ ہی کا ثمرہ ہوتا ہے اس لیے کہ وہ غیبت میں مخلوق کے لیے دعا کیا کرتے ہیں جس کی اس شخص کو خبر بھی نہیں تو اب بتلائیے اہل اللہ کی عنایت سے کوئی مستغنی کب ہوا اور میں تو اس باب میں ایسے محقق مسلم شخص کا فیصلہ آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں جس کے سن لینے کے بعد آپ کو کوئی شبہ ہی نہیں رہ سکتا ۔ مولانا رومی فرماتے ہیں :

بے عنایات حق و خاصان حق گر ملک باشد سیہ ہستش ورق

اور تنہا راہ کو طے کرنے کے متعلق بھی انہیں کا فیصلہ پیش کرتا ہوں ۔ فرماتے ہیں :

یار باید راہ را تنہا مرو بے قلاؤز اندریں صحرا مرو

کہ اس بیابان میں بدون رہبر کامل کے قدم نہ رکھو جس طرح بھی ممکن ہو ضرور کسی کو ساتھ لے لو اس لیے کہ وہ تم کو اس راہ پر خطرے اور دشوار گھاٹی سے حفاظت کے ساتھ نکال دے گا اور یہ سب ہائیکورٹ کے نظائر ہیں جس کے بعد کوئی شبہ ہی نہیں رہ سکتا ۔ فرماتے ہیں :

ہر کہ تنہا نادر ایں راہ را برید ہم بعون ہمت مرداں رسید

اور ایک دوسرے اہل تجربہ حضرت شیخ فرید شکر گنج فرماتے ہیں :
بے رفیقے ہر کہ شد در راہ عشق عمر بگذاشت و نشد آگاہ عشق
گر ہوائے ایں سفر داری ولا دامن رہبر بگیر وپس بیا

درارادت باش صادق اے فرید تابیابی گنج عرفاں را کلید

خلاصہ یہ ہے کہ نہ بدون کام کیے کچھ ہوتا ہے اور نہ بدون رہبر کے یہ راہ طے ہوتی ہے اور اس کا دامن پکڑ کر بھی کام جب بنے گا کہ جب اس کے سامنے اپنے کو اور اپنی رائے کو فنا کر دو ، مٹا دو اور اس راہ میں قدم رکھنے کے ساتھ ہی اس کی ضرورت ہے اور پہلی منزل اور شرط اعظم ہے ۔ اسی کو مولانا فرماتے ہیں :

قال رابگذار مرد حال شو پیش مرد کاملے پامال شو

( ملفوظ 98 )محبت کی شان ہی جدا ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اگر کسی کو کسی سے محبت ہوتی ہے تو اس کی ادا محبوب معلوم ہوتی ہے ۔ محب کی نظر میں محبوب کی شان بچے جیسی ہوتی ہے کہ وہ نوچے کھونچے سب ادا پیاری معلوم ہوتی ہیں اور اگر یہی حرکت کوئی بڑا کرے ناگوار ہوں گی ۔ میں خود اپنا حال بیان کرتا ہوں کہ ایک شخص ایک بات کرتا ہے ناگوار معلوم ہوتی ہے دوسرا وہی بات کرتا ہے اچھی تو کیا مگر ہاں ناگواری نہیں ہوتی ۔ بجز محبت کے اس کا کوئی ضابطہ نہیں حدود نہیں واللہ العظیم محبت وہ چیز ہے کہ عتاب اور غصہ پر بھی پیار معلوم ہوتا ہے ۔ کسی نے خوب کہا ہے :

تم کو آتا ہے پیار پر غصہ ہم کو غصہ پر پیار آتا ہے

محبت کے معاملات کی اور ہی شان ہوتی ہے اور اس پر قانون سے کوئی ملامت بھی نہیں ہو سکتی ۔ گو خشک علماء نے اہل محبت پر بہت کچھ
طعن و تشنیع کیے ہیں مگر ان کے ایسا کرنے کا سبب محبت کی حقیقت سے بے خبری ہے ان کو اس کوچہ کی ہوا ہی نہیں لگی ۔

