ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ آج کل شمس العلماء شمس تو ہیں مگر شمس مکسوف ہیں ۔
اقوال
( ملفوظ 359 )لوگوں کی تحقیر سے بچنا واجب ہے
ملقب بہ التخدیر عن التحقیر ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جب نیت خالص ہو اور محض حق کے واسطے کوئی کام ہوتا ہے حق تعالی اس میں برکت و امداد فرماتے ہیں ۔ مولوی رحم الہی صاحب منگوری مرحوم کا ایک عجیب واقعہ ہے یہ بات سب کو معلوم ہے کہ یہ سنت اللہ ہے کہ جہاں اللہ والے ہوتے ہیں وہاں ان کے مخالف بھی ہوتے ہیں لہذا مولوی صاحب کے پڑوس میں ان کے مخالف بھی رہتے تھے جہاں برہمن وہیں قصائی پھر مخالفین میں بھی بعض کی طبائع میں خبث ہوتا ہے ان کا جی اسی سے خوش ہوتا ہے کہ دوسروں کو تکلیف میں دیکھیں ۔ ان اہل محلہ نے یہ شرارت کی کہ مولوی صاحب کے گھر سے مسجد جانے کا ایک چوک کی شکل میں جو راستہ تھا اس میں گانے بجانے کا انتظام کیا اور ایک طوائف کو بلا کر مجلس رقص قائم کی ۔ مولوی صاحب گھر سے نماز کے لیے مسجد کو چلے تو راستہ میں یہ طوفان بے تمیزی برپا دیکھا چونکہ نماز کا وقت قریب تھا صبر کیے ہوئے مسجد پہنچ گئے بعد فراغ نماز گھر کو واپسی ہوئی ، دربارہ دیکھ کر صبر نہ ہو سکا ۔ آخر صبر اور ضبط کی بھی تو کوئی حد ہے ۔ اب مولوی صاحب نے سوچا کہ جڑ ہی کی خبر لینا چاہیے جوتا نکال کر مجمع سے پھاندتے ہوئے اور بیچ مجمع میں پہنچ کر جو جڑ اور بنا تھی اس کے سر پر جوتا بجانا شروع کر دیا مگر اہل مجلس میں سے کسی کی یہ ہمت نہیں ہوئی کہ کوئی کچھ بولتا یہ ہیبت حق ہے جو اہل اللہ کو عطاء فرمائی جاتی ہے اور یہ مولوی صاحب کا جوش اور ہمت تمام تر محض حق کے واسطے تھی اس واقعہ کے بعد جلسہ تو ختم ہو گیا اور شریر لوگوں نے اس عورت سے کہا کہ ہم روپیہ صرف کریں گے اور گواہی دیں گے تو مولوی صاحب پر دعوی کر اس نے کہا کہ روپیہ تو میرے پاس بھی بہت ہے اور گواہ ہو ہی مگر دیکھنا یہ ہے کہ جس شخص کا مقابلہ کرنے کی تیاری کا مجھ کو مشورہ دیا جا رہا ہے وہ خالص اللہ والا ہے اس لیے کہ اگر اس شخص کے قلب میں دنیا کا ذرا برابر بھی شائبہ ہوتا تو مجھ پر اس کا ہاتھ ہر گز نہ اٹھتا اس سے ثابت ہوا کہ یہ شخص محض اللہ والا ہے تو اس کا مقابلہ حقیقت میں اللہ تعالی کا مقابلہ ہے ۔ میں کہتا ہوں کہ مولوی صاحب کا تو کمال تھا ہی مگر اس عورت کا بھی معتقد ہونا پڑتا ہے ۔ پھر اس ہی پر بس نہیں کیا وہ عورت مولوی صاحب کے مکان پر پہنچی اور معافی کی درخواست کی اور یہ کہا کہ مجھ کو اس فعل سے توبہ کرا دیجئے اور کسی نیک شخص سے میرا نکاح کرا دیجئے ۔ مولوی صاحب نے توبہ کرا کر کسی بھلے آدمی سے نکاح کرا دیا ، وہ پردہ میں بیٹھ گئی اور بھلی بی بی بن گئی ۔
