ملفوظ 269: قطب التکوین ، قطب الارشاد اور قطب الاقطاب فرمایا ! کہ قطب التکوین کو اپنی قطبیت کا علم ضروری ہے مگر قطب الارشاد کو ضروری نہیں ـ ابدال وغیرہ بھی تکوینیات سے متعلق ہیں ـ قطب الارشاد میں تعدد ضروری نہیں قطب التکوین متعدد ہوتے ہیں مگر قطب الاقطاب تمام عالم میں ایک ہوتا ہے اس کا نام غوث ہے اہل کشف ان کو پہنچانتے ہیں قطب التکوین دائما ( ہمیشہ) اور قطب الارشاد احیانا ( کبھی کبھی ) متعدد بھی ہوتے ہیں ـ اسی سلسلہ میں فرمایا زمانہ تحریک خلافت میں خانقاہ کے پاس در افضل سے گولر کے نیچے میرے مکان کے سامنے ایک نہ ایک مجذوب رہا کرتے تھے ـ میں سمجھتا تھا ـ کہ شاید من جناب اللہ حفاظت کیلئے مقرر ہیں ایسے مجاذیب بدلتے بھی رہتے ہیں جیسے سرکاری حکام گورنمنٹ کے بدلتے رہتے ہیں
اقوال
ملفوظ 268: حضرت اور مجدد وقت
ملفوظ 268: حضرت اور مجدد وقت ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت مجدد وقت ہیں فرمایا کہ چونکہ نفی کی بھی کوئی دلیل نہیں اس لئے اس کا احتمال مجھ کو بھی ہے مگر اس سے زائد جرم نہ کرنا چاہیے محض ظن ہے اور یقینی تعین تو کسی مجدد کا بھی نہیں ہوا ( الحمداللہ حمدا کثیرا مبارکا فیہ علی ھذا الاحتمال 12جامع )
ملفوظ266: تفسیر اور تصوف سے زیادہ مناسبت
تفسیر اور تصوف سے زیادہ مناسبت فرمایا ! کہ فقہ اور حدیث سے مجھے مباسبت کم ہے اور گو تفسیر سے بھی پوری تو نہیں لیکن فقہ اور حدیث کی نسبت زائد ہے اور بحمد اللہ تصوف سے اور زائد مناسبت ہے ـ ملفوظ 267: حقوق شیخ کا آسان خلاصہ فرمایا ! کہ جب مجھ جیسا کم علم آدمی سب آسان طریقے جانتا ہے تو سمجھ لو کہ تصوف کس قدر سہل ہے چنانچہ حقوق الشیخ کا آسان خلاصہ یہ ہے کہ اس کی دل آزاری نہ ہو ـ
ملفوظ 265: حضرت اور توجہ اصطلاحی
حضرت اور توجہ اصطلاحی فرمایا ! کہ میں پہلے جب حضرت کی خدمت میں نیا نیا آیا تھا اہل طریق کی دیکھا دیکھی توجہ بھی دیا کرتا تھا ـ شاہ لطف الرسول صاحب وغیرہ توجہ میں بیٹھتے تھے اور ان پر بہت سے مخفیات منکشف بھی ہوتے تھے لیکن میں کورا ہی رہتا تھا ـ
ملفوظ 264: بزرگوں کے خطوط میں اشعار خلاف ادب
بزرگوں کے خطوط میں اشعار خلاف ادب فرمایا ! بزرگوں کو جو خطوط لکھے جائیں ان میں اشعار کا لکھنا ـ مں خلاف ادب سمجھتا ہوں ـ ہاں بطور جوش نکل جائے تو دوسری بات ہے قصدا ایسا کرنے کا حاصل یہ ہے کہ ان کو اشعار سے متاثر کر کے کام نکالنا چاہتا ہے نیز اپنی لیاقت کا اظہار ہے طالب کا کوئی فعل معلم کے ساتھ ایسا نہ ہونا چاہئے ـ
ملفوظ 262: حضرت حاجیؒ اور علوم طریق کا اظہار
حضرت حاجیؒ اور علوم طریق کا اظہار فرمایا ! کہ حضرت حاجی صاحبؒ اپنے زمانہ میں حجتہ اللہ فی الارض تھے جو علوم صدیوں سے مخفی تھے اللہ تعالی نے ان کی زبان سے ظاہر فرما دیے ان کی سب سے بڑی دولت طریق تربیت تھا کوئی آدمی ایسا نہ دیکھا کہ جس نے حضرت سے اپنی حالت بیان کی ہو اور اس کی پریشانی زائل نہ ہو گئی ہو ـ ملفوظ 263: وسوسہ کیا ہے ؟ ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت وسوسہ کیا شے ہے فرمایا کہ جو امر منکر بلا اختیار قلب پر وارد ہو جائے میں اسی کو وسوسہ سمجھتا ہوں مگر چونکہ بلا اختیار ہے اس لئے مضر نہیں ـ
ملفوظ261: عین ہونے کے معنی
ملفوظ 260: صرف ذات باری کا تصور
صرف ذات باری کا تصور ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ذات بحت ( خالص ذات حق تعالی ) کا تصور کیسے ہو سکتا ہے ـ فرمایا جب مثلا اللہ سمیع کہتے ہیں تو محمول کے اثبات کے لئے کچھ نہ کچھ تصور موضوع کا ہوتا ہی ہے بس اتنی مقدار مراقبہ کے لئے کافی ہے ـ
ملفوظ 259: تین کتابیں البیلی
تین کتابیں البیلی ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمتہ اللہ علہ فرمایا کرتے تھے کہ تین کتابیں البیلی ہیں ، قرآن شریف ، بخاری شریف ، مثنوی شریف ان کا کوئی ایسا ضابطہ نہیں جس سے یہ قابو میں آ جائیں البیلی کے یہی معنی ہیں ـ 13 رمضان المبارک 1350ھ مجلس بعد نماز جمعہ
ملفوظ 258: پکی ہانڈی کا سنورنا مشکل ہے
پکی ہانڈی کا سنورنا مشکل ہے فرمایا ! کہ اگر پہلا مربی بدعتی ہو تو اول تو اس سے نکلنا مشکل اور اگر کسی صورت سے نکل بھی جائے تو اکثر اس کا اثر نہیں جاتا ـ میں تو کہا کرتا ہوں کہ پکی ہانڈی اگر بگڑ جائے اس کا سنورنا مشکل ہے اور از سر نو پکانا آسان ولن یصلح العطار ما افسدہ الدھر ـ

You must be logged in to post a comment.