( ملفوظ 97 ) مصائب کے اصل سبب معصیت کا بیان

ایک مولوی صاحب کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ اصل سبب مصائب کا معصیت ہے اب یہ شبہ ہوتا ہے کہ جو معصیت سے اجتناب رکھنے والے ہیں وہ بھی تو مصائب میں مبتلا ہوتے ہیں اس کا جواب یہ ہے کہ ان کے مصائب میں اور ان کے مصائب میں زمین آسمان کا فرق ہے یہ ان مصائب سے پریشان نہیں ہوتے اس لیے وہ حقیقی مصائب نہیں محض صورتا مصائب ہیں اور وجہ پریشان نہ ہونے کی یہ ہے کہ ان کو حق تعالی سے محبت ہوتی ہے اور محبت اور عشق وہ چیز ہے کہ تمام تلخیوں کو شیریں بنا دیتی ہے ۔
میں اس پر ایک مثال بیان کرتا ہوں کہ ایک عاشق مدت سے محبوب کی تلاش میں تھے کہ کہیں ملے تو دل ٹھنڈا ہو ، اس تمنا اور آرزو میں سالہا سال گرد چھانتا پھر رہا تھا کہ دفعتا پشت کی طرف سے ایک شخص نے آ کر اور آغوش میں لے کر اس طرح دبایا کہ ہڈی پسلی ایک ہونے لگی اور آنکھیں تک باہر نکل آئیں مگر جب پیچھے نظر کرتا ہے تو دیکھتا ہے کہ وہی محبوب ہے جس کی ملاقات کی تمنا میں برسوں گلیوں اور جنگلوں کی خاک چھان ماری ۔ اب میں پوچھتا ہوں کہ وہ محبوب اس سے کہے کہ اگر تجھ کو میرے دبانے سے تکلیف یا ناگواری ہو تو میں تجھ کو چھوڑ کر کسی اور کو جو تیرا رقیب ہے جا دباؤں ۔ صاحبو ! اس وقت یہ بجز اس کے اور کیا کہے گا کہ یہ تکلیف نہیں ، یہ تو ہزاروں راحتوں سے بڑھ کر راحت ہے ۔ گو بظاہر جسم کو تکلیف ہو گی مگر قلب کی یہ کیفیت ہو گی اور بزبان حال یہ کہے گا :

کشتگان خنجر تسلیم را ہر زماں از غیب جان دیگرست

اور یہ کہے گا :

ناخوش تو خوش بود برجان من دل فدائے یار دل رنجان من
اس بیان کے وقت حضرت والا پر ایک خاص حالت طاری تھی جس کا لطف اہل مجلس ہی اٹھا رہے تھے اور قریب قریب اہل مجلس پر گریہ طاری تھا ۔ ( احقر جامع )

پھر دوبارہ حالت جوش میں حضرت والا نے فرمایا کہ خوب ہی فرمایا :

نا خوش تو خوش بود برجان من دل فدائے یار دل رنجان من

پھر اسی معاصی کے اثر کے سلسلہ میں فرمایا کہ بعض لوگ وہ ہیں جو بظاہر خود تو اعمال صالحہ کرتے ہیں اور معاصی سے بچتے ہیں مگر اس کے ساتھ ہی ان لوگوں کے افعال غیر مشروع و معاصی میں بھی شریک رہتے ہیں جو خدا کے نافرمان ہیں ۔ محض اس خیال سے کہ یہ دنیا ہے اس میں رہتے ہوئے برادری کنبہ کو کیسے چھوڑا جا سکتا ہے اور یہ مقولہ زبان زد ہے کہ میاں دین سے دنیا تھامنا بھاری ہے اور بعض وہ ہیں کہ شریک تو نہیں ہوتے مگر ہوتے دیکھ کر ان منکرات کرنے والوں کے افعال سے نفرت بھی نہیں ہوتی انہیں شیر و شکر کی طرح ملے جلے رہتے ہیں ۔ یعنی روزانہ کھانے پینے میں ان سے کوئی پرہیز نہیں کرتے ۔ حاصل یہ ہے کہ اپنے کسی برتاؤ سے ان پر اظہار نفرت نہیں کرتے تو ایسے لوگوں کے اعتبار سے اس شبہ مذکورہ کا جواب یہ ہے کہ یہ شرکت یا سکوت خود معصیت ہے تو ان کا ابتلاء بھی معصیت کے سبب ہو گا اور یہ سوال نہ ہو سکے گا کہ غیر معاصی پر بھی مصائب آتے ہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے حدیث شریف میں امم سابقہ کا قصہ بیان فرمایا ہے کہ جبرئیل علیہ السلام کو حکم ہوا کہ فلاں بستی کو الٹ دو عرض کیا کہ اے اللہ ! فلاں شخص اس بستی میں ایسا ہے کہ اس نے کبھی آپ کی نافرمانی نہیں کی ، حق تعالی فرماتے ہیں کہ مع اس کے الٹ دو وہ بھی ان ہی میں سے ہے اس لیے کہ ہماری نافرمانی دیکھتا تھا اور کبھی اس کے تیور میں بھی بل نہ پڑتا تھا اور اس کی مثال تو دنیا میں موجود ہے جو شخص حکومت اور سلطنت کے باغیوں سے میل رکھتا ہے یا ان کو مدد دیتا ہے وہ شخص بھی باغیوں ہی میں شمار کیا جاتا ہے ہم جس کے وفادار ہیں وفاداری اسی وقت تک ہے کہ ہم اس کے دشمنوں سے نہ ملیں ورنہ ایسے شخص کو وفادار ہی نہ کہیں گے جو دشمنوں سے ملے یہ تو اجتماع ضدین ہے دونوں کو جمع کرنا چاہتے ہیں ۔ اسی کو فرماتے ہیں :
ہم خدا خواہی وہم دنیائے دوں ایں خیال ست و محال ست و جنوں