یہ سب حق تعالی کا فضل اور مولوی صاحب کے خلوص اور جوتیوں کی برکت تھی ۔ اگر ہر شخص خلوص سے ہمت کر کے دین کے کاموں کو انجام دے انشاء اللہ برکت ہو ، کامیابی نصیب ہو ۔ آج کل خلوص کا تو کہیں نام و نشان نہیں ، محض فلوس کی فکر ہے ۔ عجیب ہی حکایت ہے اس سے کام کرنے والوں کو سبق حاصل کرنا چاہیے ۔ اس واقعہ پر یہ تفریع بھی کیا کرتا ہوں کہ کسی کی تحقیر نہیں کرنا چاہیے بلکہ ہر شخص کے متعلق بدرجہ احتمال یہ اعتقاد رہنا چاہیے کہ ممکن ہے کہ اس میں خدا کے نزدیک کوئی بات ہم سے بہتر ہو ۔ دیکھئے اس عورت کے اس فہم و خلوص کی کس کو خبر تھی پھر مولوی صاحب کی للہیت کی برکت کے متعلق ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ برکت کا اثر بھی ہر شخص پر نہیں ہوتا ۔ دیکھئے انبیاء کی برکت ابوجہل اور ابوطالب کے لیے کارگر نہ ہوئی اور تو کس کا منہ ہے کہ ایسی غیر مستخلف برکت کا دعوی کرے ۔ پس برکت کی بھی ایک حد ہے اس کو بھی بلکہ ہر چیز کو اپنی حد پر رکھنا چاہیے ، غلو ہر چیز میں برا ہے-اس عورت کی حکایت کے مناسب ایک اور حکایت حضرت مولانا گنگوہی نے نقل فرمائی ۔ گنگوہ میں ایک بے قید درویش آیا ، شہرت ہوئی ، ایک آوارہ عورت کو بھی معلوم ہوا اس نے اپنے آپ سے کہا کہ چلو ہم بھی اللہ والے کی زیارت کر آئیں ، دونوں گئے ، مرد تو جا کر شاہ صاحب کے پاس بیٹھ گیا اور عورت بوجہ شرمندگی ایک طرف بیٹھ گئی ۔ شاہ صاحب نے پوچھا یہ کون ہے ؟ اس نے کہا کہ بازاری عورت ہے آپ کی زیارت کو آئی ہے مگر بوجہ اس پیشہ کے شرمندگی کے سبب پاس آنے سے رکتی ہے ۔ وہ شاہ صاحب کیا کہتے ہیں کہ بی بی پاس آ جاؤ ، شرمندگی کی کون سی بات ہے وہی کرتا ہے وہی کراتا ہے یہ الفاظ سن کر اس عورت کے سر سے پیر تک آگ لگ گئی اور کھڑی ہو گئی اور اس آشنا یعنی اپنے ساتھی سے کہا کہ بھڑوے تو تو اس کو بزرگ بتلاتا تھا یہ تو مسلمان بھی نہیں یہ کہہ کر وہاں سے چل دی ۔ کہتا ہوں کہ ان الفاظ سے اس حقیقت تک کسی مفتی کا ذہن تو پہنچ سکتا تھا مگر بیچاری جاہل نے کیسا سمجھا ، یہ فہم کی بات ہے اور اس میں فہم تو تھا ہی بغض فی اللہ کس درجہ تھا کہ بیٹھ نہ سکی ، خاموش نہ رہ سکی چل دی ۔
بھلا ان واقعات سے کیا کوئی کسی کی تحقیر کر سکتا ہے ؟ اور حقیر سمجھ سکتا ہے ۔ اسی سلسلہ میں فرمایا کہ میرے ایک دوست تھے قنوج میں وہ شاعر بھی تھے ان کا ماہواری رسالہ بھی نکلتا تھا ، اب انتقال ہو گیا ۔ انہوں نے لکھا تھا کہ آپ میرے نام پر ہنسیں گے میرا نام ہے بھگو خان ۔ میں نے لکھا کہ میں ہنسوں گا نہیں یہ تو ” ففروا الی اللہ ” کا ترجمہ ہے اللہ کی طرف بھاگنے والا اس پر خط آیا مسرت کا اظہار کیا ، غرض کسی کے نام پر کسی کے اعمال پر کسی کے لقب پر کسی کی ظاہری حالت پر ہر گز تحقیر نہ کرنا چاہیے مگر اتنی بھی رعایت نہ چاہیے جیسے ان شاہ صاحب نے کی کہ اس فعل معصیت کو توحید میں داخل کیا ۔ ( نعوذ باللہ منہ ) مگر اب حالت یہ ہو گئی ہے کہ جیسے ان شاہ صاحب نے اس آوارہ اور بازاری عورت کی رعایت کی گو اس کی نظر میں شاہ صاحب مسلمان بھی نہ رہے ۔ اسی طرح لوگ علماء کو مشورہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ زمانہ کے اعتبار سے مسائل میں عوام کی رعایت کرنا چاہیے مگر معلوم بھی ہے کہ ایسا کرنے سے سب سے اول ہم ہی ان کی نظروں سے گریں گے ۔ پس نتیجہ یہ ہو گا کہ تمہاری نظر سے بھی گریں گے اور دین داروں کی نظر سے بھی ۔ اب اہل حق کی نسبت کہتے ہیں کہ میاں یہ تو پرانے خرانٹ ہیں ، پرانی لکیر کے فقیر ہیں ان سے تو زمانہ شناسی کی امید نہیں ، یہ تو پک گئے اچھا صاحب ہم تو جیسے کچھ ہیں ، تم اپنے بچوں کو روشن دماغ مولوی بناؤ ، ہم خاک نشین سہی ذلیل سہی تم کو ہماری خیر خواہی کرنے کی کیا ضرورت تم اپنی فکر کرو ۔
( ملفوظ 358 )حضرت حاجی صاحب اس فن کے امام مجتہد و مجدد تھے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ سچ تو یہ ہے کہ ہمارے حضرت حاجی صاحب اس فن کے امام مجتہد و مجدد تھے اور یہ بھی حضرت ہی کی برکت تھی کہ مجھ کو حضرت کی کسی بات پر کبھی نکیر اور اعتراض نہیں ہوا ، فورا سمجھ میں آ جاتی ہے اور یہ منجانب اللہ مناسبت ہوتی ہے یہ مکتسب نہیں ۔
( ملفوظ 357 )صاحب فن کے پاس بیٹھنے سے فن سے مناسبت پیدا ہوتی ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں تو ان نوتعلیم یافتوں سے جو قابلیت کے بڑے مدعی ہیں ، کہا کرتا ہوں کہ تم چند روز کسی محقق کے پاس بیٹھو ، تب تم میں سوال کی قابلیت پیدا ہو گی اور پاس بھی اس طرح بیٹھو کہ مجلس میں بالکل مت بولو ، اس محقق کی باتیں دن کو سنا کرو اور رات کو سوچا کرو ۔ بعضے لوگوں کو اپنی قابلیت پر بڑا ناز ہوتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کو سوال کرنے کی بھی تمیز نہیں ہوتی ۔ ایک صاحب نے حضرت مولانا گنگوہی کو تنہا بیٹھے ہوئے دیکھا تو ادائے حق کے لیے کچھ گفتگو کرنا چاہی اور یہ گفتگو کی کہ حضرت وہ چھوٹی چھوٹی باتیں کون سی ہیں جن سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے ۔ حضرت نے مزاحا فرمایا کہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے انبٹہ والوں کا نکاح ٹوٹ جاتا ہو گا ، ہمارا نہیں ٹوٹتا کہنے لگے حضرت یہ ہی کفر و شرک کی باتیں حضرت نے فرمایا کہ حضرت کفر و شرک کی باتیں تو چھوٹی ہو گئیں پھر بڑی کون سی باتیں ہوں گی ، شرمندہ ہو کر خاموش ہو گئے تو حضرت نری نقل سے کام نہیں چلتا جیسے انہوں نے اہل فہم کو مسائل کی تحقیق کرتے دیکھا تو خود بھی تحقیق کا جوش اٹھا ۔ ایک جاہل مجسٹریٹ کی حکایت ہے کہ وہ مجسٹریٹ ہو گیا ، آتا جاتا کچھ تھا نہیں انہیں اب فکر ہوئی کہ فیصلے کس طرح دیا کروں گا ، فیصلے دیکھنے کے لیے ایک اور مجسٹریٹ کے اجلاس میں پہنچے وہاں جا کر دیکھا اتفاق سے ایک درخواست پیش آ گئی اس کو منظور کر لیا دوسری آئی اس کو نا منظور کر دیا بس آپ نے اپنے اجلاس میں آ کر اس طرح نقل شروع کر دی جو طاق کے سلسلہ میں درخواست آ گئی منجور اور جو جفت کے سلسلہ میں درخوست آ گئی نا منجور ۔ حضرت جس فن میں بدون شیخ یا استاد کے قدم رکھے گا یہی حالت ہو گی کہ اس کا درجہ نقال سے نہیں بڑھ سکتا ۔ ایک صاحب کی حکایت ہے کہ