(ملفوظ 96 )نماز استسقاء سے متعلق دو واقعے

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اس راہ میں محض باتیں بناتے اور تحقیقات علمی سے کچھ کام نہیں چلتا ،
یہاں پر تو کام کرنے سے کام چلتا ہے اور حضرت حق تو بدون کیے ہوئے بہت سی رحمتیں فرماتے رہتے ہیں پس جبکہ باوجود ہماری کوتاہیوں
کہ یہ رحمت ہے تو اگر ہم پوری طرح سے اس طرف اپنی قوت اور وسعت کے موافق متوجہ ہو جائیں اور اپنی اصلاح کی فکر میں لگ جائیں ۔ گزشتہ گناہوں سے رجوع اور آئندہ کے لیے عزم اعمال صالحہ کا کر لیں تو پھر کیسے رحمت نہ ہو گی ۔ خوب فرماتے ہیں :

عاشق کہ شد کہ یار بحالش نظر نہ کرد اے خواجہ درد نیست دگرنہ طبیب ہست

سندیلہ لکھنؤ کے قریب ایک قصبہ ہے وہاں پر ایک مرتبہ بارش نہ ہوئی ۔ اس کی وجہ سے مخلوق سخت پریشان تھی ، کئی روز تک لوگوں نے
جنگل میں جا جا کر نماز استسقاء کی پڑھی مگر بارش ہی نہ ہوئی اب اس نماز میں آپ خیال کر سکتے ہیں کہ بڑے بڑے نمازی اور ملا سب ہی شریک ہوتے تھے مگر کچھ بھی نہ ہوا ۔ بالآخر وہاں کی بازاری عورتیں وہاں کے رؤسا کے پاس آئیں اور یہ کہا کہ یہ سب کچھ ہماری بد اعمالیوں اور سیہ کاریوں کا نتیجہ ہے ۔ ہماری نحوست کی بدولت اور سب بھی پریشان ہیں ، اگر ہمارے لیے آپ ایک خاص انتظام کر دیں تو ہم بھی جنگل میں جمع ہو کر اپنے افعال بد سے توبہ کریں وہ انتظام یہ کہ وہاں کوئی مرد نہ جانے پائے تا کہ بدنظری کا موقع نہ ملے ورنہ بجائے رحمت کے کہیں قہر خداوندی نازل نہ ہو ۔ غرض وہاں کے رؤسا نے اس کا معقول انتظام کر دیا وہ بازاری عورتیں سب ایک جگہ جنگل میں جمع ہو کر سجدے میں گر گئیں اور رونا شروع کیا اور عرض کیا کہ اے اللہ ! اے رحیم اے کریم ہماری بد اعمالیوں سے درگزر فرما ہم گنہگار ہیں روسیاہ ہیں ہماری نحوست کی وجہ سے آپ کی بہت سی مخلوق پریشان ہے اور جو کچھ اس حال میں حق تعالی کی جناب میں عرض کر سکیں خوب عرض کیا ، حق تعالی کے دربار میں عاجزی سے بڑھ کر کوئی چیز پسندیدہ
نہیں جنہوں نے اس واقعہ کو مجھ سے روایت کیا ، وہ یہ کہتے تھے کہ ان عورتوں نے ابھی سر نہ اٹھایا تھا کہ موسلا دھار پانی پڑنا شروع ہو گیا ، بڑے زور سے بارش ہوئی ، ایسی کہ کوئی حد نہ رہی تمام جنگل و تالاب پر ہو گئے ۔ اسی کو مولانا فرماتے ہیں :

مابروں راننگریم و قال را مادرون رابنگریم و حال را

یعنی ہم ظاہر کو اور الفاظ کو نہیں دیکھتے اس کو دیکھتے ہیں جس میں خشوع اور خضوع ہو محض چکنے چپڑے اور لمبے چوڑے الفاظ کی وہاں قدر نہیں ۔ دوسرا واقعہ موضع لوہاری میں ہوا بوجہ امساک باراں ( بارش کا رک جانا ) مسلمانوں نے نماز استسقاء کی تیاری کی ۔ وہاں کے ہندو کہنے لگے کہ فضول مسلمان اس امید میں کہ بارش ہو گی ، کوشش کر رہے ہیں امسال تو بارش ہے ہی نہیں ، مسلمانوں نے نماز استسقاء ادا
کی اور یہ دعا کہ اے اللہ ! ہم کو ان کفار کے سامنے ذلیل و خوار نہ کیجئے ، آپ کو بڑی قوت اور قدرت ہے ، آپ بڑے غفور و رحیم ہیں ،
ابھی مسلمان دعا کو ختم بھی نہ کر پائے تھے کہ باران رحمت کا نزول ہو گیا ۔ اب سنئے وہی ہندو کہتے ہیں کہ یہ مسلے ( مسلمان ) ہیں پر میشور کو بڑی ہی جلدی راجی ( راضی ) کر لیتے ہیں ۔ دیکھئے باوجود ہماری اس حالت کے کہ ہمارا کوئی کام بھی ڈھنگ کا نہیں اور ہم سراسر خطاؤں اور لغزشوں سے بھرے ہوئے ہیں مگر اس پر بھی تھوڑی سی توجہ کر لینے پر ان کی رحمت اور فضل شامل حال ہو جاتا ہے تو اعمال کی اصلاح پر کیسے رحمت سے ناامیدی اور مایوسی ہو سکتی ہے ۔ حدیث شریف میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے
ہیں :

کلکم خطاؤن و خیر الخطائین التوابون

( تم سب خطاوار ہو اور تم میں بہتر خطاوار توبہ کرنے والے ہیں )