ان کی بیوی گلگلے پکا رہی تھی ان کو بیوی سے کسی کام کی ضرورت تھی ، بیوی نے کہا کہ میں اس وقت اس کام میں لگی ہوئی ہوں اس سے فارغ ہو کر کر دوں گی ، کہنے لگے یہ کام میں کر دوں گا وہ بیچاری چھوڑ کر کھڑی ہو گئی میاں گلگلے پکانے پر تیار ہوئے اور کھڑے کھڑے کڑاہی میں آٹا چھوڑ دیا تمام تیل کی چھینٹیں اوپر آئیں ، بھاگے چولہے کے پاس سے ۔ دیکھ لیجئے ایک معمولی سی بات مگر چونکہ کسی اہل فن سے سیکھی نہ تھی اس کو انجام نہ دے سکے تو بھلا اور کام تو کیا کوئی انجام دے سکتا ہے ۔ خصوص جن کاموں کا تعلق ذوق اور وجدان سے ہو ۔
( ملفوظ 356 )طریق بحمد اللہ واضح ہو گیا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ الحمد للہ طریق واضح ہو گیا اب آگے توفیق عمل رہ گئی ہے ۔
( ملفوظ 355 )ذمہ دار کو صاحب بصیرت ہونا ضروری ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ذمہ دار کو صاحب بصیرت ہونے کی ضرورت ہے یہ بڑا ہی دقیق فن ہے ۔ دیکھ لیجئے گورنمنٹ اگر کسی چیز کو نافذ کرنا چاہتی ہے تو پہلے اعلان کرتی ہے ، نافذ نہیں کرتی ، اس کا چرچا ہو جاتا ہے چند روز میں سنتے سنتے طبیعت خوگر ہو جاتی ہے پھر نافذ کر دیا جاتا ہے ۔ یہ سب تدابیر ہیں جس سے انتظام کو بقا ہوتا ہے ۔
( ملفوظ 354 )قلب کو فضولیات سے خالی رکھنے کا اہتمام
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں تو اس کا خاص اہتمام رکھتا ہوں کہ قلب فضولیات سے خالی رہے کیونکہ فقیر کو تو برتن خالی رکھنا چاہیے نہ معلوم کس وقت کسی سخی کی نظر عنایت ہو جائے ۔ ایسے ہی قلب کو خالی رکھنے کی ضرورت ہے نہ معلوم کس وقت نظر رحمت ہو جائے ۔ اسی کو فرماتے ہیں :
یک چشم زدن غافل ازاں شاہ نباشی شاید کہ نگاہے کند آگاہ نباشی
( ایک پل بھر کو اس شاہ کی طرف سے غافل نہ ہو ممکن ہے کہ کسی وقت نظر عنایت ہو اور بوجہ غفلت کے تم کو خبر بھی نہ ہو تو محروم رہ جاؤ )غرضیکہ قلب کو خالی رکھنا چاہیے فضولیات سے اور معصیت سے تو خالی رکھنا ضروری ہی ہے ۔ بعض سالکین تو مباحات سے بھی خالی رکھتے ہیں مگر اس میں غلو کرنا مضرت ہے کیونکہ شیطان خالی گھر دیکھ کر اپنا تصرف کرنے لگتا ہے اس لیے اگر طاعات سے پررکھنا مشکل ہے تو مباحات نافعہ سے پررکھے مثلا دوستوں سے ملنا ، کھانے وغیرہ کا اہتمام کرنا یا کتاب دیکھ لینا خواہ وہ طاعات کی جنس سے نہ ہو تفریح ہی کی جنس سے ہو یہاں پر تفریح سے مراد تھیٹر اور سینما وغیرہ نہیں بلکہ مباحات ہیں جن کا اوپر ذکر ہو چکا ہے ۔ حاصل یہ ہے کہ وہ مباح فی الجملہ نافع ہو اور اس میں معصیت نہ ہو یہ سب تدابیر ہیں دین کی درستی کی اس ہی لیے تو یہ فن بڑا دقیق ہے اسی لیے یہاں شبہ ہو سکتا ہے کہ مباح کا دین سے کیا تعلق اسی طرح اگر خلوت میں نشاط جاتا رہے واجب ہے ہنسنا بولنا مجمع میں آ کر بیٹھ جانا صوفیاء نے جو سمجھا ہے وہ حقیقت ہے بڑے سے بڑے فلاسفروں کی تحقیق ان کے سامنے گرد ہے ، افلاطون کو کسی نے خواب میں دیکھا تھا بعض حکماء کا نام لے کر پوچھا کیا یہ حکماء ہیں جوب نفی میں دیا ۔ پھر پوچھا اچھا بایزید شہاب الدین سہروردی کو بتلاؤ ، کہا ” اولئک ھم الفلاسفہ حقا ” ( وہ یقینا حقیقی فلاسفر ہیں ۔ 12 )
میں ایک مثال بیان کرتا ہوں جو فی نفسہ تو مباحات کے درجہ میں ہے لیکن بعض اوقات وجوب کے درجہ میں ہو جاتا ہے ۔ مثلا بیوی کے ساتھ ہنسنا ، بولنا کہ بیوی سے ہنسنے بولنے میں اجنبیہ کی طرف میلان نہیں ہوتا تو یہ کتنی بڑی مصلحت ہے ۔ نواب ڈھاکہ سے ایک درویش کہہ گئے تھے کہ بیوی کے ساتھ مشغول رہنے میں حق تعالی سے غفلت ہوتی ہے انہوں نے مجھ سے پوچھا میں نے کہا جتنی زیادہ محبت ہو گی بیوی سے اتنا ہی اجر اور ثواب و قرب حق ملتا ہے ۔ یہ ہی شریعت کی خوبی ہے اگر شریعت نہ بتلاتی اور طبیعت سلیم ہوتی اس کو ہی تجویز کرتے مگر باوجود تعلیم شریعت کے فن کے جاننے والے کی اب بھی ضرورت ہے ۔ مثلا طبیب کے پاس جا کر کہا جائے کہ یہ مصالحہ ہے وہ کہتا ہے کہ دھنیا اور اتنا بڑھا لیا جائے ۔
( ملفوظ 353 )مفرحات مقرحات نہ بن جائیں
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اگر آپ طبیب ہوتے تو آپ کے قول پر عمل کر لیتا اور اگر اب بدون طبیب کے مشورہ کے مفرحات استعمال کروں تو وہ مقرحات ہو جائیں ۔ بڑی راحت اسی میں ہے کہ اپنے سے زیادہ جاننے والے سے حالت بیان کر دی اور جو اس نے تدبیر بتلا دی اس پر عمل کر لیا ، آگے سب گڑبڑ ہے ۔ یہ تو فرض ہے مرید کا باقی شیخ میں بھی تین چیزوں کی ضرورت ہے ۔ دین انبیاء کا سا ہو تدبیر طبیب کی سی ہو ، سیاست ملوک کی سی ۔
کذا فی رسالۃ الشیخ محی الدین ابن العربی
( ملفوظ 352 )غیر اہل فن کا قیل و قال
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں غیر اہل فن سے قیل و قال کو پسند نہیں کرتا ۔ غیر اہل فن کے دخل دینے سے تکدر ہوتا ہے ۔ اہل فن کے سامنے غیر اہل فن کا قیل و قال کرنا دوسرے کا وقت ضائع کرنا ہے ۔
( ملفوظ 351 )تصنیف کثرت الازواج لصاحب المعراج
فرمایا کہ آج کل میں ایک رسالہ لکھ رہا ہوں جس کا نام کثرت الازواج لصاحب المعراج ہے اس میں چھوٹی چھوٹی عبارتوں میں بڑے بڑے اشکال کا حل کر دیا گیا ہے ۔ طالب علموں کے نہایت کام کی چیز ہے مگر مشکل یہ ہے کہ آج کل لوگ ان مضامین کو پسند کرتے ہیں کہ جن میں نئے طرز کے الفاظ ہوں اور ناول کا سا طرز اور رنگ ہو ۔

You must be logged in to post a comment.