( ملفوظ 95 ) ایک عرب بدو کا حیرت انگیز واقعہ

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک حکایت مجھ سے مولوی مجتبی حسن صاحب نے جو مولانا مرتضی حسن صاحب کے بڑے بھائی تھے ، بیان کی تھی کہ ان سے مولوی عبدالحق صاحب شیخ الدلائل نے بیان کی تھی کہ ایک بوڑھے بدوی نے مدینہ منورہ میں جو کہ
مدینہ منورہ میں روضہ شریف پر بیٹھا رہتا اور روضہ شریف کا تکا کرتا ، میں بھی اس کے پاس محبت سے جا بیٹھتا ، ایک دن مجھ سے کہا کہ تمہاری دعوت ہے ، رمضان المبارک کا مہینہ تھا ، میں نے دو عذر کیے ، ایک یہ کہ میں چاول نہ کھا سکتا تھا ، پیٹ میں پھوڑا تھا اور بدوی اکثر چاول ہی کھاتے ہیں ، دوسرے یہ کہ نہ معلوم بدوی کا کتنی دور مکان ہو تو بعد نماز مغرب کھانا کھانے جائیں گے پھر مسجد نبوی میں نماز عشاء نہ ملے گی اور قرآن شریف کی ترتیب بھی فوت ہو جائے گی اس لیے میں نے عذر کر دیا اور بدوی نے بے حد اصرار کیا ، بدوی کے اصرار پر مجبور ہوئے اور دعوت قبول کر لی ۔ بعد نماز مغرب ان کو لے چلے اور چلتے چلتے شہر سے باہر ہو گئے ، اب جنگل میں چل رہے ہیں اور غصہ میں بھرے ہوئے ہیں کہ آج عشاء کی نماز مسجد نبوی میں کسی طرح بھی نہیں مل سکتی ۔ غرض بہت دور جا کر کچھ جھونپڑیاں نمودار ہوئیں ، ان کے قریب پہنچ کر آواز دی یا ولد یا ولد شیخ کے واسطے کھچڑی پکاؤ ، ان کو بہت ناگوار ہوا کہ ابھی تو کھچڑی پکے گی پھر کھائیں گے اس کے بعد پھر اتنی دور کا سفر ہو گا مگر مجبور ہو کر بیٹھ گئے ، کھچڑی تیار ہوئی ، کھائی اس خیال سے کہ نماز تو جماعت سے عشاء کی ملے ہی گی
نہیں بہت ناگواری ہوئی ، پھر واپسی ہوئی ، بدوی پہنچانے کے لیے ساتھ ہوئے مگر بوڑھے ہونے کی وجہ سے تیز نہیں چل سکتے ، مجھ کو اور زیادہ ناگوار ہوا مگر تھوڑی دور چلنے کے بعد بدوی کو ایک اور مہمان مل گیا ، وہ عذر کر کے واپس ہو گئے میں نے غنیمت سمجھا اور جلدی جلدی کر کے مسجد نبوی میں پہنچے کہ جماعت تو کیا ملتی مگر شاید دروازہ بند نہ ہوا ہو تو مسجد کی فضیلت تو نصیب ہو جائے گی ، غرض شہر میں داخل ہو کر سیدھے مسجد نبوی پر آئے ، اندر جا کر دیکھا کہ ایک شخص مسجد نبوی میں ایک طرف بیٹھا ہوا کچھ کھا رہا ہے ۔ انہوں
نے جا کر اس شخص سے سوال کیا کہ عشاء کی نماز ہو چکی ہے تو کہتا ہے کہ ” انت مجنون ” ابھی تو مغرب پڑھی ہے افطاری کھا رہا ہوں ، ان کو حیرت ہوئی ، غور کر کے دیکھا تو واقعی مغرب کا وقت ہے اب ان کو یقین ہوا اور اس واقعہ کو ان بدوی کی کرامت سمجھے پھر رات کو
جس طرح بھی گزری گزاری اور بعد نماز فجر ان کو تلاش کیا مگر کہیں ان بدوی کا پتہ نہ چلا ۔ اب بتلائیے کہ کسی کو کیا کوئی حقیر اور ذلیل سمجھے ، خیر اسی میں ہے کہ اپنے کو ذلیل و خوار اور دوسروں کو اپنے سےافضل تصور کرتا رہے ۔ ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت وہ
بدوی ابدال ہوں گے ، فرمایا کہ جی ہاں دال کھلائی تھی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابدال ہوں گے اسی سلسلہ میں فرمایا کہ مولوی محمد قلندر صاحب جلال آبادی صاحب حضوری تھے ، روزانہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ و سلم کی زیارت مبارک سے مشرف ہوا کرتے ۔
حضرت حاجی صاحب کے ابتدائی کتابوں کے استاد بھی ہیں ، سفر مدینہ میں ان کے جمال سے جو کہ ایک لڑکا تھا غلطی ہو گئی انہوں نے اس کے ایک تھپڑ مار دیا بس حضوری بند ہو گئی ، پریشان ہو گئے ، مدینہ پہنچ کر مشائخ سے ذکر کیا ، انہوں نے کہا کہ ایک عورت ہے مجذوب اس سے امید ہے کہ گرہ کھلے گی اس مجذوب عورت کو تلاش کیا ، معلوم ہوا کہ وہ روضہ مبارک پر حاضر ہوا کرتی ہے ۔ انہوں نے ان کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ ان کو جوش آیا اور روضہ شریف کی طرف اشارہ کر کے کہا ” شف ” یعنی دیکھ انہوں نے جو دیکھا تو بیداری میں زیارت ہوئی ایسے ہی ان بدوی کا واقعہ ہے ، کسی کو ظاہری حالت سے حقیر نہ سمجھے کسی نے خوب کہا ہے:

خاکساران جہاں را بحقارت منگر تو چہ دانی کہ دریں گرد سوارے باشد

اور ایسے ہی حالات کے متعلق مولانا فرماتے ہیں :

مابروں راننگریم و قال را مادرون رابنگریم و حال را

( ملفوظ 94 )ایک عرب لڑکے کی ذہانت

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ عرب کی ذہانت تو مشہور ہے ایک ثقہ نے بیان کیا کہ ایک ترکی ایک
دکان پر سودا خریدنے گیا ، دکاندار کی عمر بالکل کم تھی ، کچھ نرخ میں اختلاف ہوا ، اتفاقا اس نے کچھ تولنے کے لیے باٹ اٹھایا وہ ترکی ذرا جھجکا اس لڑکے نے فورا اس کا گلا پکڑ لیا اور کہا کہ واللہ نصرانی ( خدا کی قسم یہ تو عیسائی ہے ) لوگ جمع ہو گئے اور پاجامہ کھول کر دیکھ لیا
تو غیر مختون تھا ، گرفتار کر کے حمیدیہ میں بھیج دیا ، اس لڑکے سے پوچھا گیا تو نے کیسے سمجھا ، اس نے کہا کہ ترک فاتح ہیں ، ہم مفتوح تو اس کو ہم سے جھجک نہیں ہو سکتی ، میں اس سے سمجھا کہ وہ بنا ہوا ترکی ہے ۔

( ملفوظ 93 ) ترکوں کے زمانہ میں حرمین میں عید کی نماز

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اسلامی ریاستوں میں پہلے عیدین کی نماز پر بڑے اہتمام ہوتے تھے ، اب تو آزادی کا ہر جگہ ایسا غلبہ ہوا ہے پہلی باتیں رہی ہی نہیں اور عید کی نماز تو صاحب مکہ معظمہ میں ہوتی ہے ، اشراق کے وقت تمام حرم شریف بھر جاتا ہے
جگہ نہیں رہتی ، شریف اور پاشا سب وقت پر آ جاتے ہیں ، امام سب کے بعد میں آتے ہی ان کے آنے کے بعد کسی کا انتظار نہیں ہوتا ۔ اب تو معلوم نہیں کیا ہوتا ہے جس زمانہ میں میں وہاں گیا اس وقت یہ صورت تھی پانچ چھ تو خطیب ہوتے تھے اس لیے کہ اگر کوئی حادثہ ہو جائے تو خطبہ قطع نہ ہو ، دوسرا فورا کھڑا ہو جائے ، جب دوسرے خطبہ میں دعا میں سلطان کا نام آتا تھا تو ایک ترک خلعت لیے امام کی پشت پر تیار رہتا تھا ، فورا امام صاحب کے کندھوں پر ڈال دیتا تھا ، ادھر تو یہ ہوا اور ادھر جھنڈی کے ذریعہ سے قلعہ میں خبر ہو گئی تو اکیس توپیں سلامی کے لیے چھوڑی جاتی تھیں اس وقت ایک خاص اثر قلب پر ہوتا تھا ، اسلامی شان معلوم ہوتی تھی ، پانچوں نمازوں کے وقت اذان کے ساتھ توپیں چلتی تھیں ، ایک اسلامی شان نظر آتی تھی ۔

( ملفوظ 92 ) خطبات الاحکام اور غیر مقلدین

ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت نے تو خطبے ہی نہایت مختصر تحریر فرمائے ہیں جس سے لوگوں پر ذرا برابر گرانی نہیں ہوتی ، فرمایا جی ہاں کوئی خطبہ سورہ مرسلت سے زیادہ نہیں ، فرمایا کہ ایک خطبہ حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب شہید رحمۃ اللہ علیہ کا بھی مختصر اور جامع ہے ۔ میں پہلے اس کو پڑھا کرتا تھا ، اب اپنے لکھے ہوئے خطبے پڑھتا ہوں ، ان میں بحمد اللہ ہر باب کے احکام موجود ہیں ، نہایت جامع اور مختصر ہیں ، اس خطبہ کے متعلق مجھ کو خیال تھا کہ غیر مقلدیں زیادہ پسند کریں گے اس لیے کہ ان میں تمام تر آیات اور احادیث ہیں مگر معلوم ہوا کہ محض اس لیے خفا ہیں کہ اردو میں خطبہ پڑھنے کی اس میں ممانعت ہے اس لیے نہیں خریدتے اور
نہ پڑھتے ہیں ، غیر مقلد بھی عجیب چیز ہیں ، بجز دو چار چیزوں کے کسی حدیث کے بھی عامل نہیں مثلا رفع یدین ( رکوع میں جاتے اور اٹھتے وقت ہاتھ اٹھانا اور پکار کر آمین کہنا ) آمین بالجہر بھلا اردو میں خطبہ پڑھنا کبھی سلف میں اس کا معمول رہا ہے کبھی حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے
پڑھا ہے صحابہ نے پڑھا ہے کسی کا تو معمول دکھائیں تو کیا ایسی حالت میں یہ اردو میں خطبہ بدعت نہیں ہو گا ، کچھ نہیں غیر مقلدی نام اسی کا ہے جو اپنے جی میں آئے وہ کریں ۔

( ملفوظ 91 )نماز اور خطبہ میں لوگوں کی راحت کا خیال رکھنا

ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت خطبہ نہایت اختصار سے پڑھا گیا ہے اور دنوں میں جمعہ کا جیسا خطبہ پڑھا جاتا ہے آج بھی اس قدر پڑھا گیا ، زیادہ وقت صرف نہیں ہوا ۔ فرمایا کہ میں نے جو مجموعہ خطب لکھا ہے اس میں کوئی خطبہ سورہ مرسلت سے بڑا نہیں اور سنت بھی یہی ہے کہ نماز لمبی ہو اور خطبہ میں اختصار ہو مگر آج کل کےامام کہیں اس کو نہ سن لیں کہ نماز لمبی ہو جیسے ایک شخص نے امام بن کر روڑکی میں جمعہ کی نماز پڑھائی تھی ، گرمی کا زمانہ تھا ، لوئیں چل رہی تھیں ، فرش تپ رہا تھا اور امام صاحب نے لمبی سورتیں شروع کر دیں ، بعد نماز لوگوں نے کہا کہ میاں یہ کیا کیا لوگ تو بہت پریشان ہوئے ، فرماتے ہیں کہ ذرا سی گرمی میں گھبرا گئے اور وہاں دوزخ میں کس طرح رہو گے ، کم بخت سب کو دوزخ ہی میں بھیجنے کو پھرتا تھا ، اللہ بچائے جہل سے جہل کی بھی کوئی حدود نہیں ۔ فرمایا ایسا ہی واقعہ کانپور کا ہے ، ایک صاحب آ گئے اور یہ کہا کہ آج جمعہ کی نماز میں پڑھاؤں گا ، غرض نماز پڑھائی ، لمبا خطبہ ، لمبی نماز ، لوگ گرمی کی وجہ سے پریشان ہو گئے حتی کہ ایک شخص کو گرمی سے قے ہو گئی ، ایک اور لطیفہ ہوا بلکہ کثیفہ کہنا چاہیے ایک
شخص نے اسی روز نماز شروع کی تھی اور اول جمعہ ہی کی نماز پڑھنے آیا تھا ، نیت توڑ کر چل دیا اور یہ کہتا ہوا کہ اسی واسطے تو میں نماز نہیں پڑھا کرتا ۔ اس جمعہ کو تو تمام شہر میں کھلبلی پڑ گئی تھی اور جن حضرت نے پڑھائی تھی صاحب سلسلہ کے بزرگ تھے ، بزرگی اور
چیز ہے فہم اور چیز ہے لمبے خطبے پڑھنے کا سبب یہ ہے کہ ذرا لوگ سمجھیں کہ بڑے کوئی عالم ہیں ۔ یہ ایک مرض ہے جس کو وہ حب جاہ کہتے ہیں ۔ فرمایا کہ نماز تو حضرت مولانا گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ پڑھاتے تھے ، ایسی ہلکی پھلکی کہ ذرہ برابر مقتدیوں پر گرانی نہ ہو حضرت تو صبح کی نماز میں ” اذالشمس ” “اذا السماء انفطرت ” سورہ بروج پڑھا کرتے تھے ، ضرورت ہے اس کی کہ لوگوں کی راحت کا خیال رکھا جائے ۔